غزل (دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں)

محمد عبدالرؤوف — مارچ 22، 2022 4:54 شام
آمین۔۔۔۔۔
متشکرم جزاک اللّہ خیرا :)
مگر شاعرہ کہنا کافی زیادہ ہے میں تو ابھی مشق کر رہی ہوں
مشق کرنے والے شاعر یا شاعرہ کو کیا کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں اس لیے ایسا لکھا ہے
آپ محمل بہن کو "مشاق شاعرہ" کہنا شروع کر دیں😊
خورشیداحمدخورشید — مارچ 22، 2022 5:07 شام
آپ محمل بہن کو "مشاق شاعرہ" کہنا شروع کر دیں😊
بھائی عبدالرووف صاحب!
میں نے ڈکشنری میں تلاش کیا تو مشاق کا مطلب یہ تھا :
کسی کام کی بہت مشق یا مہارت رکھنے والا، بہت مہارت رکھنے والا، ماہر، تجربہ کار، خوب واقف، آزمودہ کار
محمد عبدالرؤوف — مارچ 22، 2022 5:10 شام
بھائی عبدالرووف صاحب!
میں نے ڈکشنری میں تلاش کیا تو مشاق کا مطلب یہ تھا :
کسی کام کی بہت مشق یا مہارت رکھنے والا، بہت مہارت رکھنے والا، ماہر، تجربہ کار، خوب واقف، آزمودہ کار
میرے شتونگڑے پر شاید آپ نے غور نہیں کیا تھا 😊
خورشیداحمدخورشید — مارچ 22، 2022 5:15 شام
میرے شتونگڑے پر شاید آپ نے غور نہیں کیا تھا 😊
واقعی میں نے اب غور کیا ہے
:D
خورشیداحمدخورشید — اپریل 25، 2022 12:31 شام
کہاں وہ عشق کی منزل کہاں دلِ بے ہُنر
جو راہِ عشق ہے اُس کا فقط غبار ہوں میں
یہاں بے ہنر کی وجہ سے مصرع کچھ کمزور ہو رہا ہے کچھ اور لائیے اس کی جگہ ۔
ہے پاش پاش ہُوا خواہشوں کا تاج محل
دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں
یہ حصہ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ۔ ہوا کی جگہ مرے یا مرا کر دیں تو بہتر ہو جائے ۔
بنی عذاب ہیں ماضی کی یادیں میرے لیے
اسی لیے ہی تو خود سے ہوا فرار ہوں میں
اس میں یادیں کا لفظ اچھی طرح بیٹھ نہیں رہا ۔ دوبارہ کہیے اسے مثلاََ
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے ۔
فرار والا مصرع اگر چہ ٹھیک ہے مگر کچھ اور بہتر ہو سکتا ہے ۔
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمّد احسن سمیع :راحل: ، یاسر شاہ
محترم سید عاطف علی صاحب!
آپ کی ہدایات کی روشنی میں ترمیم شدہ غزل کچھ اضافے کے ساتھ حاضرِ خدمت ہے نظر ثانی کی درخوست کے ساتھ!

گلہ نہیں ہے کسی سے جو بے قرار ہوں میں
مرے نصیب میں رونا ہے اشکبار ہوں میں
کہاں وہ عشق کی منزل ترا فقیر کہاں یا کہاں وہ عشق کی منزل یہ بے ہنر ہے کہاں
جو راہِ عشق ہے اُس کا فقط غبار ہوں میں
ہے پاش پاش مرا خواہشوں کا تاج محل
دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں
بنا ہوں قیس تو کیوں پتھروں سے ڈر ہے مجھے
دو کشتیوں پہ بیک وقت ہی سوار ہوں میں
کبھی چرند پرند اور برگ و گل تھے یہاں
اجڑ گیا ہے چمن خالی خار زار ہوں میں
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
معاف کیجئے مجھ کو جو بادہ خوار ہوں میں
وفا کے بدلے ہمیشہ مجھے جفا ہی ملی
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا بیچ ریگ زار ہوں میں​
الف عین — اپریل 26، 2022 5:30 صبح
سید عاطف علی بھی اسے بغور دیکھ لیں، غزل کی پچھلی صورت پچھلے صفحے پر ہے، اور سامنے نہیں۔ تکنیکی غلطی تو کچھ نہیں، سوائے ایک سقم کے. مفہوم میں ہی مسائل ہین
گلہ نہیں ہے کسی سے جو بے قرار ہوں میں
مرے نصیب میں رونا ہے اشکبار ہوں میں
... ٹھیک
کہاں وہ عشق کی منزل ترا فقیر کہاں یا کہاں وہ عشق کی منزل یہ بے ہنر ہے کہاں
جو راہِ عشق ہے اُس کا فقط غبار ہوں میں
.. جوراہ عشق؟ اس کا پہلےمصرعے میں کوئی ذکر نہیں! "جو" کنفیوز کر رہی ہے
ہے پاش پاش مرا خواہشوں کا تاج محل
دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں
.... ٹھیک
بنا ہوں قیس تو کیوں پتھروں سے ڈر ہے مجھے
دو کشتیوں پہ بیک وقت ہی سوار ہوں میں
... کون سی دو کشتیاں؟
کبھی چرند پرند اور برگ و گل تھے یہاں
اجڑ گیا ہے چمن خالی خار زار ہوں میں
... خالی خارزار، روانی کے اعتبار سے اچھا نہیں، "اب تو" یا "صرف" سے
بدل دو
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
معاف کیجئے مجھ کو جو بادہ خوار ہوں میں
...دو لختی لگتی ہے
وفا کے بدلے ہمیشہ مجھے جفا ہی ملی
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
...یہ بھی دو لخت لگتا ہے
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا بیچ ریگ زار ہوں میں
..دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا، میں بیچ کیسے ہو سکتا ہوں؟
خورشیداحمدخورشید — اپریل 26، 2022 7:26 صبح
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا بیچ ریگ زار ہوں میں
..دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا، میں بیچ کیسے ہو سکتا ہوں؟
سر! یہ کیسا ہے؟
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا اور سوگوار ہوں میں
خورشیداحمدخورشید — اپریل 26، 2022 8:21 صبح
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
معاف کیجئے مجھ کو جو بادہ خوار ہوں میں
...دو لختی لگتی ہے
سر! یہ ٹھیک ہے؟
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
اسے بھلانے کی خاطر ہی بادہ خوار ہوں میں
خورشیداحمدخورشید — اپریل 26، 2022 8:26 صبح
وفا کے بدلے ہمیشہ مجھے جفا ہی ملی
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
...یہ بھی دو لخت لگتا ہے
سر! اب کیاسا ہے؟
وفا کے بدلے ہمیشہ ترے ظلم ہی سہے
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
سیما علی — اپریل 26، 2022 9:39 صبح
ہے پاش پاش ہُوا خواہشوں کا تاج محل
دیا جلے نہ کبھی جس پہ وہ مزار ہوں میں
بہت خوب
خورشید بھیا !!!!!بہترین 🌷🌷🌷🌷🌷
خورشیداحمدخورشید — اپریل 26، 2022 2:13 شام
بہت خوب
خورشید بھیا !!!!!بہترین 🌷🌷🌷🌷🌷
شکریہ سیماآپا! آپکی حوصلہ افزائی ہمیشہ میرے لکھنے کے شوق کو مہمیز کرتی ہیں۔
سیما علی — اپریل 26، 2022 4:04 شام
شکریہ سیماآپا! آپکی حوصلہ افزائی ہمیشہ میرے لکھنے کے شوق کو مہمیز کرتی ہیں۔
جیتے رہیے بہت ڈھیر ساری دعائیں 🥰
الف عین — اپریل 27، 2022 5:51 صبح
سر! یہ ٹھیک ہے؟
عذاب ہو گئی ماضی کی یاد میرے لیے
اسے بھلانے کی خاطر ہی بادہ خوار ہوں میں
ماضی کو بھلانے کے لئے یا ماضی کی یاد( یں) بھلانے کے لئے۔ماضی کوہی بھول جانا بہتر ہو گا
سر! اب کیاسا ہے؟
وفا کے بدلے ہمیشہ ترے ظلم ہی سہے
ترے ستم سے جو اجڑا ہے وہ دیار ہوں میں
اس سے تو پچھلا شعر ہی بہتر ہے۔
برادرم سید عاطف علی نے نہیں دیکھی دوبارہ؟
خورشیداحمدخورشید — اپریل 27، 2022 5:55 صبح
الف عین نے کہا:
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا بیچ ریگ زار ہوں میں
..دوسرا مصرع سمجھ نہیں سکا، میں بیچ کیسے ہو سکتا ہوں؟
الف عین
سر انہوں نے ابھی دوبارہ نہیں دیکھی۔
سر! یہ کیسا ہے؟
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا اور سوگوار ہوں میں
الف عین — اپریل 27، 2022 6:01 صبح
نالف عین
سر انہوں نے ابھی دوبارہ نہیں دیکھی۔
سر! یہ کیسا ہے؟
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا اور سوگوار ہوں میں
نہیں، مزا نہیں آیا، رفوگری طنزیہ کہا جا رہا ہے؟ سوگواری کی وجہ؟
خورشیداحمدخورشید — اپریل 27، 2022 6:42 صبح
نہیں، مزا نہیں آیا، رفوگری طنزیہ کہا جا رہا ہے؟ سوگواری کی وجہ؟
سر الف عین! اگر اس نے رفو گری کی ہوتی تو میں سوگوار نہ ہوتا ۔ اسی لیے کہا ہے کہ میں سوگوار ہوں۔
رفو گری کو دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے یعنی سینا اور تسلی دینا اس نے یہ دونوں نہیں کیے
الف عین — اپریل 28، 2022 3:38 صبح
سر الف عین! اگر اس نے رفو گری کی ہوتی تو میں سوگوار نہ ہوتا ۔ اسی لیے کہا ہے کہ میں سوگوار ہوں۔
رفو گری کو دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے یعنی سینا اور تسلی دینا اس نے یہ دونوں نہیں کیے
الفاظ رفوگری کا ہنر" سے تو یہ معلوم نہیں ہوتا
محمد عبدالرؤوف — اپریل 28، 2022 9:56 صبح
خورشید بھائی ایک مشورہ۔
عجب یہ بخیہ گری کی مرے رفو گر نے
قبا کے ساتھ ہوا اب کہ تار تار ہوں میں
خورشیداحمدخورشید — اپریل 28، 2022 1:42 شام
خورشید بھائی ایک مشورہ۔
عجب یہ بخیہ گری کی مرے رفو گر نے
قبا کے ساتھ ہوا اب کہ تار تار ہوں میں
بھائی جی اچھا مشورہ ہے ! اساتذہ بتا سکتے ہیں کہ بندہ بھی تارتار ہوسکتا ہے یا نہیں؟
خورشیداحمدخورشید — اپریل 28، 2022 1:49 شام
ملاحظہ کریں اس کی رفو گری کا ہنر
ہے تار تار قبا اور سوگوار ہوں میں
نہیں، مزا نہیں آیا، رفوگری طنزیہ کہا جا رہا ہے؟ سوگواری کی وجہ؟
سر @الف عین! اگر اس نے رفو گری کی ہوتی تو میں سوگوار نہ ہوتا ۔ اسی لیے کہا ہے کہ میں سوگوار ہوں۔
رفو گری کو دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے یعنی سینا اور تسلی دینا اس نے یہ دونوں نہیں کیے
الفاظ رفوگری کا ہنر" سے تو یہ معلوم نہیں ہوتا
سر الف عین ! نہایت ادب کے ساتھ گذارش ہے کہ مقصد تکرار نہیں شاید میں سمجھ نہیں پارہا کہ غلطی کیاہے۔ اس لیے دوبارہ عرض ہے کہ
اس کی رفو گری کا ہنر طنزیہ انداز میں ہے۔ جب میں سوگوار ہوں گا تبھی تو اس نے تسلی دینی ہے (یعنی رفو گری کرنی ہے) جو اس نے نہیں کی اور میں اب بھی سوگوار ہوں۔
اسی طرح جب قبا پھٹی ہوگی تو تب ہی اس نے سینی ہے (یعنی رفو کرنی ہے ) جو کہ اس نے نہیں سی تو اس لیے وہ تارتار ہے۔
یعنی دونوں معنوں میں اس نے رفو گری نہیں کی۔ تو طنزیہ انداز میں یہ اس کی رفو گری کا ہنر ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D9%84%DB%92-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D8%B3-%D9%BE%DB%81-%D9%88%DB%81-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.118256/page-2