قبلہ آسی صاحب۔ اب پتا چل رہا ہے کہ علوم قافیہ و عروض میں اس قدر سخت حدود بندیاں ہیں کہ مجھ جیسا بچونگڑا متشاعر کیا، سخن کے بڑے بڑے نامی گرامی پیر پہلوانوں کیبھی غلطیاں نکلنا کوئی بڑئی بڑی بات نہیں۔ رضا صاحب اچھا اور گہرا علم رکھنے والے بندے ہیں اور کسی چلتی پھرتی قافیہ ساز فیکٹری سے کم نہیں ہیں۔لیکن وہ قافیہ کے بارے مارشل لا جیسے جو سخت اصول و قوائد بتا رہے ہیں ، ان سے لگتا ہے کہ یقینی طور پر ناصر کاظمی، فراز اور فیض کے قافیوں میں بھی ان حدود سے تجاوز غلطیاں نکلیں گی۔ صاحب میں تو غزل کے 20 اشعار لکھ کر واپس مطلع پر آن اڑا ہوں۔
محترم یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جتنے بھی مستند یا استاد شعراء ہیں وہ قافیے کے مروجہ قوانین سے انحراف کرتے نہیں پائے جاتے. شروع شروع میں ہمیں بھی عروض کی پابندیاں زہر لگتی تھیں کہ تخیل کو سنبھالیں کہ وزن کو. پھر آسی صاحب کا اللہ بھلا کرے ان سے اور سر الف عین سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا. رفتہ رفتہ بہتری آتی گئی اور یہ سفر جاری ہے الحمدللہ. اسی طرح قافیے کی باریکیاں بھی حل ہو جائیں گی. آپ کے لیے کچھ معلومات نئی ہیں اس لیے سخت لگ رہی ہوں گی رفتہ رفتہ آپ بھی عادی ہو جایں گے. پہلے میں پورے پورے دیوان لکھ لیتا تھا کچھ دن میں اب ایک مصرع بھی مشکل سے ہوتا ہے کہ سر آسی صاحب و سر الف عین کی کمال نکتہ آفرینایاں سن سن کر ایسی خود تنقیدی کی عادت ہوگئی ہے کہ بہت کچھ کاٹنا پیٹنا پڑ جاتا ہے
چھوٹا منہ بڑی بات: (میری اپنی بات)بات نری علمائے عروض کے رویوں کی نہیں، ہمارے روایتی علم عروض کی طرح علم قافیہ میں بھی بنیاد تو عربی اور دوسرے درجے میں فارسی قواعد ہی رہے۔ اردو میں اور ان دونوں زبانوں میں جہاں بے شمار شراکتیں ہیں، وہاں بہت سارے افتراق بھی ہیں۔
فارسی کا صوتیاتی نظام اپنا ہے، عربی کا اپنا ہے، اردو کا اپنا ہے، مگر خیر! یہ دوسرا موضوع چل نکلے گا۔
اردو کو بہت سارے مقامات پر لچک چاہئے ہوتی ہے۔
مگر اسے پتہ نہیں کیا کہئے گا کہ مذکورہ قواعد کو اختیار اور مرتب کرنے میں ان افتراقات کو درخورِ اعتناء نہیں جانا گیا۔
اگرچہ روایت کی گرفت بہت سخت ہے تاہم اس فقیر نے کوشش کی ہے کہ علمِ قافیہ کو ممکنہ حد تک آسان فہم بنایا جائے اور اردو کے تقاضوں کو بجا اہمیت دی جائے۔
میری کاوش دیکھئے گا ضرور! منظور و نامنظور آپ کے ذوق پر ہے۔ یاد رہے کہ اس فقیر پر عروض کے معاملے میں بغاوت کا الزام پہلے سے موجود ہے، چلئے ایک اور سہی!