نظم بھی تو اس صورت بنے گی جب اس پورے کلام کا کوئی ایک مضمون ہو۔ یہاں پر تو ہر شعر ایک الگ مضمون پیش کر رہا ہے۔
کیا موجودہ شکل میں شاعری کی کوئی بھی صنف ہو سکتی ہے؟
کیا موجودہ شکل میں شاعری کی کوئی بھی صنف ہو سکتی ہے؟
یہ تو مجھے علم نہیں ہے۔ بہرحال کسی نظم یا غزل میں جہاں جہاں پر بھی ان مضامین کی گنجائش ہوتی جائے آپ انہی میں ڈالتے جائیے۔
پہلے آپ نے جو مطلع کہا تھا اُس میں ایک گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرنا تھا۔ اب اس نئے مطلع میں "سخت زمانے" یعنی موجودہ وقت کی بات ہو رہی ہے۔ اور موجودہ وقت کو یاد تو نہیں کیا جاتا ہے۔
بھائی صاحب! آپ کی رائے محترم لیکن
قوافی پر تو شاید آپ متفق ہو گئے ہیں کہ غلط تھے
محترم عظیم صاحب! آپ کی رائے کو جب اساتذہ اہمیت دیتے ہیں تو پھر میں بھلا کیسے ان کو اہمیت نہیں دوں گا۔ جو بات میری سمجھ میں آجاتی ہے میں فوری طور پر عمل کرتا ہوں۔ اوپر آپ نے جو بھی رائے دی میں نے قبول کی سوائے قوافی والے مسئلے کے۔ کیونکہ میں اصول جاننا چاہتا تھا تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو۔ جب اصول کا پتہ چل گیا تو میں نے اپنے موقف سے رجوع کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ میں خود کو طالب علم سمجھتا ہوں اور کبھی بھی اس مغالطے کا شکار نہیں ہوا کہ میں سکہ بند شاعر ہوں۔ ہاں کبھی کبھی بحث اس لیے ہو جاتی ہے کہ آپ جیسے علم والوں سے کچھ سیکھ سکوں۔ امید ہے آپ آئندہ بھی راہنمائی کرتے رہیں گے۔
موضوع تو ہر شعر کا الگ الگ ہی لگتا ہے، نظم کس طرح بنے گی؟
بہت شکریہ سر! یہ مشق ہی سہی۔
سر ظہیر صاحب اور سرراحیل صاحب کے اقوال کو دیکھتے ہوئے پہلے میرا خیال تھا کہ شاید درج بالا مطلع صحیح نہیں ہے۔ آج ناصر کاظمی صاحب کی مشہور غزل دوبارہ سنی جو میٹرک یا ایف اے کی اردو کے سلیبس میں بھی شامل تھی جس کا مطلع ہے
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-16-%D8%AC%D9%88%D9%86-2023.119616/page-2