ابن رضا — جولائی 26، 2016 6:15 شام
میں کی ی تو اکثر دبائی جاتی ہے.
میں کو استثنیٰ ہے
قمر عسکری — جولائی 27، 2016 5:16 صبح
برائے مہربانی درج ذیل الفاظ کے بارے میں بھی بتا دیں
ہیں
نہیں
میں "ذات کے معنوں میں"
میں "اندر کے معنوں میں"
کہیں
وہیں وغیرہ
الف عین — جولائی 27، 2016 5:40 صبح
باقی وضاحتیں تو دی جا چکی ہیں ۔ مَیں بطور ذات میں جائز تو مانا جاتا ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ باقی میں جائز ہے ی کا اسقاط۔
قمر عسکری — جولائی 27، 2016 5:43 صبح
باقی وضاحتیں تو دی جا چکی ہیں ۔ مَیں بطور ذات میں جائز تو مانا جاتا ہے لیکن پسندیدہ نہیں۔ باقی میں جائز ہے ی کا اسقاط۔
بہت شکریہ علم میں اضافہ کرنے کیلئے۔
محمد وارث — جولائی 27، 2016 6:35 صبح
اس کے علاوہ اور بھی ہندی الفاظ ہیں جن میں نون غنہ سے پہلے والے حروف علت کو گرایا جا سکتا ہے جیسے، آنکھوں، اس کو فاع باندھنا بھی ٹھیک ہے۔
محمد وارث — جولائی 27، 2016 6:36 صبح
برائے مہربانی درج ذیل الفاظ کے بارے میں بھی بتا دیں
ہیں
نہیں
میں "ذات کے معنوں میں"
میں "اندر کے معنوں میں"
کہیں
وہیں وغیرہ
ان الفاظ میں بھی نون غنہ سے پہلے والے حروفِ علت گرائے جا سکتے ہیں۔
قمر عسکری — جولائی 27، 2016 6:46 صبح
ان الفاظ میں بھی نون غنہ سے پہلے والے حروفِ علت گرائے جا سکتے ہیں۔
بہت بہت شکریہ۔ لیکن کیا ایسا کوئی قانون ہے جس سے ہم کسی بھی لفظ کو دیکھ کر جان جائیں کہ ں سے پہلا حرف گرایا جا سکتا ہے یا پھر ہمیں ان لفظ بہ لفظ ہی جاننا ہو گا؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
اور میں نے اپنی ایک شعر میں "سکوں" کا وزن 11 لیا ہے کیا یہ صحیح ہے یا یہاں ہم و نہیں گرایا سکتے؟ نوازش
محمد وارث — جولائی 27، 2016 6:48 صبح
بہت بہت شکریہ۔ لیکن کیا ایسا کوئی قانون ہے جس سے ہم کسی بھی لفظ کو دیکھ کر جان جائیں کہ ں سے پہلا حرف گرایا جا سکتا ہے یا پھر ہمیں ان لفظ بہ لفظ ہی جاننا ہو گا؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
اور میں نے اپنی ایک شعر میں "سکوں" کا وزن 11 لیا ہے کیا یہ صحیح ہے یا یہاں ہم و نہیں گرایا سکتے؟ نوازش
عام طور پر ہندی الفاظ کے آخر میں سے حروفِ علت گرائے جاتے ہیں، عربی اور فارسی الفاظ کے لیے یہ ممنوع ہے۔ سکون عربی لفظ ہے سو اس کا واؤ گرانا درست نہیں۔
قمر عسکری — جولائی 27، 2016 6:51 صبح
عام طور پر ہندی الفاظ کے آخر میں سے حروفِ علت گرائے جاتے ہیں، عربی اور فارسی الفاظ کے لیے یہ ممنوع ہے۔ سکون عربی لفظ ہے سو اس کا واؤ گرانا درست نہیں۔
بہت شکریہ قیمتی وقت دینے کیلئے۔ جزاک اللہ
نوید خان — جولائی 27، 2016 7:19 صبح
نون غنہ سے پچھلا حرف نہیں گرایا جاسکتا اس سے لفظ کی ادائیگی متاثر ہوتی ہے
ابن رضا بھائی کیا لفظ کانٹوں میں "و" کو گرایا جا سکتا ہے؟ یا یہاں بھی یہی اصول لگے گا۔
قمر عسکری — جولائی 27، 2016 7:32 صبح
ابن رضا بھائی کیا لفظ کانٹوں میں "و" کو گرایا جا سکتا ہے؟ یا یہاں بھی یہی اصول لگے گا۔
جو قانون
محمد وارث صاحب نے وضع کیا ہے اس کے تحت تو و دبایا جا سکتا ہے کیونکہ کانٹا ہندی لفظ ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 27، 2016 2:29 شام
یہ تو کوئی اور ہیں۔ شاید ظہیر بھائی نے بیچ میں اسپیس نہیں چھوڑی۔
شکیب احمد بھائی ، ابھی دوتین روز پہلے ہی تو آپ سے اس موضوع پر مکالمے میں گفتگو ہوئی ہے۔ اگر آپ پسند فرمائیں تو اُس گفتگو کو من وعن یہاں نقل کردیں یا پھر اس کی تدوین کرکے متعلقہ نکات یہاں پوسٹ کردیں ۔ ویسے اس کے علاوہ بھی ایطاء پر کئی اور جگہ بات ہوچکی ہے ۔ کوئی دوست ضرور نشاندہی کردے گا۔

محمد ریحان قریشی — جولائی 27، 2016 3:57 شام
بیاں اور عیاں کے قوافی میں حرف روی نون غنہ ہے اور الف ردف ہے۔
اور انھی دو کا اختلاف جائز نہیں۔ ی حروفِ قافیہ میں سے کسی کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتا۔ یعنی علمِ قافیہ کی رو سے ان دونوں قوافی میں کوئی عیب نہیں ہے ہے ، چاہے بعد میں خزاں اور نہاں جیسے قوافی ہی کیوں نہ استعمال کیے جائیں۔
ایسے حروف کے لیے بھی نام تجویز کرنے کی ضرورت ہے۔