غزل - ( 2024 - 11 - 23 )

خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 9:14 صبح
غزل پیش ِخدمت ہے۔محترم اساتذہ کرام سے اصلاح کی درخواست ہے-
الف عین ، ظہیراحمدظہیر ، سید عاطف علی ، محمد احسن سمیع راحلؔ ، یاسر شاہ
زندگی کی تلخیوں میں اس پہ یوں آیا شباب
جس طرح مرجھا گیا ہو ادھ کھلا کوئی گلاب
فکرِ فردا میں پریشاں نو جواں ہیں اس طرح
اُڑ گئی ہے نیند ان کی کس طرح دیکھیں وہ خواب
لکھ رہی تقدیر ہے ہر دن فسانہ اک نیا
ہم سبھی کردار ہیں اور زندگی ہے اک کتاب
امر ہو جائیں گے دونوں قیس و لیلٰی کی طرح
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب
علم کی ہو روشنی کو دیکھنا تو دیکھ لو
آسمانِ علم پر مغرب میں روشن آفتاب
کیا زمانے کے مفکر کا تعارف ہے یہی؟
سُرخ آنکھیں، بال بکھرے اور ہاتھوں میں شراب​
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 11:17 صبح
معذرت : میں نے لیلٰی والے شعر میں تبدیلی کردی ہے۔
اربش علی — نومبر 23، 2024 12:01 شام
امر ہو جائیں گے دونوں قیس و لیلٰی کی طرح
امر کے م پر فتحہ ہے۔
اور امر ہونے کا اشارہ شاعر کی طرف ہے تو لفظ "دونوں" کا یہاں محل نہیں۔
قیسِ مجنوں کی طرح اک دن امر ہو جائیں گے
کیسا رہے گا؟
اربش علی — نومبر 23، 2024 12:04 شام
علم کی ہو روشنی کو دیکھنا تو دیکھ لو
یہ کیسا رہے گا؟
نورِ دانش دیکھنا مقدور ہو تو دیکھ لو
اربش علی — نومبر 23، 2024 12:07 شام
لکھ رہی تقدیر ہے ہر دن فسانہ اک نیا
روزِ نو افسانۂ دیگر سناتا ہے نصیب
کیسا رہے گا؟
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 12:40 شام
امر کے م پر فتحہ ہے۔
اور امر ہونے کا اشارہ شاعر کی طرف ہے تو لفظ "دونوں" کا یہاں محل نہیں۔
قیسِ مجنوں کی طرح اک دن امر ہو جائیں گے
کیسا رہے گا؟
بہت شکریہ جناب اربش علی صاحب! آپ کی اصلاح اور تجویز کا شکریہ۔ میں نے دوبارہ کوشش کی ہے الفاظ کی ترتیب بدل کر:
قیس و لیلٰی کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب​
اربش علی — نومبر 23، 2024 12:41 شام
بہت شکریہ جناب اربش علی صاحب! آپ کی اصلاح اور تجویز کا شکریہ۔ میں نے دوبارہ کوشش کی ہے الفاظ کی ترتیب بدل کر:
قیس و لیلیٰ کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب​
تو گویا یہاں دونوں سے مراد محب اور محبوب ہیں؟
اور یہاں اس لیے بھی تشویش ہوئی کہ اگر دونوں کا اشارہ شاعر اور محبوب کی طرف ہے، تو پہلے مصرعے میں دونوں کے لفظ کے بعد اگلے مصرعے میں "ہم" لانا مصرعین کو دو لخت کر رہا ہے۔ ہم اور دونوں ایک ساتھ آنے چاہییں۔
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 12:45 شام
یہ کیسا رہے گا؟
نورِ دانش دیکھنا مقدور ہو تو دیکھ لو
نورِ دانش دیکھنے کی استظاعت /حیثیت/قدرت/نصیب ہوتو دیکھ لو۔؟ کیا درست ہوگا؟
اربش علی — نومبر 23، 2024 12:47 شام
نورِ دانش دیکھنے کی استظاعت /حیثیت/قدرت/نصیب ہوتو دیکھ لو۔؟ کیا درست ہوگا؟
اوہو۔مقصود/ منظور /مطلوب لکھنا تھا، مقدور لکھ دیا غائب دماغی کی وجہ سے۔
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 1:06 شام
کیا اب درست ہے؟
قیس و لیلیٰ کی طرح اک دن امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب
اربش علی — نومبر 23، 2024 1:07 شام
کیا اب درست ہے؟

قیس و لیلیٰ کی طرح اک دن امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب​
جی، اب درست ہے۔
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 1:09 شام
تو گویا یہاں دونوں سے مراد محب اور محبوب ہیں؟
اور یہاں اس لیے بھی تشویش ہوئی کہ اگر دونوں کا اشارہ شاعر اور محبوب کی طرف ہے، تو پہلے مصرعے میں دونوں کے لفظ کے بعد اگلے مصرعے میں "ہم" لانا مصرعین کو دو لخت کر رہا ہے۔ ہم اور دونوں ایک ساتھ آنے چاہییں۔
قیس و لیلٰی کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
جب کتابِ عشق میں لکھیں گے زریں ایک باب​
خورشیداحمدخورشید — نومبر 23، 2024 1:14 شام
جانب اربش علی صاحب! ان میں سے کون سا شعر بہتر ہوگا؟
قیس و لیلیٰ کی طرح اک دن امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب
یا
قیس و لیلٰی کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
جب کتابِ عشق میں لکھیں گے زریں ایک باب​
اربش علی — نومبر 23، 2024 1:15 شام
قیس و لیلٰی کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
جب کتابِ عشق میں لکھیں گے زریں ایک باب​
یہاں ایک مسئلہ مجھے یہ لگ رہا ہے کہ "سنہری باب لکھ جانا" ایک محاورہ ہے، مگر یہاں "جب" اور "لکھیں گے" نے اسے ایک مسلسل فعل بنا دیا ہے جس کا نتیجہ امر ہو جانا ہے۔ جب کہ سنہری باب لکھنے کا عمل استمراری یا جاری نہیں ہوتا، اور نہ یہ کسی اور عمل کے متوازی چلتا ہے۔جب کوئی شخص ایک کارِ نمایاں کر جائے،تب اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک زریں باب لکھ گیا ہے۔
اربش علی — نومبر 23، 2024 1:15 شام
جانب اربش علی صاحب! ان میں سے کون سا شعر بہتر ہوگا؟
قیس و لیلیٰ کی طرح اک دن امَر ہو جائیں گے
ہم کتابِ عشق میں لکھ کر سنہرا ایک باب
یا
قیس و لیلٰی کی طرح دونوں امَر ہو جائیں گے
جب کتابِ عشق میں لکھیں گے زریں ایک باب​
پہلا شعر۔
خورشیداحمدخورشید — نومبر 30، 2024 5:54 صبح
سر الف عین صاحب! آپ کی رائے کا انتظار ہے۔
الف عین — نومبر 30، 2024 9:00 صبح
ان دونوں میں تو پہلا شعر ہی بہتر ہے، کہ ہم دونوں قیس و لیلی کی طرح مشہور ہو جائیں گے۔ لیکن یہاں ایک غلطی یہ محسوس ہوتی ہے کہ "ہم" دونوں کے لئے استعمال ہو رہا ہے، شاعر اور محبوب کے لئے بھی اور کتاب عشق کے مصنفین کے طور پر بھی (ویسے اپنے بارے میں تو ہر شخص تعریفوں کے قلابے ہی ملائے گا، دوسرے تاریخ عشق لکھیں تو اک بات ہے۔اگر کچھ اور سمجھ میں نہ آئے تو چلنے دو۔
باقی غزل بھی دیکھتا ہوں
الف عین — نومبر 30، 2024 10:44 صبح
لکھ رہی تقدیر ہے ہر دن فسانہ اک نیا
ہم سبھی کردار ہیں اور زندگی ہے اک کتاب
اربش میاں کی اصلاح بھی پسند نہیں آئی۔ افسانۂ دیگرچیزے دیگرے است!
ہر نئے دن اک نیا افسانہ لکھتا ہےنصیب
کیسا رہے گا؟ یہ یاد رکھو کہ نثر سے جتنا قریب ہو گا مصرع، اتنا رواں ہوتا ہے۔ "ہے لکھ رہی" کی جگہ لکھ رہی ہے بہتر نہیں لگتا؟
علم کی ہو روشنی کو دیکھنا تو دیکھ لو
آسمانِ علم پر مغرب میں روشن آفتاب
نور دانش بھی علم کی ہو.... سے بہتر تو ہےلیکن دوسرا مصرع مجھے عجیب لگا. سورج ہمیشہ
مغرب میں تو نہیں رہتا! اور مغرب مین سورج تو زوال کی علامت ہوتی ہے!
اس شعر کو نکالنا ہی بہتر ہے
خورشیداحمدخورشید — دسمبر 7، 2024 10:48 صبح
لکھ رہی تقدیر ہے ہر دن فسانہ اک نیا
ہم سبھی کردار ہیں اور زندگی ہے اک کتاب

اربش میاں کی اصلاح بھی پسند نہیں آئی۔ افسانۂ دیگرچیزے دیگرے است!
ہر نئے دن اک نیا افسانہ لکھتا ہےنصیب
کیسا رہے گا؟ یہ یاد رکھو کہ نثر سے جتنا قریب ہو گا مصرع، اتنا رواں ہوتا ہے۔ "ہے لکھ رہی" کی جگہ لکھ رہی ہے بہتر نہیں لگتا؟
استادِ محترم جناب الف عین صاحب! آپ کی تجویز بہتر ہے۔
ہر نئے دن اک نیا افسانہ لکھتا ہےنصیب
ہم سبھی کردار ہیں اور زندگی ہے اک کتاب
علم کی ہو روشنی کو دیکھنا تو دیکھ لو
آسمانِ علم پر مغرب میں روشن آفتاب

نور دانش بھی علم کی ہو.... سے بہتر تو ہےلیکن دوسرا مصرع مجھے عجیب لگا. سورج ہمیشہ
مغرب میں تو نہیں رہتا! اور مغرب مین سورج تو زوال کی علامت ہوتی ہے!
اس شعر کو نکالنا ہی بہتر ہے
جناب اربش علی صاحب کی تجویز اور آپ کی رائےکے مطابق
نورِ دانش آج ہو گر دیکھنا تو دیکھ لو
آسمانِ علم پر مغرب میں روشن آفتاب
آج اگر علم کی روشنی کو دیکھنا ہو تو مغربی دنیا میں علم کےآسمان پر چمکتا سورج دیکھ لو۔
ہاں کل کو یہ سورج مشرق میں بھی ہو سکتا ہے ۔
الف عین — دسمبر 8، 2024 4:12 صبح
نورِ دانش آج ہو گر دیکھنا تو دیکھ لو
نور دانش دیکھنا ہو آج اگر تو دیکھ لو
"آج ہو گر دیکھنا" عدم روانی کا شکار ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-2024-11-23.121127/