علامہ اقبال کی شہرہء آفاق نظم شمع اور شاعر کے پہلے حصے شاعر کا منظوم ترجمہ

سیما علی — مارچ 20، 2021 3:29 شام
جزاک اللہ جنابِ عالی۔ پسندیدگی پر شکریہ قبول کیجیے
بھیا ہمارا شمار اپنی مریدنئ خاص میں کر لیجے
ماشاء اللّہ بھلا ہم اتنے لائق کہاں کہ تعریف کا صحیح حق ادا کر سکیں !!!!!
بہت ساری دعائیں جیتے رہیے :):):):):)
محمد عبدالرؤوف — مارچ 20، 2021 3:35 شام
جناب الف عین صاحب استاد محترم اور جناب محمد وارث صاحب
اب ملاحظہ کیجیے اور اپنی قیمتی آراء سے مطلع فرمائیے۔ وارث صاحب کے مصرع نے چار چاند لگا دییے ہیں۔
اپنے ویراں گھر کی جلتی شمع سے میں نے کہا
تابداری سب تری منت کشِ پروانہ ہے
میں، کہ صحرا میں کھِلا ہو پھول کوئی تابدار
جس کی قسمت میں نہ محفل اور نہ ہی کاشانہ ہے
مدتوں تیری طرح میں بھی جلا، پر یہ بتا!
میری لو پر آنے والا بھی کوئی پروانہ ہے؟
میری آہیں اِس جہاں میں جلوے پیدا کرگئیں
لیکن اِس محفل میں تنہا بس دلِ دیوانہ ہے
لی کہاں سے آتشِ دِل سوز جو ایسے جلے
بے حقیقت ایک پروانے کو موسیٰ کرچلے
ماشاءاللہ، ماشاءاللہ
خلیل بھائی مزا آ گیا، بہت خوب
زوجہ اظہر — مارچ 20، 2021 4:12 شام
یقینا اس طرح کی لڑیوں سے مجھ جیسے طالبعلموں کو عاجزی و انکساری کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے
شکریہ محمد خلیل الرحمٰن

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%DB%81%D8%B1%DB%81%D8%A1-%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%B4%D9%85%D8%B9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%AD%D8%B5%DB%92-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%88%D9%85-%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81.51410/page-2