غزل برائے اصلاح : وہ بے حد شرمیلا ہے

اشرف علی — جنوری 1، 2022 5:40 شام
محترم الف عین صاحب
محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح کی درخواست ہے _
غزل
سورج واحد تارہ ہے !
دن میں نظر جو آتا ہے
میرا دل ، یہ میرا دل
بالکل بچّے جیسا ہے
اصلی بلوان وہ ہے جسے
غصہ پینا آتا ہے
جو کرنا ہے کر لو آج
کل کا خاک بھروسہ ہے
اپنا چاہا سب ہو جائے
ایسا تھوڑی ہوتا ہے
"دنیا" سے بچ کے رہنا
یہ مکڑی کا جالا ہے
ایک ہی بار سہی لیکن
پیار سبھی کو ہوتا ہے
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
گھنٹی بجتی ہے دل میں
جب اس کا فون آتا ہے
دیکھ رہے ہیں سب اس کو
جس نے تجھ کو دیکھا ہے
جب آنکھیں ہوتی ہیں چار
مت پوچھو کیا ہوتا ہے
اسے چھوؤں کیسے اشرف
وہ بے حد شرمیلا ہے
الف عین — جنوری 2، 2022 4:39 صبح
درست ہیں اشعار، سادہ الفاظ میں اچھی غزل، بس اسے دیکھو
اصلی بلوان وہ ہے جسے
غصہ پینا آتا ہے
بلوان وزن میں نہیں آتا، یہ ہندی لفظ اردو میں نا مانوس بھی ہے، اور اسے غنہ بھی نہیں کیا جا سکتا
پہلواں استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ں کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے اور اس طرح وزن میں آتا ہے
مقبول — جنوری 2، 2022 6:04 صبح
اسے چھوؤں کیسے اشرف
وہ بے حد شرمیلا ہے
اشرف علی صاحب
مجھے اس بحر کی بالکل سمجھ نہیں ہے۔ اپنی کم علمی کی بنا پر پوچھ رہا ہوں کہ مصرعہ اوّل میں اسے ہونا چاہیے یا اس کو، یا دونوں ہی ٹھیک ہیں؟
میرے ساتھ دو چار بار یہ ہوا ہے کہ کچھ لکھا تو معلوم ہوا کہ بحر ، بحر ہندی/ متقارب بن رہی ہے۔ اس بحر کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے جو جہاں تک لکھا وہیں چھوڑ دیا
محمد عبدالرؤوف — جنوری 2، 2022 6:29 صبح
اشرف علی صاحب
مجھے اس بحر کی بالکل سمجھ نہیں ہے۔ اپنی کم علمی کی بنا پر پوچھ رہا ہوں کہ مصرعہ اوّل میں اسے ہونا چاہیے یا اس کو، یا دونوں ہی ٹھیک ہیں؟
میرے ساتھ دو چار بار یہ ہوا ہے کہ کچھ لکھا تو معلوم ہوا کہ بحر ، بحر ہندی/ متقارب بن رہی ہے۔ اس بحر کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے جو جہاں تک لکھا وہیں چھوڑ دیا
مقبول بھائی فعلن ایسا رکن ہے جسے کہیں بھی فِعْلن کی بجائے فَعِلن کر سکتے ہیں۔
مقبول — جنوری 2، 2022 8:16 صبح
مقبول بھائی فعلن ایسا رکن ہے جسے کہیں بھی فِعْلن کی بجائے فَعِلن کر سکتے ہیں۔
کیا اس مصرعہ میں اس سہولت کا استعمال ہوا ہے یا کوئی صورت ہے جس کی اجازت ہے؟
ہو سکتا ہے سر الف عین کچھ کہنا پسند فرمائیں
ایس ایس ساگر — جنوری 2، 2022 10:20 صبح
بہت خوب اشرف علی بھائی۔
اچھی غزل ہے۔ سلامت رہیں۔ آمین۔
اشرف علی — جنوری 2، 2022 8:22 شام
درست ہیں اشعار، سادہ الفاظ میں اچھی غزل
الحمد للّٰہ
پذیرائی کے لیے ممنون ہوں الف عین سر
اللّٰہ کا کرم ہے اور آپ سب کی مہربانی ہے
جزاک اللّٰہ خیراً
آپ کی داد سے دل ہوا شاد ... مزا آ گیا ...
، بس اسے دیکھو
اصلی بلوان وہ ہے جسے
غصہ پینا آتا ہے
بلوان وزن میں نہیں آتا، یہ ہندی لفظ اردو میں نا مانوس بھی ہے، اور اسے غنہ بھی نہیں کیا جا سکتا
او !
پہلواں استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ں کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے اور اس طرح وزن میں آتا ہے
پہلے میں نے "پہلوان" ہی سوچا تھا پھر مجھے لگا یہ وزن میں نہیں آئے گا ...
ویسے لفظ "پہلواں" کا صحیح وزن کیا ہے سر؟
فعولن یا فاعلن ...
اصلی پہلواں وہ ہے جسے
غصہ پینا آتا ہے
اب ٹھیک ہے نا سر ؟
اس صورت میں "اصلی" کی "ی"گرانی ہے یا "وہ" کی "ہ"
سمجھ میں نہیں آ رہا ... رہنمائی فرمائیں سر ۔
اشرف علی — جنوری 2، 2022 8:42 شام
مصرعہ اوّل میں اسے ہونا چاہیے یا اس کو، یا دونوں ہی ٹھیک ہیں؟
میرے خیال میں شاید دونوں ہی ٹھیک ہیں ...
ویسے الف عین سر ہی بتا پائیں گے بہتر کیا ہے ...
میرے ساتھ دو چار بار یہ ہوا ہے کہ کچھ لکھا تو معلوم ہوا کہ بحر ، بحر ہندی/ متقارب بن رہی ہے۔ اس بحر کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے جو جہاں تک لکھا وہیں چھوڑ دیا
چھوڑیے مت ، آگے لکھ کے کمپلیٹ کیجیے اور اصلاحِ سخن میں پیش کیجیے ...
اگر صحیح ہوا تو کانفیڈینس بڑھے گا اور غلط ہوا تو علم ...
یہ میری ناقص رائے ہے ...
ویسے اس بحر میں تیرنے میں مزا بھی خوب آتا ہے ...
اشرف علی — جنوری 2، 2022 8:45 شام
بہت خوب اشرف علی بھائی۔
اچھی غزل ہے۔ سلامت رہیں۔ آمین۔
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے سراپا سپاس گزار ہوں محترم ایس ایس ساگر صاحب
اللّٰہ آپ کو بھی شاد و سلامت رکھے ، آمین -
الف عین — جنوری 3، 2022 4:18 صبح
واقعی پہلواں بھی یہاں درست نہیں ہوتا، میں بھی غلط تلفظ کر گیا، درست تلفظ میں 'ہ' ساکن ہے، ناسخ کا شعر یے
وہ پہلوانِ عشق ہوں ناسخ کہ بعد مرگ
برسوں مرے مزار پہ مگدرگھما کیے
الف عین — جنوری 3، 2022 4:21 صبح
کسی بھی جگہ ایک فعلن کو فَعِ لن اور کسی بھی جگہ دو متصل فعلن فعلن کو فعل فعولن کرنے کی اجازت ہے اس بحرمیں
عظیم — جنوری 3، 2022 6:53 شام
میرا خیال ہے کہ 'پہلواں' والا مصرع یوں بھی کیا جا سکتا ہے اگر بحر میں ہی رہے تو!
-وہی ہے طاقتور جس کو
اشرف علی — جنوری 4، 2022 6:53 شام
میرا خیال ہے کہ 'پہلواں' والا مصرع یوں بھی کیا جا سکتا ہے اگر بحر میں ہی رہے تو!
-وہی ہے طاقتور جس کو
بہت بہت شکریہ محترم عظیم صاحب
جزاک اللّٰہ خیراً
اشرف علی — جنوری 4، 2022 7:10 شام
الف عین سر ! کون سا ٹھیک ہوگا ؟
وہی ہے طاقتور جس کو
غصہ پینا آتا ہے
یا
اور بھی لگتا ہے پیارا
جب وہ غصہ کرتا ہے
یا
تب آتا ہے اور بھی پیار
جب وہ غصہ ہوتا ہے
اشرف علی — جنوری 4، 2022 7:15 شام
محترم الف عین صاحب
محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح کی درخواست ہے _
غزل
سورج واحد تارہ ہے !
دن میں نظر جو آتا ہے
میرا دل ، یہ میرا دل
بالکل بچّے جیسا ہے
اصلی بلوان وہ ہے جسے
غصہ پینا آتا ہے
جو کرنا ہے کر لو آج
کل کا خاک بھروسہ ہے
اپنا چاہا سب ہو جائے
ایسا تھوڑی ہوتا ہے
"دنیا" سے بچ کے رہنا
یہ مکڑی کا جالا ہے
ایک ہی بار سہی لیکن
پیار سبھی کو ہوتا ہے
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
گھنٹی بجتی ہے دل میں
جب اس کا فون آتا ہے
دیکھ رہے ہیں سب اس کو
جس نے تجھ کو دیکھا ہے
جب آنکھیں ہوتی ہیں چار
مت پوچھو کیا ہوتا ہے
اسے چھوؤں کیسے اشرف
وہ بے حد شرمیلا ہے
پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے لیے تہہِ دل سے شکر گزار ہوں ... صابرہ امین صاحبہ ، محمد عبدالرؤوف بھائی ، ایس ایس ساگر صاحب ، صریر صاحب اور عظیم صاحب
اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کو شاد وسلامت رکھے ، آمین -
الف عین — جنوری 5، 2022 4:12 صبح
الف عین سر ! کون سا ٹھیک ہوگا ؟
وہی ہے طاقتور جس کو
غصہ پینا آتا ہے
یا
اور بھی لگتا ہے پیارا
جب وہ غصہ کرتا ہے
یا
تب آتا ہے اور بھی پیار
جب وہ غصہ ہوتا ہے
مجھے تینوں قبول ہیں، تم جو پسند کرو، اسے رکھو
اشرف علی — جنوری 5، 2022 8:19 شام
مجھے تینوں قبول ہیں، تم جو پسند کرو، اسے رکھو
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ
جزاک اللّٰہ خیراً
اشرف علی — جنوری 5، 2022 8:20 شام
غزل ( اصلاح کے بعد )
سورج واحد تارہ ہے !
دن میں نظر جو آتا ہے
میرا دل ، یہ میرا دل
بالکل بچّے جیسا ہے
جب آنکھیں ہوتی ہیں چار
مت پوچھو کیا ہوتا ہے
جو کرنا ہے کر لو آج
کل کا خاک بھروسہ ہے
اپنا چاہا سب ہو جائے
ایسا تھوڑی ہوتا ہے
"دنیا" سے بچ کے رہنا
یہ مکڑی کا جالا ہے
ایک ہی بار سہی لیکن
پیار سبھی کو ہوتا ہے
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
گھنٹی بجتی ہے دل میں
جب اس کا فون آتا ہے
دیکھ رہے ہیں سب اس کو
جس نے تجھ کو دیکھا ہے
اور بھی لگتا ہے پیارا
جب وہ غصہ کرتا ہے
اسے چھوؤں کیسے اشرف
وہ بے حد شرمیلا ہے
الف عین — جنوری 6، 2022 6:13 صبح
اصلاح سے قطع نظر، یہ شعر مجھے پسند نہیں آیا
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
باقی اشعار بہت مثبت رویے کے ہیں، یہ خود کشی کا جذبہ کیوں؟
اشرف علی — جنوری 7، 2022 5:47 صبح
غزل ( اصلاح کے بعد )
سورج واحد تارہ ہے !
دن میں نظر جو آتا ہے
میرا دل ، یہ میرا دل
بالکل بچّے جیسا ہے
جب آنکھیں ہوتی ہیں چار
مت پوچھو کیا ہوتا ہے
جو کرنا ہے کر لو آج
کل کا خاک بھروسہ ہے
اپنا چاہا سب ہو جائے
ایسا تھوڑی ہوتا ہے
"دنیا" سے بچ کے رہنا
یہ مکڑی کا جالا ہے
ایک ہی بار سہی لیکن
پیار سبھی کو ہوتا ہے
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
گھنٹی بجتی ہے دل میں
جب اس کا فون آتا ہے
دیکھ رہے ہیں سب اس کو
جس نے تجھ کو دیکھا ہے
اور بھی لگتا ہے پیارا
جب وہ غصہ کرتا ہے
اسے چھوؤں کیسے اشرف
وہ بے حد شرمیلا ہے
پسندیدگی کا اظہار فرمانے کے لیے بہت بہت شکریہ سر
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔
اصلاح سے قطع نظر، یہ شعر مجھے پسند نہیں آیا
غم سے مجھے پانا ہے نجات
رسّی ، کرسی ، پنکھا ہے ؟
باقی اشعار بہت مثبت رویے کے ہیں، یہ خود کشی کا جذبہ کیوں؟
ٹھیک ہے سر ، اس شعر کو نکال دیتا ہوں ...
رہنمائی فرمانے کے لیے ممنون ہوں ...
جزاک اللّٰہ خیراً
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88%DB%81-%D8%A8%DB%92-%D8%AD%D8%AF-%D8%B4%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7-%DB%81%DB%92.117931/