عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — ستمبر 23، 2014 10:27 صبح
شیخ صاحب کہ پندگو کو میں
جبہ سائی کے گر سکهاوں کیا --
عظیم — ستمبر 23، 2014 10:30 صبح
کیا یار ایک الف نے دماغ کها لیا - عاطف بهائی بتاو بهی ، ٹهیک ہے ؟
عظیم — ستمبر 23، 2014 10:37 صبح
بابا مشق -
سید عاطف علی — ستمبر 23، 2014 10:47 صبح
خانقاہوں میں شیخ و ناصح کو
جبہ سائی کے گر سکهاؤں کیا
عظیم — ستمبر 23، 2014 10:51 صبح
شیخ و صاحب کو پیر و مرشد کو
جبہ سائی کے گر سکهاوں کیا
عظیم — ستمبر 23، 2014 10:53 صبح
عاطف بهائی اسی لئے پوچها تها ایس 5 خریدا ؟ ٹیکنالوجی میں ترقی پسند ہے تبهی تو و پر ہمزہ ڈال سکتے ہیں !!
سید عاطف علی — ستمبر 23، 2014 11:24 صبح
شیخ و صاحب کو پیر و مرشد کو
جبہ سائی کے گر سکهاوں کیا
شیخ و صاحب کو۔۔ یا ۔۔شیخ صاحب کو ؟
عظیم — ستمبر 23، 2014 11:28 صبح
شیخ و صاحب کو۔۔ یا ۔۔شیخ صاحب کو ؟

آپ کیا سمجهے ؟
سید عاطف علی — ستمبر 23، 2014 11:32 صبح
شیخ صاحب سمجھا
عظیم — ستمبر 24، 2014 8:35 صبح
سچ تو یہ ہے جو بولتا ہوں میں
راز سینے کے کهولتا ہوں میں
کیا کوئی یاد آنے والا ہے
اپنے جذبوں کو تولتا ہوں میں
تم جو راضی ہو مجھ کو رسوا کر
میں بهی خوش ہوں کہ ڈولتا ہوں میں
ہر قدم پر یہ میری ناکامی
کیا کہ خود کو ٹٹولتا ہوں میں
دور اے کم سخن رہو مجھ سے
غم کا لاوا ہوں، کهولتا ہوں میں
صاحب ایسا ہوا ہوں چپ آخر
سب سے زیادہ ہی بولتا ہوں میں
عظیم — ستمبر 24، 2014 8:36 صبح
بابا کسی اچهے سے حکیم کو جانتے ہیں آپ ؟ واقعی پاگل ہو چکا -
عظیم — ستمبر 24، 2014 9:27 صبح
دل غم ہجر کے ستائے کا
یہ زمانہ کیا آزمائے گا
اشک آنکهوں میں جب نہیں آتا
میں سمجهتا ہوں خون آئے گا
دیکهئے ہم بهی کب کو روئیں اور
وہ بهی کب تک ہمیں رلائے گا
آتے آتے قرار آتا ہے
آتے آتے سکون آئے گا
یہ مرا غم نہ جانے اب مجھ کو
کیسی خوشیوں کے دن دکهائے گا
ہنس رہا ہوں یہ سوچ کر صاحب
اب یہ پگلا بهی مسکرائے گا
عظیم — ستمبر 24، 2014 9:38 صبح
بابا آپ نے حکیم صاحب کا تو نہیں بتایا ( ابهی تک ) مگر مجهے ان کا پیغام مل گیا -
آتے آتے قرار آتا ہے
آتے آتے سکون آئے گا !
الف عین — ستمبر 25، 2014 2:37 صبح
یہ تو اچھی کہی ہے
مطلع سمجھ میں نہیں آٰیا۔ کیا بطور ک درست تو ہے، اچھا نہیں لگتا
دیکهئے ہم بهی کب کو روئیں اور
وہ بهی کب تک ہمیں رلائے گا
کب کو؟ یوں بہتر ہے
دیکهئے ہم بهی کب تلک روئیں
وہ بهی کب تک ہمیں رلائے گا
عظیم — ستمبر 25، 2014 9:12 صبح
عاشقوں سا کسے بیاں ہونا
ان زمینوں کا آسماں ہونا
ہم کہ تشریح کیا کریں غم کی
اب تو لازم ہے ترجماں ہونا
شاعری کیا بلا ہے کیا جانے
اک حقیقت کا داستاں ہونا
وائے اس لامکان کا جهگڑا
اس پہ اپنا بهی اک مکاں ہونا
میرا جلنا کوئی تو دیکهو آج
اور خلوت دهواں دهواں ہونا
کیا کسی داد رس کو ڈهونڈیں میں
کس کے بس میں ہے مہرباں ہونا
ہم دکهائیں گے تم کو آئینہ
ہم نے دیکها ہے سب نہاں ہونا
اے مرے دل کے چین آ جاؤ
میں بهی دیکهوں ترا یہاں ہونا
یہ تسلسل یہ میری بے تابی
ایک ذرے کا کہکشاں ہونا
دیکھ رکها ہوا ہے صاحب ہم
اپنی جانوں کا بهی زیاں ہونا
عظیم — ستمبر 25، 2014 9:14 صبح
بابا سب ہو جاتا ہے بس اب صبر نہیں ہوتا - یار
سید عاطف علی — ستمبر 25، 2014 10:27 صبح
عاشقوں سا کسے بیاں ہونا
ان زمینوں کا آسماں ہونا
ہم کہ تشریح کیا کریں غم کی
اب تو لازم ہے ترجماں ہونا
پہلے میں انداز بیان اور مضمون موافق نہیں لگ رہے۔
دوسرے میں "کہ" کی وجہ سے انداز کمزور ہو رہا ہے۔
شاعری کیا بلا کیا جانیں ہم
اک حقیقت کا داستاں ہونا
دوسرا مصرع بہت اچھا ہے ۔ پہلا اس کے زیادہ مطابق ہونا جائے تو شعر بہت اچھا ہو جائے گا۔
ہائے یہ لامکان کا جهگڑا
اس پہ اپنا بهی اک مکاں ہونا
شعر جاندار نہیں ۔
میرا جلنا کوئی تو دیکهو آج
اور خلوت دهواں دهواں ہونا
خلوتوں میں دهواں دهواں ہونا۔دوسرا مصرع کمزور تھا۔
کیا کسی داد رس کو ڈهونڈیں ہم
کس کے بس میں ہے مہرباں ہونا
ہم دکهائیں گے آئینہ تم کو
ہم نے دیکها ہے سب نہاں ہونا
اے مرے دل کے چین آ جاو
ہم بهی دیکهیں ترا یہاں ہونا
زیادو واضح نہیں ۔ شتر گر بگیی بھی ہے۔
یہ تسلسل یہ میری بے تابی
ایک ذرے کا کہکشاں ہونا
بہت اچھا شعر ہے ۔
اور مقطع اچھا ہے مگر انداز زیادو فٹ نہیں ۔
اوربابا
الف عینکی حتمی رائے کا انتظار کریں۔
عظیم — ستمبر 25، 2014 10:41 صبح
پہلے میں انداز بیان اور مضمون موافق نہیں لگ رہے۔
دوسرے میں "کہ" کی وجہ سے انداز کمزور ہو رہا ہے۔
دوسرا مصرع بہت اچھا ہے ۔ پہلا اس کے زیادہ مطابق ہونا جائے تو شعر بہت اچھا ہو جائے گا۔
شعر جاندار نہیں ۔
خلوتوں میں دهواں دهواں ہونا۔دوسرا مصرع کمزور تھا۔
زیادو واضح نہیں ۔ شتر گر بگیی بھی ہے۔
بہت اچھا شعر ہے ۔
اور مقطع اچھا ہے مگر انداز زیادو فٹ نہیں ۔
اوربابا
الف عینکی حتمی رائے کا انتظار کریں۔

یہ چیز میرے عزیز -
بابا کا انتظار تو ہمیشہ سے رہا اور رہے گا انشاء اللہ -
عظیم — ستمبر 25، 2014 11:13 صبح
جیتے جی آپ کو بلاتے ہیں
مر کے بهی ہم سے یاد آتے ہیں ؟
یہ ضروری نہیں کہ تم آؤ
ہاں مگر تم کو ہم بلاتے ہیں
دیکهو ایسا بهی کیا تغافل اب
تیری صورت کو دیکھ پاتے ہیں
یہ بهی کیا کم ہے محفلوں میں ہم
اپنی خلوت سے اٹھ کے آتے ہیں
جس طرح تم ستا رہے ہو نا
اس طرح لوگ کب ستاتے ہیں
آ بهی جاؤ کہ آ بهی جاؤ اب
رات دن ہم تمہیں بلاتے ہیں
یوں بهی کرتے ہیں دشمنی یارو
یوں بهی کیا دوستی نبهاتے ہیں
اس کو تک بندی جانئے بابا
خود کو ایسے ہی آزماتے ہیں
عظیم — ستمبر 25، 2014 11:24 صبح
بابا غلطی سے تبدیل کی ہوئی شکل ارسال ہوگئی عاطف بهائی کی رائے کے بعد - معاف کر دیجئے گا -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-99