وضاحت کر دیں۔ مفاعل والا کیا معاملہ ہے۔
یہ وزن کے پیمانے ہیں، اس سے الفاظ اور حروف کو ناپ کر شعر کہا جاتا ہے۔ اور ہر مصرع ایک ہی وزن پر ہوتا ہے۔ اسی ناپ تول کے بعد جو شعر سامنے آتا ہے اسے کلامِ موزوں کہا جاتا ہے۔ موزوں یعنی دو مصرعے جو ہم وزن ہوں، ایک ہی وزن پر ہوں۔ وزن میں آئے بغیر دو جملے، فقرے یا دو لائینیں شعر کہلانے کی حقدار نہیں ہوتی۔ ایک اور بات یاد آگئی!! آپ نے کبھی جنید جمشید سے تقی عثمانی دامت برکاتہم کے کلام کو سنا ہو تو:
الٰہی تیری چوکھٹ پر بکھاری بن کے آیا ہوں
مفاعیلن۔۔ مفاعیلن۔۔ مفاعیلن۔۔ مفاعیلن
اس دھن میں مفاعیلن کو چار بار پڑھیں تو لے کہیں بگڑے گی نہیں۔ اور اسی لے پر تمام کلام پڑھیں تو سمجھ آئے گا کہ اس مفاعل، اور تفاعُل کی کیا حیثیت ہے۔
اس کلام کو یہاں سے ڈاؤنلوڈ کرکے سنیںاس کے علاوہ کسی کلام کو کسی قوال، گائک یا نعت یا نوحہ خواں سے سن کر اس دھن میں شعر گنگنائیں۔ کچھ نہ کچھ تو بن ہی جائے گا۔


اور مذکورہ غزل کس زبان میں ہے؟
مذکورہ غزل خسروی زبان میں ہے۔ جو دکنی اور فارسی کا مجموعہ ہے۔

ہمم۔ پہلے بے تکا لکھا،کیا کم ہے ۔جو اب بے سُرا گا کے سمع خراشی کا ساماں بھی ہو

۔ خیر نوٹ کر لیا ہے۔ ان شا ء اللہ۔۔

ہمیں آپ کے سر اور تال نہیں چیک کرنے ہیں۔ آپ کلام موزوں کر لیں یہی بہت بڑی بات ہے۔

(مذاق)
یہیں ایک شاعرہ سے ہم نے اس گانے کی دھن میں کلام کو موزوں کروایا تھا اور انہوں نے بھی بہت خوب موزوں کیا۔ گانا تھا:
بلا کا حسن غضب کا شباب نیند میں ہے
ہے جسم جیسے گلستاں گلاب نیند میں ہے۔
اس گانے کا لنک
اور محترمہ کی غزل 

