غزل اصلاح کی خاطر پیشِ خدمت ہے

La Alma — فروری 27، 2017 7:34 صبح
گلچیں پھول چننے والے کو کہتے ہیں باغبان کو نہیں۔
میرے ناقص علم کے مطابق دونوں کو کہتے ہیں . پھول توڑنے والے کو بھی اور باغبان کو بھی .
لغت دیکھیں .
امان زرگر — فروری 27، 2017 9:42 صبح
مراد یہ ہے کہ تھوڑا دقیق ہے۔ گلچیں عاشق ہے،گل محبوب، بہار کا موسم خزاں بداماں ہے یعنی رشکِ خزاں ہے۔ عاشق کی خستگی کا حال موسم کو لکھنا ہے یعنی گلہ تقدیر سے ہے۔
خزاں بداماں محلِ نظر ہے۔ رشکِ خزاں کہنا ہی بہتر ہوتا مگر بحر اس کی اجازت نہیں دیتی۔
میں ذاتی طور پر ریحان بھائی سے متفق ہوں. اگرچہ لغت میں باغبان بھی لکھا ہے.
سر الف عین
محترمہ La Alma
امان زرگر — فروری 27، 2017 9:50 صبح
موسمِ گل خزاں بداماں سے
حالِ گلچیں کی خستگی لکھنا
اس کو اس طرح کر دیں اگر
موسمِ گل خزاں بداماں سے
دست گلچیں کی خستگی لکھنا
سر محمد ریحان قریشی
محترمہ La Alma
سر الف عین
ذرا دیکھئے گا
امان زرگر — فروری 27، 2017 10:12 صبح
یہ شعر سمجھ میں ب ھی نہیں آیا
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگِ جاں ذوقِ تازگی لکھنا
اور ’روگِ جاں‘ بہر حال غلط ہے کہ روگ سنسکرت لفظ ہے، اس کے ساتھ اضافت نہیں لگ سکتی۔
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ دل کے دشت میں نمو پانے کے لئے بس غم ہی ہیں۔ تازگی کا ذوق ایک روگ ثابت ہوا یا ہو گا۔
کیا اس طرح روگ قابلِ قبول ہو گا؟
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگ ہے ذوقِ تازگی لکھنا
امان زرگر — فروری 27، 2017 10:16 صبح
چارہ سازوں سے بس روا نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا
۔۔ یہاں مراد یہ ہے نا کہ چارہ سوازوں کو اتنا بھی گوارا نہ ہوا، لیکن گوارا کی جگہ جو روا لکھا گیا ہے، تو ’روانہ‘ پڑھا اور سنا جاتا ہے“ بمعنی چلا گیا!! میرے خیال میں
چارہ سازوں سے اتنا بھی نہ ہوا
سے بات واضح اور بہتر ہو جاتی ہے۔
حکم کی تعمیل کر دی
چارہ سازوں سے اتنا بھی نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا​
امان زرگر — فروری 27، 2017 10:50 صبح
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا
یا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
لَبِ لَعلِیں کی تشنگی لکھنا
یا
بزمِ رنداں میں ساقیا کیوں ہے
لَبِ لَعلیں کی تشنگی لکھنا
یا
بزمِ رنداں میں ساقیا کیوں ہے
جام و ساغر کی تشنگی لکھنا
یا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
کام و لَعلِیں کی تشنگی لکھنا
کام بمعنی​
فن و تفریح میں:
اور​
لَعلِیں بمعنی سرخ ہونٹ
لعل بمعنی
٢ - [ کنایہ ] معشوق کے ہونٹ۔
عربی اسم 'لعل' کے ساتھ 'ین' بطور لاحقۂ صفت و نسبت لگانے سے(اگر یہ اساتذہ قبول کریں تب)

سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
محترمہ La Alma
سر راحیل فاروق
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:06 صبح
آپ احباب اور اساتذہ کرام کی آراء کی روشنی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں مکمل غزل کی شکل میں پیش خدمت ہیں۔
قصۂ درد بھی کبھی لکھنا
اپنی عادت رہی خوشی لکھنا
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگ ہے ذوقِ تازگی لکھنا
چارہ سازوں سے اتنا بھی نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
کام و لَعلِیں کی تشنگی لکھنا
یہ جو حالت خراب ہے اپنی
تم سبب اس کا دلبری لکھنا
موسمِ گل خزاں بداماں سے
دستِ گلچیں کی خستگی لکھنا
جن کی خاطر اجاڑ دی ہستی
نام ان کا اے زندگی لکھنا
سر الف عین
سر راحیل فاروق
سر محمد ریحان قریشی
محترمہ La Alma
سر کاشف اسرار احمد
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 11:14 صبح
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ دل کے دشت میں نمو پانے کے لئے بس غم ہی ہیں۔ تازگی کا ذوق ایک روگ ثابت ہوا یا ہو گا۔
کیا اس طرح روگ قابلِ قبول ہو گا؟
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگ ہے ذوقِ تازگی لکھنا
حیف بر شوقِ تازگی لکھنا
لکھنا کی جگہ لکھیے کا محل ہے۔
بزمِ رنداں بروئے ساقی یوں
اس مصرعے کا مطلب سمجھا دیں گے؟ بزمِ رنداں ساقی کے چہرے پر کیوں اور کیونکر لکھے؟
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:22 صبح
حیف بر شوقِ تازگی لکھنا
کیا یہ متعلقہ مصرع کے حوالے سے تجویز ہے؟
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 11:23 صبح
کیا یہ متعلقہ مصرع کے حوالے سے تجویز ہے؟
جی۔
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:24 صبح
بزمِ رنداں بروئے ساقی یوں
اس مصرعے کا مطلب سمجھا دیں گے؟ بزمِ رنداں ساقی کے چہرے پر کیوں اور کیونکر لکھے؟
اب دیکھیں ذرا
بزمِ رنداں میں ساقیا کیوں ہے
کام و لَعلِیں کی تشنگی لکھنا​
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 11:27 صبح
اب دیکھیں ذرا
بزمِ رنداں میں ساقیا کیوں ہے
کام و لَعلِیں کی تشنگی لکھنا​
یعنی ساقی سے گلہ ہے کہ بزمِ رنداں میں شراب اور لبِ لعلیں کی کمی کیوں ہے؟
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:27 صبح
کیا ہی خوب ہے
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
حیف بر شوقِ تازگی لکھنا
لکھئے کے محل کے حوالہ سے اتنا خوبصورت اور بجا مصرع ہونے کی مناسبت سے اساتذہ سے رعایت طلب کر لیں گے​
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:31 صبح
یعنی ساقی سے گلہ ہے کہ بزمِ رنداں میں شراب اور لبِ لعلیں کی کمی کیوں ہے؟
آپ نے بھی درست کہا لیکن ساقی سے یہ بھی گلہ ہو سکتا ہے کہ بزمِ رندان میں فن یعنی موسیقی اور ہونٹ تشنہ کیوں ہیں؟
امان زرگر — فروری 27، 2017 11:39 صبح
بزمِ رنداں بروئے ساقی یوں
اس مصرعے کا مطلب سمجھا دیں گے؟ بزمِ رنداں ساقی کے چہرے پر کیوں اور کیونکر لکھے؟
"بروئے ساقی" سے مراد "ساقی کی موجودگی" یا "ساقی کے سامنے" لیا ہے۔
محمد ریحان قریشی — فروری 27، 2017 11:49 صبح
آپ نے بھی درست کہا لیکن ساقی سے یہ بھی گلہ ہے کہ بزمِ رندان میں فن یعنی موسیقی اور ہونٹ تشنہ کیوں ہیں؟
کام بمعنی فن سنسکرت سے ماخوذ ہے اس لیے فارسی حرفِ عطف و کا استعمال اس کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔
لکھنا سے مراد آپ بتانا لے رہے ہیں قاری کے لیے مطلب تک رسائی بہت مشکل ہوگی۔
"بروئے ساقی" سے مراد "ساقی کی موجودگی" یا "ساقی کے سامنے" لیا ہے۔
بہ پیشِ ساقی بہتر رہے گا۔
La Alma — فروری 27، 2017 11:58 صبح
آپ احباب اور اساتذہ کرام کی آراء کی روشنی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں مکمل غزل کی شکل میں پیش خدمت ہیں۔
قصۂ درد بھی کبھی لکھنا
اپنی عادت رہی خوشی لکھنا
دشتِ دل میں پئے نمو غم ہیں
روگ ہے ذوقِ تازگی لکھنا
چارہ سازوں سے اتنا بھی نہ ہوا
اک تسلی کا حرف ہی لکھنا
بزمِ رنداں، بروئے ساقی یوں
کام و لَعلِیں کی تشنگی لکھنا
یہ جو حالت خراب ہے اپنی
تم سبب اس کا دلبری لکھنا
موسمِ گل خزاں بداماں سے
دستِ گلچیں کی خستگی لکھنا
جن کی خاطر اجاڑ دی ہستی
نام ان کا اے زندگی لکھنا
مجھے تو یہ اشعار کم اور " بوجھو تو جانیں " والا کھیل زیادہ لگ رہا ہے .
:)
موسمِ گل خزاں بداماں سے
دستِ گلچیں کی خستگی لکھنا
دست ِ گلچیں کی خستگی سے کیا مراد ہے ؟ کیا ہاتھ جھڑنے لگے تھے ؟ یا ان کی محرومی کا تذکره ہے کہ پھول چننے سے محروم ہو گئے ہیں ؟
ویسے اگر آپ ایک ہی بار سب اشعار کا نثری ترجمہ عنایت کر دیں تو آپ کا مسئلہ جلد حل ہونے کی توقع ہے .:)
امان زرگر — فروری 27، 2017 12:00 شام
کام بمعنی فن سنسکرت سے ماخوذ ہے اس لیے فارسی حرفِ عطف و کا استعمال اس کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔
لکھنا سے مراد آپ بتانا لے رہے ہیں قاری کے لیے مطلب تک رسائی بہت مشکل ہوگی۔
پھر تو جو مفہوم آپ نے بیان کیا وہ ہی بر محل ہے۔
یعنی ساقی سے گلہ ہے کہ بزمِ رنداں میں شراب اور لبِ لعلیں کی کمی کیوں ہے؟
امان زرگر — فروری 27، 2017 12:06 شام
دست ِ گلچیں کی ہستگی سے کیا مراد ہے ؟ کیا ہاتھ جھڑنے لگے تھے ؟ یا ان کی محرومی کا تذکره ہے کہ پھول چننے سے محروم ہو گئے ہیں ؟
دست گلچیں
( دَسْت گُلْچِیں )
{ دَس + تے + گُل + چِیں }

( فارسی )​
اسم نکرہ
١ - باغبان، پھول توڑنے والا۔
امان زرگر — فروری 27، 2017 12:07 شام
مجھے تو یہ اشعار کم اور " بوجھو تو جانیں " والا کھیل زیادہ لگ رہا ہے .
آپ کی دلچسپی قابلِ قدر ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A7%D8%B7%D8%B1-%D9%BE%DB%8C%D8%B4%D9%90-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%DB%81%DB%92.95047/page-2