جی
عظیم بھائی بہتر ہے، یہ دیکھیے کیسا رہے گا
ہمیں تیری محبت کی سزائیں مار دیتی ہیں
تیرے معصوم چہرے کی ادائیں مار دیتی ہیں
صرف 'محبت کی سزائیں' سے بات نہیں بنتی ۔ جرمِ محبت وغیرہ کی ترکیب لائی جائے تب کچھ معنی پیدا ہوتے ہیں ۔ سزا تو کسی جرم کی ملتی ہے نا اور محبت کو جرم ثابت کرنا پڑتا ہے براہِ راست جرم سمجھا نہیں جاتا ۔ 'چہرے کی ادائیں' بھی بے معنی سا ہو گیا ہے ۔
اب اس سے زیادہ سکت نہیں ہے بھائی، پاسنگ مارکس ہے دے دیں۔
ہمیں خود پر تو قابو ہے مگر تیرے بدن کی اف
مہک سے یوں معطر یہ فضائیں مار دیتی ہیں
'بدن کی، اف' اچھا نہیں لگ رہا ۔
یوں ٹھیک ہے؟
بھروسہ رشتے ناطوں پر کیا ہم نے مگر پھر بھی
ہمیں رشتے نبھانے کی سزائیں مار دیتی ہیں
یہاں دو لختی کا احساس ہو رہا ہے ۔ پہلے مصرع میں بھروسا کا لفظ لے آئے ہیں تو دوسرے میں دھوکا فریب ملتا رشتوں میں تو کچھ بات بنتی ۔ اچانک رشتے نبھانے کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ۔
نکال دیا جناب، اس کے بدلے اس شعر کو دیکھیے ذرا۔
مریضِ دل جو خود بھی ہیں مجھے تجویز کرتے ہیں
ہمیں ایسے طبیبوں کی دوائیں مار دیتی ہیں
'مریض دل' کی جگہ کچھ اور لائیں اس ترکیب سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دل کی کوئی بیماری ہے ۔ محبت کے بیمار وغیرہ سمجھ نہیں آتا ۔ یعنی محبت کا درد رکھنے والے ۔ اور دوسرے مصرع میں 'ایسے طبیبوں' کی بھی کچھ وضاحت ہونی چاہیے کہ کیسے ؟
یہ مناسب ہے؟
رہے دل میں تو اچھا ہے محبت بن کے خاموشی
مگر ایسی محبت کی رجائیں مار دیتی ہیں
ٹھیک ہے جی، یہ دیکھیے
انھیں سے پوچھ کر دیکھو یہ محرومی بھی نعمت ہے
جنھیں محبوب کے غم کی بکائیں مار دیتی ہیں
'رجائیں' اور 'بکائیں' کا مجھے علم نہیں کہ یہ لفظ بھی ہیں یا نہیں ۔ اور اگر لفظ ہیں تو ان کے معنی میں نہیں جانتا ۔