میرے ناقص علم کے مطابق دونوں کو کہتے ہیں . پھول توڑنے والے کو بھی اور باغبان کو بھی .
لغت دیکھیں .
میرے ناقص علم کے مطابق دونوں کو کہتے ہیں . پھول توڑنے والے کو بھی اور باغبان کو بھی .
ذرا دیکھئے گا
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ دل کے دشت میں نمو پانے کے لئے بس غم ہی ہیں۔ تازگی کا ذوق ایک روگ ثابت ہوا یا ہو گا۔
حیف بر شوقِ تازگی لکھنا
کیا یہ متعلقہ مصرع کے حوالے سے تجویز ہے؟
یعنی ساقی سے گلہ ہے کہ بزمِ رنداں میں شراب اور لبِ لعلیں کی کمی کیوں ہے؟
کیا ہی خوب ہے
آپ نے بھی درست کہا لیکن ساقی سے یہ بھی گلہ ہو سکتا ہے کہ بزمِ رندان میں فن یعنی موسیقی اور ہونٹ تشنہ کیوں ہیں؟
"بروئے ساقی" سے مراد "ساقی کی موجودگی" یا "ساقی کے سامنے" لیا ہے۔
کام بمعنی فن سنسکرت سے ماخوذ ہے اس لیے فارسی حرفِ عطف و کا استعمال اس کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔
بہ پیشِ ساقی بہتر رہے گا۔
مجھے تو یہ اشعار کم اور " بوجھو تو جانیں " والا کھیل زیادہ لگ رہا ہے .
دست ِ گلچیں کی خستگی سے کیا مراد ہے ؟ کیا ہاتھ جھڑنے لگے تھے ؟ یا ان کی محرومی کا تذکره ہے کہ پھول چننے سے محروم ہو گئے ہیں ؟
آپ کی دلچسپی قابلِ قدر ہے۔