سید عاطف علی بھی اسے بغور دیکھ لیں، غزل کی پچھلی صورت پچھلے صفحے پر ہے، اور سامنے نہیں۔ تکنیکی غلطی تو کچھ نہیں، سوائے ایک سقم کے. مفہوم میں ہی مسائل ہین
گلہ نہیں ہے کسی سے جو بے قرار ہوں میں
مرے نصیب میں رونا ہے اشکبار ہوں میں
... ٹھیک
کہاں وہ عشق کی منزل ترا فقیر کہاں یا کہاں وہ عشق کی منزل یہ بے ہنر ہے کہاں
جو راہِ عشق ہے اُس کا فقط غبار ہوں میں
.. جوراہ عشق؟ اس کا پہلےمصرعے میں کوئی ذکر نہیں! "جو" کنفیوز کر رہی ہے
ہے پاش پاش مرا خواہشوں کا تاج محل
دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں
.... ٹھیک
بنا ہوں قیس تو کیوں پتھروں سے ڈر ہے مجھے
دو کشتیوں پہ بیک وقت ہی سوار ہوں میں
... کون سی دو کشتیاں؟
کبھی چرند پرند اور برگ و گل تھے یہاں
اجڑ گیا ہے چمن خالی خار زار ہوں میں
... خالی خارزار، روانی کے اعتبار سے اچھا نہیں، "اب تو" یا "صرف" سے
بدل دو
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
معاف کیجئے مجھ کو جو بادہ خوار ہوں میں
...دو لختی لگتی ہے
وفا کے بدلے ہمیشہ مجھے جفا ہی ملی
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
...یہ بھی دو لخت لگتا ہے
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا بیچ ریگ زار ہوں میں
..دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا، میں بیچ کیسے ہو سکتا ہوں؟