غزل برائے اصلاح

منذر رضا — اکتوبر 26، 2018 5:32 شام
اساتذہ کرام سے اصلاح کی گزارش ہے
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
دائم
غمِ ہستی سے مجھ کو میسر یہ ڈھال ہے
دل وجاں میں اے دلبر!ترا ہی خیال ہے
ہوا جو بھی تیرے عشق میں مبتلا اے جاں!
وہ عاشق تو خود بھی اب سراپا جمال ہے
اگر زندگی میں تو نہ ہو تو یہ زندگی
کیا ہے؟بے مزا ہے، بلکہ کہیے وبال ہے
بھلا کون کہتا ہے کہ تو جام بھر کہ دے
فقط تیری اک نظرِ کرم کا سوال ہے
نہیں ظرف ہو گا جامِ دل کا وگرنہ تو
مرا ساقی مجھ کو مے نہ دے، یہ محال ہے
ہمیشہ جو ہوتی ہے تیری یاد میرے ساتھ
مجھے ایک جیسا تیرا ہجر و وصال ہے
کہاں جائے بلبل گلستاں سے یگانہ اب
رگِ گل سے بندھا اس کا ہر ایک بال ہے
شکریہ۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 27، 2018 2:01 شام
کہاں ہیں اساتذہ؟؟؟؟؟
نظرِ کرم فرما دیجے۔۔۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 27، 2018 4:35 شام
اس کی بحر سمجھ نہیں سکا
منذر رضا — اکتوبر 27، 2018 5:50 شام
الف عین صاحب
ناچیز کے خیال میں بحر فعولن مفاعیلن فعولن مفاعلن ہے۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 28، 2018 4:48 صبح
نظرِ کرم کی التماس ہے
الف عین
یاسر شاہ
محمد تابش صدیقی
الف عین — اکتوبر 28، 2018 6:09 صبح
ریحان قریشی
منذر رضا — اکتوبر 28، 2018 6:11 صبح
الف عین صاحب
حضور آپ بھی رہنمائی فرمائیے۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 28، 2018 6:16 صبح
مجھے تو یہ مستعمل بحر نہیں لگتی
یاسر شاہ — اکتوبر 28، 2018 6:32 صبح
منذر صاحب میں بھی متفق ہوں الف عین صاحب سے یہ کوئی مستعمل بحر نہیں-"فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن " بحر طویل البتّہ ایک مستعمل بحر ہے مگر عربی میں - ایسے تجربات سے بچیں -
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 28، 2018 6:53 صبح
ہماری صلاح
@منزر رضا بھائی آپ اس غزل کو بآسانی مندرجہ ذیل بحر میں ڈھال سکتے ہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مثلاً
ہستی کے غم سے مجھ کو میسر یہ ڈھال ہے
یا
ہوتی ہے یوں ہمیشہ تری یاد میرے ساتھ
مجھ پر تو ایک ہی ترا ہجر و وصال ہے
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 28، 2018 7:05 صبح
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے​
(مرزا غالب)​
منذر رضا — اکتوبر 28، 2018 8:00 صبح
جی آپ سب حضرات الف عین، یاسر شاہ، محمد خلیل الرحمٰن
نے بجا فرمایا۔۔۔
میں تبدیلی کے بعد دوبارہ غزل پیش کرتا ہوں۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 28، 2018 2:29 شام
محفل کے واجب الاحترام اساتذہ کی خدمت میں
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
محمد خلیل الرحمٰن
ہستی کے غم سے مجھ کو میسر یہ ڈھال ہے
میرے جی میں تو صرف ترا ہی خیال ہے
گر زندگی میں تو نہ ہو تو پھر یہ زندگی
میرے لیے تو جیسے کہ کوئی وبال ہے
ساقی یہ کون کہتا ہے تو جام بھر کے دے
تجھ سے تو ایک نظرِ کرم کا سوال ہے
اتنا نہ جامِ دل کا ہو گا ظرف ورنہ تو
ساقی مرا، مجھے مے نہ دے، یہ محال ہے
ہوتی ہے یوں ہمیشہ تیری یاد میرے ساتھ
مجھ پر تو ایک ہی ترا ہجر و وصال ہے
سورج ہے استعارہ ترے ہی جلال کا
اور چاند سے عیاں بھی ترا ہی جمال ہے
بلبل کہاں کو جائے چمن سے یگانہ اب
گل کی رگوں سے بندھا ہوا بال بال ہے
شکریہ۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 28، 2018 3:06 شام
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
محمد خلیل الرحمٰن
الف عین — اکتوبر 29، 2018 4:05 صبح
ہستی کے غم سے مجھ کو میسر یہ ڈھال ہے
میرے جی میں تو صرف ترا ہی خیال ہے
... سمجھ نہیں سکا، دوسرے مصرعے میں "جی میں" صرف "جِمے" تقطیع ہو رہا ہے "جی میں مرے" وزن میں درست آتا ہے اگرچہ م کی تکرار کا عیب بھی پیدا ہو جاتا ہے
گر زندگی میں تو نہ ہو تو پھر یہ زندگی
میرے لیے تو جیسے کہ کوئی وبال ہے
.... "ہو تو" محض "ہتو" تقطیع ہو رہا ہے جب کہ تو، جو وغیرہ کی واؤ کا اسقاط زیادہ فصیح ہے ۔ دوسرے مصرعے میں بھی 'کہ کوئی' میں کاف کی تکرار سے صوتی تنافر پیدا ہوتا ہے
ساقی یہ کون کہتا ہے تو جام بھر کے دے
تجھ سے تو ایک نظرِ کرم کا سوال ہے
... . نظر کی ظ مفتوح ہے ساکن نہیں
اتنا نہ جامِ دل کا ہو گا ظرف ورنہ تو
ساقی مرا، مجھے مے نہ دے، یہ محال ہے
.... ہو گا 'ہُگا' مے نہ دے 'مَنَدے' تقطیع ہونا درست نہیں
ہوتی ہے یوں ہمیشہ تیری یاد میرے ساتھ
مجھ پر تو ایک ہی ترا ہجر و وصال ہے
.... 'تری یاد' کے ساتھ درست
سورج ہے استعارہ ترے ہی جلال کا
اور چاند سے عیاں بھی ترا ہی جمال ہے
.... درست
بلبل کہاں کو جائے چمن سے یگانہ اب
گل کی رگوں سے بندھا ہوا بال بال ہے
بندھا میں نون کا اعلان غلط ہے 'بدا' تقطیع درست ہو گی
منذر رضا — اکتوبر 29، 2018 9:29 صبح
شکریہ الف عین صاحب
تبدیلی کے بعدمیں دوبارہ پیش کروں گا۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 29، 2018 10:32 صبح
محترم اساتذہ کی خدمت میں دوبارہ
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
کیا جانیے کہ دل لگی کا کیا مآل ہے
دل میں مرے تو صرف ترا ہی خیال ہے
اے جانِ جاں!اگر تو نہ ہو زندگی میں تو
عاشق کے واسطے یہ محض اک وبال ہے
ساقی یہ کون کہتا ہے تو جام بھر کے دے
تجھ سے تو صرف ایک نگہ کا سوال ہے
اتنا نہ ظرف ہو گا مرے دل کا ورنہ تو
ساقی شراب مجھ کو نہ دے، یہ محال ہے
ہوتی ہے یوں ہمیشہ تری یاد میرے ساتھ
مجھ پر تو ایک ہی ترا ہجر و وصال ہے
سورج ہے استعارہ ترے ہی جلال کا
اور چاند سے عیاں بھی ترا ہی جمال ہے
بلبل کہاں کو جائے چمن سے یگانہ اب
گل کی رگوں سے اس کا بندھا بال بال ہے
شکریہ
منذر رضا — اکتوبر 29، 2018 1:06 شام
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
نظرِ کرم کا ملتمس ہوں۔۔
منذر رضا — اکتوبر 30، 2018 9:55 صبح
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
محمد ریحان قریشی
نظرِ کرم کا ملتمس ہوں۔۔۔۔
منذر رضا — اکتوبر 30، 2018 1:13 شام
کہاں چلے گئے ہیں محفل کے اساتذہ؟؟؟؟؟
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
محمد ریحان قریشی
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.103895/