غزل اور اس کی بحر

محمد وارث — فروری 21، 2009 3:37 شام
صحیح تقطیع ہے نعمان۔
شعر میں صوت کو آپ صورت لکھ گئے ہیں لیکن تقطیع میں صحیح ہے :)
ایم اے راجا — فروری 22، 2009 7:48 صبح
محبت ہو گئی جن کو وہ دیوا نے کہاں جائیں
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
محمد رفیع مرحوم کی آواز میں گائی گئی اس خوبصورت غزل کا شاعر کون ہے اور بحر کیا ہے؟
محمد نعمان — فروری 22، 2009 8:11 صبح
صحیح تقطیع ہے نعمان۔
شعر میں صوت کو آپ صورت لکھ گئے ہیں لیکن تقطیع میں صحیح ہے :)

جی وارث بھائی اوپر غزل میں بھی صورت لکھا تھا مگر جب تقطیع کرنے لگا تو غلطی کا پتہ چلا اوپر غزل میں تو درست کر دیا مگر پیغام میں نہ کر سکا۔۔۔ابھی آپ کی نشان دہی پر کر دیا ہے۔۔۔
فاتح — فروری 22، 2009 9:14 صبح
محبت ہو گئی جن کو وہ دیوا نے کہاں جائیں
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
محمد رفیع مرحوم کی آواز میں گائی گئی اس خوبصورت غزل کا شاعر کون ہے اور بحر کیا ہے؟


شاعر: شکیل بدایونی
بحر: ہزج مثمن سالم

تفصیل و تقطیع آپ کے ذمے۔
محمد نعمان — فروری 22، 2009 10:33 صبح
محبت ہو گئی جن کو وہ دیوا نے کہاں جائیں
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
محمد رفیع مرحوم کی آواز میں گائی گئی اس خوبصورت غزل کا شاعر کون ہے اور بحر کیا ہے؟

فاتح بھائی نے بحر بتا دی کہ ہزج مثمن سالم ہے۔۔۔۔اس کی تفصیل وارث بھائی اور استاد محترم اعجاز صاحب نے بتائی تھی اس دھاگے پر۔
م حب بت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
گ ئی جن کو ِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
و دی وانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
کہا جا ئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
ب ری دن یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
میں آ خر دل ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
کو سم جا نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
کہا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
مختصر یہ کہ اس غزل کی بحر ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
یا
2221 2221 2221 2221

اوپر اقتباس اسی دھاگے میں استاد محترم اعجاز صاحب کے پیغام سے لیا ہے۔۔۔
فاتح — فروری 22، 2009 10:50 صبح
فاتح بھائی نے بحر بتا دی کہ ہزج مثمن سالم ہے۔۔۔۔اس کی تفصیل وارث بھائی اور استاد محترم اعجاز صاحب نے بتائی تھی اس دھاگے پر۔
م حب بت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
گ ئی جن کو ِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
وہ دی وا نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
ک ہا جا ئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
ب ری دن یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
میں آ خر دل ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
کو سم جا نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
ک ہا جا ئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعیلن
مختصر یہ کہ اس غزل کی بحر ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
یا
1222 1222 1222 1222

اوپر اقتباس اسی دھاگے میں استاد محترم اعجاز صاحب کے پیغام سے لیا ہے۔۔۔

یوں‌تو میں بائنری عروض کے معاملے میں بالکل ہی پیدل ہوں لیکن کیا مفاعیلن کے وزن کے لیے 1222 کی بجائے 2221 نہیں آنا چاہیے تھا؟
دوسری بات یہ کہ تقطیع میں شعر کے مکتوبی حروف حذف کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاً
وہ دی وا نے کی بجائے وُ دی وانے اور ک ہا جا ئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی بجائے کَہا جائے لکھیں گے۔ باقی ارکان کی تقطیع کے حروف آپ خود درست کیجیے۔
محمد نعمان — فروری 22، 2009 4:39 شام
یوں‌تو میں بائنری عروض کے معاملے میں بالکل ہی پیدل ہوں لیکن کیا مفاعیلن کے وزن کے لیے 1222 کی بجائے 2221 نہیں آنا چاہیے تھا؟
دوسری بات یہ کہ تقطیع میں شعر کے مکتوبی حروف حذف کر دیے جاتے ہیں۔ مثلاً
وہ دی وا نے کی بجائے وُ دی وانے اور ک ہا جا ئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی بجائے کَہا جائے لکھیں گے۔ باقی ارکان کی تقطیع کے حروف آپ خود درست کیجیے۔

جی بہت شکریہ فاتح بھائی۔۔۔
درستگی کر دی ہے۔۔۔۔
خرم شہزاد خرم — فروری 23، 2009 4:44 صبح

شاعر: شکیل بدایونی
بحر: ہزج مثمن سالم

تفصیل و تقطیع آپ کے ذمے۔

فاتح صاحب آپ سے درخواست ہے یہاں صرف بحر کے نام سے کام نہیں چلے گا یہاں آپ اراکین بھی بتائیں گے شکریہ
خرم شہزاد خرم — فروری 23، 2009 4:59 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
مفا علن۔ رہی ن گف
فعلاتن ت مرے دل
مفاعلن م دا، ستا
فعلن می ری
رہی نہ گفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
مفاعلن برن گ صو
فعلاتن۔ ت جرس تج
مفاعلن۔ س دو، رہو
فعلن ۔ تن ہا
برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
فعاعلن ترے ن آ
فعلاتن ج ک آ نے
مفاعلن م صب ح کے
فعلان۔ مج پاس
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس
ہزار جائے گی طبع بدگماں میری
مفاعلن۔ و نق ش پا
فعلاتن ءہ مین مٹ
مفاعلن ۔ گیا ہ جو
فعلن رہ می
وہ نقش پائے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں
نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہیگی رہرواں میری
نعمان بھائی ایک ایک مصر کی میں نے تقطع کی ہے آپ دوسرے مصرے کی کرو
سر جی یہ ٹھیک ہے کیا
الف عین — فروری 23، 2009 6:48 صبح
ٹھیک ہے، اب نعمان اپنا ہوم ورک کریں۔
خرم شہزاد خرم — فروری 23، 2009 7:41 صبح
نعمان بھائی یہاں آو جناب
محمد نعمان — فروری 23، 2009 7:56 صبح
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
نہ اس دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفاعلن
ر می سمجا ۔۔۔۔۔۔ فعلاتن
کوئی زبا ۔۔۔۔۔ مفاعلن
میری ۔۔۔۔۔۔ فعلن
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
خبر نہی ۔۔۔۔۔ مفاعلن
ہے تجِ آ ۔۔۔۔۔ فعلاتن
ک روا ِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفاعلن
میری ۔۔۔۔۔ فعلن
ہزار جائے گی طبع بدگماں میری
ہزار ۔۔۔۔ مفاعلن
ج ءِ گی طب ۔۔۔۔ فعلاتن
ع بدگُ ما ۔۔۔- مفاعلن
میری ۔۔۔۔ فعلن
نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہیگی رہرواں میری
نہ کچ خبر ۔۔۔۔ مفاعلن
ہے نہ سدھ ہی ۔۔۔ فعلاتن
گی رہروا ۔۔۔۔۔ مفاعلن
میری ۔۔۔۔ فعلن
یہاں سمجھ نہیں آئی۔
باقی ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔
محمد وارث — فروری 23، 2009 4:34 شام
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
خبر نہی ۔۔۔۔۔ مفاعلن
ہے تجِ آ ۔۔۔۔۔ فعلاتن
ک روا ِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مفاعلن
میری ۔۔۔۔۔ فعلن

'آہ' کا صحیح وزن 'فاع' یا 2 1 ہے یعنی ہائے ہوز (ہ) کا وزن ہے، اور اسے آپ چھوڑ رہے ہیں
ہ کا ر وا - مفاعلن
ہاں ضرورت پڑنے پر اس 'ہ' کے گرانا جائز ہے لیکن یہاں شاعر نے 'ہ' کا وزن شمار کیا ہے! اور یاد رکھیں کہ 'کارواں' کا الف کبھی نہیں گر سکتا جیسے آپ گرا رہے ہیں تقطیع میں! یہ حرام ہے :)
ہزار جائے گی طبع بدگماں میری
ہزار ۔۔۔۔ مفاعلن
ج ءِ گی طب ۔۔۔۔ فعلاتن
ع بدگُ ما ۔۔۔- مفاعلن
میری ۔۔۔۔ فعلن

اس مصرعے میں کچھ گڑ بڑ ہے، پھر دیکھیے جہاں سے لکھا ہے:
ہزار جا - مفاعلن
ء گ طب عے - فعلاتن
؟ بد گما - مفاعلن
میری - فعلن
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسئلہ وہاں نہ ہو جہاں نظر آ رہا ہے بلکہ مصرع ہی کچھ مخلتف ہو!
محمد نعمان — فروری 23، 2009 5:01 شام
اور یاد رکھیں کہ 'کارواں' کا الف کبھی نہیں گر سکتا جیسے آپ گرا رہے ہیں تقطیع میں! یہ حرام ہے
اسکا اصول کیا ہے۔۔۔
اور وارث بھائی میرے پاس تو شعر اسی طرح ہی لکھا ہے۔۔۔۔آپ کہیں دیکھیئے۔۔۔
بہت شکریہ
محمد وارث — فروری 23، 2009 5:41 شام
نعمان اس موضوع اور اسکے اصولوں پر "براہِ کرم تقطیع کر دیں" جو اصلاح سخن میں ہی ہے، پر کافی بات چیت ہو چکی ہے، پلیز اسے دیکھ لیں!
کلیات میر کہیں گرد میں اٹے ہوئے پڑے ہونگے، کوشش کرنے کی کوشش ضرور کرونگا :)
فاتح — فروری 23، 2009 6:55 شام
فاتح صاحب آپ سے درخواست ہے یہاں صرف بحر کے نام سے کام نہیں چلے گا یہاں آپ اراکین بھی بتائیں گے شکریہ

اگر میں‌خود بھی صرف بحر کے نام سے واقف ہوں تو کیا کروں؟ ;)
بہرحال میرے خیال میں‌ارکان لکھنا سپون فیڈنگ میں‌شمار ہو گا۔ عروض کی آنلائن کتب بھی موجود ہیں اور ہم سب ان سے استفادہ کر سکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں لہٰذا اگر صرف بحر کا نام ہی بتا دیا جائے تو اس کے ارکان تلاش کرنے کا کام تقطیع کرنے والے کو خود کرنا چاہیے تا کہ اس تلاش میں اس کی نظر سے مزید بحور بھی گزریں اور علم میں اضافہ کا باعث بنیں۔
"اراکین" رکن کی جمع الجمع ہے لیکن عروض کی اصطلاحات میں‌محض واحد "رکن" اور جمع "ارکان" ہی مستعمل ہیں۔
خرم شہزاد خرم — فروری 24، 2009 5:09 صبح
اگر میں‌خود بھی صرف بحر کے نام سے واقف ہوں تو کیا کروں؟ ;)
بہرحال میرے خیال میں‌ارکان لکھنا سپون فیڈنگ میں‌شمار ہو گا۔ عروض کی آنلائن کتب بھی موجود ہیں اور ہم سب ان سے استفادہ کر سکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں لہٰذا اگر صرف بحر کا نام ہی بتا دیا جائے تو اس کے ارکان تلاش کرنے کا کام تقطیع کرنے والے کو خود کرنا چاہیے تا کہ اس تلاش میں اس کی نظر سے مزید بحور بھی گزریں اور علم میں اضافہ کا باعث بنیں۔
"اراکین" رکن کی جمع الجمع ہے لیکن عروض کی اصطلاحات میں‌محض واحد "رکن" اور جمع "ارکان" ہی مستعمل ہیں۔

آپ کی محبت کا بہت شکریہ
محمد نعمان — فروری 24، 2009 5:50 صبح
نعمان اس موضوع اور اسکے اصولوں پر "براہِ کرم تقطیع کر دیں" جو اصلاح سخن میں ہی ہے، پر کافی بات چیت ہو چکی ہے، پلیز اسے دیکھ لیں!
کلیات میر کہیں گرد میں اٹے ہوئے پڑے ہونگے، کوشش کرنے کی کوشش ضرور کرونگا :)

جی بہت شکریہ وارث بھائی۔۔
اللہ آپکو خوش رکھے
خرم شہزاد خرم — فروری 25، 2009 4:29 صبح
نعمان بھائی کوئی اور غزل بھی ارسال کرو جی
محمد نعمان — فروری 25، 2009 8:55 صبح
فیض احمد فیضؔ
کب ٹھہرے گا درد اے دل،کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تری شنوائی اے دیدہ تر ہو گی
کب مہکے گی فصل گل، کب بہکے گا میخانہ
کب صبح سخن ہو گی کب شام نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گہ
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامت جانانہ
کب حشر معین ہے تجھ کو تو خبر ہو گی​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%B1.15183/page-5