مانا کہ اعتبار کے قابل نہیں ہوں میں ۔۔۔ برائے اصلاح۔۔۔

محمد یعقوب آسی — جون 14، 2013 3:40 شام
’’چٹکیاں کاٹنے‘‘ سے ہونے والی محبت پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔۔۔ (جملہ معترضہ)۔۔
ترتیب بدل دی آپ نے بس! اور کچھ نہیں۔
ٓ
شاہد شاہنواز — جون 14، 2013 8:13 شام
آج سے عشق کی تاریخ بدل جائے گی۔۔ ۔
آئینہ لاؤ، مجھے دیکھ رہا ہے کوئی!!
(مولانا انجم فوقی بدایونی)
برمحل بھی ہوسکتا ہے۔۔ بے محل بھی ۔۔۔
منیر انور — جون 15، 2013 9:59 صبح
منیر انور بھائی ! یہ کسر نفسی ہی عظیم لوگوں کا خاصہ ہے، اور ان کی پہچان ہے ۔ یہ ایک لٹمس ٹسٹ ہے۔ آپ ہماری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ فخر و غرور کبھی عظیم لوگوں کی پہچان نہیں رہا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت عمدہ کہا جناب محمد خلیل الرحمٰن ۔۔ متفق
محمد یعقوب آسی — جون 15، 2013 3:45 شام
آج سے عشق کی تاریخ بدل جائے گی۔۔ ۔
آئینہ لاؤ، مجھے دیکھ رہا ہے کوئی!!
(مولانا انجم فوقی بدایونی)
برمحل بھی ہوسکتا ہے۔۔ بے محل بھی ۔۔۔

ہم فقیر لوگ ہیں جناب، ہمیں محلوں اور قلعوں سے کیا لینا دینا!۔
ویسے شعر کا انتخاب بہت عمدہ ہے۔ مزہ دے گیا
الف عین — جون 16، 2013 7:34 صبح
بہت خوب شاہد شاہنواز،
یہ اکثر لکھتا ہوں کہ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات بحر میں اکثر لوگ مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن یا فعولان میں اکثر لوگ کنفیوز کرتے ہیں۔ یہی غلط فہمی تم کو بھی رہی شاید
محمد یعقوب آسی — جون 16، 2013 7:04 شام
بہت خوب شاہد شاہنواز،
یہ اکثر لکھتا ہوں کہ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات بحر میں اکثر لوگ مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن یا فعولان میں اکثر لوگ کنفیوز کرتے ہیں۔ یہی غلط فہمی تم کو بھی رہی شاید

آپ کا مشاہدہ بہت درست ہے جناب الف عین صاحب۔
ان دونوں بحروں میں بہت سے احباب کو اِشکال ہو جاتا ہے۔
شاہد شاہنواز — جون 17، 2013 3:13 شام
بلا شبہ ۔۔۔ لیکن ابھی تک اس غزل کے مطلعے کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔۔۔ بس کچھ چھوٹے اور موٹے کاموں سے فارغ ہو کر اس کی طرف توجہ کروں گا۔۔۔
سید عاطف علی — ستمبر 12، 2013 8:49 صبح
اجی صاحب! اس فقیر اور منیر انور صاحب میں چُٹکیاں کاٹنے کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے۔ ’’نہ وہ باز آئیں نہ ہم باز آئیں‘‘
ان کی محبتوں کا اسیر ہوں۔
دو مرتبہ ہونے کی وجہ سے حذف کیا گیا ۔
سید عاطف علی — ستمبر 12، 2013 8:50 صبح
اجی صاحب! اس فقیر اور منیر انور صاحب میں چُٹکیاں کاٹنے کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے۔ ’’نہ وہ باز آئیں نہ ہم باز آئیں‘‘
ان کی محبتوں کا اسیر ہوں۔
بہت دلچسپ اور پر لطف نکات سمٹے نظر آئے اس گفتگو میں بہت مزا بھی آیا ۔۔۔محترم احباب سے ایک استفسار ہے۔۔۔۔عموما" لوگ کثرت سے غلطی کے ساتھ لگنا اور چٹکی کے ساتھ کاٹنا استعمال کر تے ہیں۔مجھےذاتہ طور پر یہ درست محسوس نہیں ہوتا اور بہت نا مانوس لگتا ہے ۔۔۔۔ میرے خیال میں با محاورہ گفتگو میں غلطی کے ساتھ کرنا یا ہونا ۔۔۔اور۔۔۔ چٹکی کے ساتھ بھرنا یا لینا کا استعمال صحیح ہوتا ہے ۔ شرکاء کی رائے اہم ہو گی۔
محمد یعقوب آسی محمد خلیل الرحمٰن اور دیگر شرکاء
محمد یعقوب آسی — ستمبر 12، 2013 9:43 صبح
بہت دلچسپ اور پر لطف نکات سمٹے نظر آئے اس گفتگو میں بہت مزا بھی آیا ۔۔۔ محترم احباب سے ایک استفسار ہے۔۔۔ ۔عموما" لوگ کثرت سے غلطی کے ساتھ لگنا اور چٹکی کے ساتھ کاٹنا استعمال کر تے ہیں۔مجھےذاتہ طور پر یہ درست محسوس نہیں ہوتا اور بہت نا مانوس لگتا ہے ۔۔۔ ۔ میرے خیال میں با محاورہ گفتگو میں غلطی کے ساتھ کرنا یا ہونا ۔۔۔ اور۔۔۔ چٹکی کے ساتھ بھرنا یا لینا کا استعمال صحیح ہوتا ہے ۔ شرکاء کی رائے اہم ہو گی۔
محمد یعقوب آسی محمد خلیل الرحمٰن اور دیگر شرکاء

آپ کا خیال درست لگتا ہے۔
اصولی طور پر تو محاوروں میں متعینہ الفاظ ہی آنے چاہئیں، اب اس کا کیا کیجئے کہ سب محاورے حرف بحرف یاد نہیں رہتے اور ہم اپنی اپج کے مطابق لفظ لگا دیتے ہیں۔
کسی مستند کتاب سے دیکھ لیجئے ، ہمیں بھی بتا دیجئے گا۔ یا پھر کسی ’’اہلِ زبان‘‘ سے پوچھ لیتے ہیں؛ مثلاً فاتح صاحب سے، فارقلیط رحمانی صاحب سے۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 12، 2013 9:50 صبح
’’چٹکیاں کاٹنے‘‘ سے ہونے والی محبت پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔۔۔ (جملہ معترضہ)۔۔
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
یہ مت پوچھئے گا کہ یہاں ’’چیز‘‘ سے کیا مراد ہے، نہیں تو منیر انور صاحب ناراض بھی ہو سکتے ہیں، اور وہ بھی مجھ سے۔
شاہد شاہنواز — ستمبر 13، 2013 11:04 صبح
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
یہ مت پوچھئے گا کہ یہاں ’’چیز‘‘ سے کیا مراد ہے، نہیں تو منیر انور صاحب ناراض بھی ہو سکتے ہیں، اور وہ بھی مجھ سے۔
نہیں پوچھتے ۔۔۔ لیکن اس سے یہ مت مراد لے لیجئے گا کہ ہمیں آپ کی بات سمجھ میں آگئی ہے۔۔۔
آپ کا خیال درست لگتا ہے۔
اصولی طور پر تو محاوروں میں متعینہ الفاظ ہی آنے چاہئیں، اب اس کا کیا کیجئے کہ سب محاورے حرف بحرف یاد نہیں رہتے اور ہم اپنی اپج کے مطابق لفظ لگا دیتے ہیں۔
کسی مستند کتاب سے دیکھ لیجئے ، ہمیں بھی بتا دیجئے گا۔ یا پھر کسی ’’اہلِ زبان‘‘ سے پوچھ لیتے ہیں؛ مثلاً فاتح صاحب سے، فارقلیط رحمانی صاحب سے۔
کاٹی جائیں، لی جائیں یا بھری جائیں، ہیں تو چٹکیاں ہی، تاہم اس بات پر اتفاق کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ چٹکیاں کاٹنا محاورہ نہیں ۔۔۔
بھرنا اور لینا دونوں ہی درست ہیں۔۔۔ جہاں تک میرا خیال ہے۔۔۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 13، 2013 12:19 شام
نہیں پوچھتے ۔۔۔ لیکن اس سے یہ مت مراد لے لیجئے گا کہ ہمیں آپ کی بات سمجھ میں آگئی ہے۔۔۔
منیر انور صاحب کی سمجھ میں آ گئی ہے! :bee:
کاٹی جائیں، لی جائیں یا بھری جائیں، ہیں تو چٹکیاں ہی، تاہم اس بات پر اتفاق کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ چٹکیاں کاٹنا محاورہ نہیں ۔۔۔
بھرنا اور لینا دونوں ہی درست ہیں۔۔۔ جہاں تک میرا خیال ہے۔۔۔
سرِ تسلیم خم ہے :flower:
دل چسپ!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94%DB%94%DB%94.64856/page-2