ان میں مشترک تو محض ’تا‘ ہے، یہ قوافی کیسے ہو سکتے ہیں؟ چلتا، بدلتا میں مشترک ’لتا‘ ہے۔ اور اس سے قبل چ اور د متحرک۔ چلتا اور گزرتا میں مشترک محض ’تا‘ ہے۔ اور اس سے پہلے کے حروف ساکن ہیں ل، اور ر۔ اسی لیے میں ’روی‘ لفظ استعمال نہیں کرتا۔ مشترک حروف کہہ رہا ہوں۔ بسمل اور ریحان تو عروض داں ہیں۔ وہ مجھ سے متفق نہیں ہوں گے۔ میں تو زبردستی اصلاح کر دیتا ہوں۔ اور روزانہ یہی سوچتا ہوں کہ بس، اب بس کروں، بہت ہو گئی استادی!!
بہت شکریہ جناب محترم
الف عین صاحب آپ نے بہترین انداز میں سمجھا دیا۔ آپ نے جو رعایت رکھی ہے ہم جیسے خطاکاروں کے لیےاللہ تعالی آپ کو اس کی جزا دے ورنہ جیسے آپ نے فرمایا حرف روی سے قبل بامعنی لفظ کی شرط واقعی کڑی شرط ہے۔
اپنی غزل کی طرف آتا ہوں جناب وآپس اگر مطلع اس طرح ہو تو قابل قبول ہو گی غزل؟ اشعار میں تبدیلی بھی کردی ہے جیسا آپ نے فرمایا تھا کے باقی سارے اشعار "تا نہیں" پر ختم ہورہے تھے تو ان میں بھی کم از کم ایک مختلف قافیہ کا فاصلہ کردیا ہے۔
گر کے تیری گلی میں وہ سنبھلا نہیں
تھام کر دل یہاں سے جو گزرا نہیں
اب محبت کا جو تیری انداز ہے
یہ ہنر بے وفا میں نے سیکھا نہیں
ماند تارے ہوئے ہیں غمِ سحر میں
ناز بامِ فلک ان پہ کرتا نہیں
کب تلک یہ رہے گا محبت کا غم
دل ابھی تک تجھے بھول پایا نہیں
جب سے ہے زندگی کی مجھے جستجو
اب کسی میں ستم گر پہ مرتا نہیں
میرے خوابوں میں آ کر ستاتے تھے وہ
جب سے ناراض ہیں خواب آیا نہیں
دوستوں کے سبب ہی میں رسوا ہوا
فن مرے دشمنوں کو یہ آتا نہیں
جب سے کلمہ پڑھا ہے ترے عشق کا
دل یہ تیرے سوا اب کسی کا نہیں