غزل پر آپ کی نظر ثانی چاہیے

خورشید بھارتی — مئی 9، 2016 4:20 شام
غزل
عشق کے طور محبت کے ہنر چھوڑ آئے
ہم جہاں پہونچے وہاں اپنا اثر چھوڑ آئے
تیری زلفوں کی مہک بستی تھی جن میں جاناں
ہم ترے شہر کی وہ شام و صحر چھوڑ آئے
دشت و صحرا میں بھٹکنا پڑے یا گلیوں میں
ہم تو چاہت میں تری پرکھوں کا گھر چھوڑ آئے
شوق مزل میں بھٹکتے ہی رہ گئے خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
خورشید بھارتی
انڈیا
یاز — مئی 9، 2016 4:37 شام
غزل کافی عمدہ ہے، تاہم املا کی کچھ اغلاط ہیں۔ ان کو درست کرنے کی کوشش کیجئے بھائی۔
جیسے
شام و صحر کی بجائے شام و سحر درست ہے
مزل کی جگہ منزل
خورشید بھارتی — مئی 9، 2016 4:39 شام
محبت کا ہنر ہے۔دوستو
مزمل حسین — مئی 9، 2016 4:49 شام
شوق مزل میں بھٹکتے ہی رہ گئے خورشید
یہ بحر میں نہیں۔
''پرکھوں'' کی گرائی ہوئی 'و' اچھی نہیں لگ رہی۔
خورشید بھارتی — مئی 9، 2016 4:52 شام
شام و سحر اور منزل پڑھیں برائے کرم۔
خورشید بھارتی — مئی 9، 2016 4:59 شام
بھٹکتے رہ گئے منزل کے شوق میں خورشید۔
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
اب کیسا رہے گا۔
مزمل حسین — مئی 9، 2016 5:11 شام
بھٹکتے رہ گئے منزل کے شوق میں خورشید۔
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
اب کیسا رہے گا۔
ابھی بھی خارج از بحر ہے۔
شوقِ منزل میں بھٹکتے ہی رہے وہ خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
یوں کر لیں۔
ویسے ایک بات ہے کہ سفر چھوڑ کے آ نے والے شوقِ منزل میں کیوں بھٹکیں گے۔ کوئی حسرت و رنج کی سی بات ہو سکتی ہے، شوق جب تک رہے گا سفر نہیں چھوٹے گا۔
خورشید بھارتی — مئی 9، 2016 5:27 شام
ابھی بھی خارج از بحر ہے۔
شوقِ منزل میں بھٹکتے ہی رہے وہ خورشید
حوصلہ ہار کے جو لوگ سفر چھوڑ آئے
یوں کر لیں۔
ویسے ایک بات ہے کہ سفر چھوڑ کے آ نے والے شوقِ منزل میں کیوں بھٹکیں گے۔ کوئی حسرت و رنج کی سی بات ہو سکتی ہے، شوق جب تک رہے گا سفر نہیں چھوٹے گا۔
بات معقول ہے۔ان کو منزل ہی کبھی ملتی نہیں ائے خورشید
مزمل حسین — مئی 9، 2016 5:30 شام
ہم جہاں پہونچے وہاں اپنا اثر چھوڑ آئے
''پہنچے'' سے لگتا ہے کہ ابھی تک وہیں ہیں تو یہ لفظ ردیف سے میل نہیں کھاتا۔
پہنچے کو ''گئے'' سے بدلا جا سکتا ہے۔
مثلاً:
جس طرف بھی گئے ہم اپنا اثر چھوڑ آئے
وغیرہ۔
محمد ریحان قریشی — مئی 9، 2016 5:48 شام
تیری زلفوں کی مہک بستی تهی جن میں جاناں
روانی کی کمی ہے.( تنافر بهی ہے شاید )
دشت و صحرا میں بهٹکنا پڑے یا گلیوں میں
روانی کی شدید کمی ہے
الف عین — مئی 10، 2016 8:05 صبح
تیری زلفوں کی مہک جن میں بسی تھی جاناں
بہتر اور رواں مصرع ہے۔
دشت و صحرا میں ہی بھٹکیں، کہ پھریں گلیوں میں
ایک ممکنہ صورت
پرکھوں کا گھر بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ کیا اسے اپنا ہی گھر کیا جا سکتا ہے؟
خورشید بھارتی — مئی 10، 2016 6:09 شام
دشت و صحرا ہی میں بھٹکے یا پھریں گلیوں میں
ہم محبت میں تری اپنا ۔۔۔۔نگر چھوڑ آئے
خورشید بھارتی — مئی 10، 2016 6:12 شام
''پہنچے'' سے لگتا ہے کہ ابھی تک وہیں ہیں تو یہ لفظ ردیف سے میل نہیں کھاتا۔
پہنچے کو ''گئے'' سے بدلا جا سکتا ہے۔
مثلاً:
جس طرف بھی گئے ہم اپنا اثر چھوڑ آئے
وغیرہ۔
جس طرف بھی گئے۔۔بہتر ہے۔شکریہ
خورشید بھارتی — مئی 10، 2016 6:44 شام
دشت و صحرا ہی میں بھٹکے یا پھریں گلیوں
ہم محبت میں تری اپنا تو گھر چھوڑ آئے
کیا یہ شعر موزوں ہے۔
محمد ریحان قریشی — مئی 10، 2016 7:26 شام
دشت و صحرا ہی میں بھٹکے یا پھریں گلیوں
ہم محبت میں تری اپنا تو گھر چھوڑ آئے
کیا یہ شعر موزوں ہے۔
دشت و صحرا ہی میں بهٹکیں یا پهریں گلیوں میں
ایسے موزوں ہو جائے گا.
الف عین — مئی 11، 2016 7:48 صبح
دشت و صحرا ہی میں بھٹکے یا پھریں گلیوں
ہم محبت میں تری اپنا تو گھر چھوڑ آئے
کیا یہ شعر موزوں ہے۔
’یا پھریں ‘میں ’یا‘ کے الف کا دبنا اچھا نہیں لگتا۔ میرا مشورہ ’کہ‘ کا تھا، وہی بہتر ہو گا میرے خیال میں۔
اپنا تو‘ بھی رواں نہیں۔
خورشید بھارتی — مئی 11، 2016 8:12 صبح
جی۔درست فرمایا آپ نے۔
ہم محبت میں تری اپنا نگر چھوڑ آئے
مصرع کیسا رہے گا۔؟
خورشید بھارتی — مئی 11، 2016 8:15 صبح
’یا پھریں ‘میں ’یا‘ کے الف کا دبنا اچھا نہیں لگتا۔ میرا مشورہ ’کہ‘ کا تھا، وہی بہتر ہو گا میرے خیال میں۔
اپنا تو‘ بھی رواں نہیں۔
دشت و صحرا ہی میں بھٹکیں کہ پھریں گلیوں میں
اب تو چاہت میں تری اپنا نگر چھوڑ آئے
کیسا رہے گا محترم
الف عین — مئی 12، 2016 5:55 صبح
دشت و صحرا میں ہی بھٹکیں کہ پھریں گلیوں میں
بہتر ہو گا،
خورشید بھارتی — مئی 12، 2016 4:53 شام
دشت و صحرا۔۔تو تھیک ہوگیا۔اس کا مصرع ثانی
ہم محبت میں تری اپنا نگر۔۔۔؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92.89820/