محترم
الف عین صاحب
محترم
محمد خلیل الرحمٰن صاحب
محترم
سید عاطف علی صاحب
محترم
یاسر شاہ صاحب
محترم
محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح کی درخواست ہے _
غزل
جذبات ، فکر ، تجربہ لفظوں میں ڈھال کر
مشقِ سخن طرازی میں پیدا کمال کر
یہ ناقدوں کی بزم ہے ، اے شخص ! تو یہاں
لانا ہر ایک لفظ زباں پر سنبھال کر
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے یا صرف دوست ہے
میں کیوں بتاؤں ، دَم ہے تو اس سے سوال کر
اس نے کہا تھا ، عشق مصیبت ہے ! اور اب
پچھتا رہا ہوں خود کو مصیبت میں ڈال کر
ڈر ہے یہ کفر تک تجھے پہنچا نہ دے کہیں
نومیدیوں کو پھینک دے ، دل سے نکال کر
تیرے سوا کوئی نہیں رہتا ہے اس میں اب
آ دیکھ لے ! خود آ کے مِرا دل کھنگال کر
مجھ کو بھُلا نہ پائے گا تو عمر بھر کبھی
میں تیرا پہلا پیار ہوں پیارے ! خیال کر
آواز ہی سنا دے مجھے اس کی کم سے کم
بس ایک بار میرے لیے اس کو کال کر
اشرف ! وہ جب اداس نہیں ہے تِرے بغیر
پھر تو بھی جھوم ناچ گا یعنی دھمال کر