غزل
عشق کے طور محبت کے ہنر چھوڑ آئے
ہم جہاں پہونچے وہاں اپنا اثر چھوڑ آئے تیری زلفوں کی مہک بستی تھی جن میں جاناں
ہم ترے شہر کی وہ شام و صحر چھوڑ آئے دشت و صحرا میں بھٹکنا پڑے یا گلیوں میں
ہم تو چاہت میں تری پرکھوں کا گھر چھوڑ آئے شوق مزل میں بھٹکتے ہی رہ گئے خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
خورشید بھارتی
انڈیا
یاز — مئی 9، 2016 4:37 شام
غزل کافی عمدہ ہے، تاہم املا کی کچھ اغلاط ہیں۔ ان کو درست کرنے کی کوشش کیجئے بھائی۔
جیسے
شام و صحر کی بجائے شام و سحر درست ہے
مزل کی جگہ منزل
ابھی بھی خارج از بحر ہے۔
شوقِ منزل میں بھٹکتے ہی رہے وہ خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
یوں کر لیں۔
ویسے ایک بات ہے کہ سفر چھوڑ کے آ نے والے شوقِ منزل میں کیوں بھٹکیں گے۔ کوئی حسرت و رنج کی سی بات ہو سکتی ہے، شوق جب تک رہے گا سفر نہیں چھوٹے گا۔
ابھی بھی خارج از بحر ہے۔
شوقِ منزل میں بھٹکتے ہی رہے وہ خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
یوں کر لیں۔
ویسے ایک بات ہے کہ سفر چھوڑ کے آ نے والے شوقِ منزل میں کیوں بھٹکیں گے۔ کوئی حسرت و رنج کی سی بات ہو سکتی ہے، شوق جب تک رہے گا سفر نہیں چھوٹے گا۔
''پہنچے'' سے لگتا ہے کہ ابھی تک وہیں ہیں تو یہ لفظ ردیف سے میل نہیں کھاتا۔
پہنچے کو ''گئے'' سے بدلا جا سکتا ہے۔
مثلاً:
جس طرف بھی گئے ہم اپنا اثر چھوڑ آئے
وغیرہ۔
محمد ریحان قریشی — مئی 9، 2016 5:48 شام
تیری زلفوں کی مہک بستی تهی جن میں جاناں
روانی کی کمی ہے.( تنافر بهی ہے شاید ) دشت و صحرا میں بهٹکنا پڑے یا گلیوں میں
روانی کی شدید کمی ہے
الف عین — مئی 10، 2016 8:05 صبح
تیری زلفوں کی مہک جن میں بسی تھی جاناں
بہتر اور رواں مصرع ہے۔
دشت و صحرا میں ہی بھٹکیں، کہ پھریں گلیوں میں
ایک ممکنہ صورت پرکھوں کا گھر بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ کیا اسے اپنا ہی گھر کیا جا سکتا ہے؟
خورشید بھارتی — مئی 10، 2016 6:09 شام
دشت و صحرا ہی میں بھٹکے یا پھریں گلیوں میں
ہم محبت میں تری اپنا ۔۔۔۔نگر چھوڑ آئے
''پہنچے'' سے لگتا ہے کہ ابھی تک وہیں ہیں تو یہ لفظ ردیف سے میل نہیں کھاتا۔
پہنچے کو ''گئے'' سے بدلا جا سکتا ہے۔
مثلاً:
جس طرف بھی گئے ہم اپنا اثر چھوڑ آئے
وغیرہ۔