کاشف عمران بھائی جان آپ نے جو کہا کہ
میری خواہش ہو گی کہ تخلص کچھ اور ہو۔ "علم" بر وزنِ قلم، الم بمعنی غم کا ہم آواز ہوا۔ سن کر یہی ذہن میں آتا ہے کہ "الم" تخلص ہو گا۔
یہ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری میم (ٹیچر)بتاتی ہیں جب کسی چیز کو کاونٹر کرو تو کم سے کم تین آپشن دو



میم کے بالوں کا رنگ کیا ہے؟ آنکھیں کیسی ہیں؟ خوب نوٹ کرو (گھُورے بغیر، سلیقے قرینے سے)، اگر کبھی چھوٹی موٹی سوانح عمری لکھنی پڑی تو یاد رکھو یہی باتیں اصل باتیں ہوتی ہیں۔ باقی تو سب خانہ پری ہے۔
باقی، میری رائے میں تو تخلص کی کھوج سو فیصدی اپنی ہونی چاہیے۔ دلچسپی کی لیے اتنا کہوں گا کہ میری زندگی کے تخلص ڈھونڈنے کے سفر میں جانے کتنے ہی چھوٹے چھوٹے سٹاپ آئے۔ بڑے سٹاپ البتہ یہ رہے: کاشف - ہاتف - غافل - کامل
کاشف-ہاتف کا ہم قافیہ ہونا اتفاق تھا۔ غافل کے بعد کامل کو ہم آواز اس لیے رکھا کہ کچھ مقاطع میں تخلص بطورِ قافیہ آتا تھا ۔تمام قوافی ہم وزن اس لیے رکھے کہ مقاطع کو تبدیل نہ کرنا پڑے! اب پتا چلا تخلص کتنا اہم ہوتا ہے؟