راقم صاحب میری دانست میں یہ آزاد نظم سے قریب ہے ،
(معدودے چند اصلاحات کے بعد، جوسرخ روشنائی سے واضح ہیں )
ارکان =فاعلن مفاعیلن (بحر ہزج مثمن اشتر۔بشکریہ وارث صاحب)
سائنس دان کہتے ہیں، --- ( یہاں سائنس کے وزن کا معاملہ ہے ، سانس دان کا وزن آرہا ہے جو غلط ہے ، اسے ’’ علم والے کہتے ہیں ‘‘ سے بدل دیجے )
ایک جیسے قطبوں میں کچھ کشش نہیں ہوتی، ----- ( قطبوں بالضمہ غلط العوام ہے قُطب کی جمع اقطاب ہے ،اس سے گریز بہتر ہے، )
اس لیے تو ہم بھی اب،
ہر جفاکے بدلے میں ،
ہم وفا ہی کرتے ہیں، ------------ ( ہم کی جگہ ’’بس ‘‘ کرنے سے ہم کی تکرار سے جان چھڑائی جاسکتی ہے )
سائنس دان کہتے ہیں، ---- ( یہاں بھی سائنس کے وزن کا معاملہ ہے ، سانس دان کا وزن آرہا ہے جو غلط ہے ، اسے بھی’’ علم والے کہتے ہیں ‘‘ سے بدل دیجے )
معکوس جب قطب ہوں گے، ------------- ( لفظ آگے پیچھے کر کے ’’قطب ہوں گے جب معکوس ‘‘ کیا جاسکتا ہے ، جووزن میں ہے ۔ قطب در دکے وزن پر ہے )
ان میں اک کشش ہو گی،
اس لیے تو ہم نے بھی،
بدل ڈالی روش اپنی، ------------ ( ’’ چال ہی بدل ڈالی ‘‘ --یا-- ’’ طرز ہی بدل ڈالی ‘‘ کرکے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے )
وہ قریب آتے ہیں،
ہم دور بھاگ جاتے ہیں، -------------- ( ’’دور بھاگتے ہیںہم ‘‘-- کردیا جائے )
اور جب تکبر سے دور ہوتے ہیں ہم سے،
پھر اس کشش کو ہم برقرار رکھنے کو، ---------------- ( ’’ اِس ‘‘ کو ’’ اِسی ‘‘ سے بدل دیا جائے )
قریب ان کے جاتے ہیں،----------------( ’’ قریب ‘‘ کو ’’پاس “ سے بدل دیا جائے )
شاید اس کشش کا ہی ، نام اپنے لوگوں نے،
رکھ لیا محبت ہے
----------------------
( لیجے راقم صاحب، اب یہ ہوگئی آزاد نظم ، اب اس پر نثری نظم کا دشنامِ نامی بھی نہ رہا۔)

