یہاں مجھے ذو قافیتین کی اصطلاح پر بھی شک واقع ہوا۔ اگرچہ والد مرحوم کی ایسی ایک نعت بھی ہے،
دو عالم میں پھیلی ہوئی ہے تجلی ضیا در ضیا ہے غبارِ مدینہ
ہوئی اجلی اجلی فضا آسماں کی فلک پر جو پہنچا غبارِ مدینہ
دکھاتا ہے بھٹکے مسافر کو رستہ بڑا رہنما ہے غبارِ مدینہ
بہ ظاہر ہے اک خاک لیکن بہ باطن زرِ کیمیا ہے غبارِ مدینہ
سمٹ آئیں رعنائیاں دو جہاں کی نہ ہوگا جوابِ غبار مدینہ
جگر کا مداوا مرے دل کا مرہم نگاہوں کی ٹھنڈک غبار مدینہ
ملے دولتِ دو جہاں بھی تو کر دوں فدائے محمد(ص) نثارِ مدینہ
گلوں کا تبسم بہاروں کی نزہت چمن کا چمن ہے نثارِ مدینہ
دل و دیدہ تو خیر اپنی جگہ ہیں مری روح تک ہے نثارِ مدینہ
جس میں دو ہی قوافی ہیں، نثار اور غبار۔ لیکن کچھ تلاش کرنے پر
یہاں یہ مضمون ملا اور راقم خود بھی
مغزل کی ایک غزل پر یہی رائے دے چکا ہے۔ احباب کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے۔
محمد یعقوب آسی،
محمد وارث،
فاتح فرخ منظور