محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے

ابن رضا — فروری 1، 2014 3:32 شام
جزا کے دن رضا تجھ کو یہی آ کر بچائیں گے
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں

اللہ کرے اور بھی زورِسخن زیادہ
جزاک اللہ:)
ابن رضا — فروری 2، 2014 9:07 صبح
"یہ ہی" کچھ ثقالت پیدا نہیں کر رہا کیا؟
جزا کے دن رضا تجھ کو یہی آ کر بچائیں گے
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں

دوسرا مصرع بہت مضبوط ہے۔ پلے مصرعے میں اشکوں کی رعایت سے رحمت کا مذکور ہو جائے تو شعر بہت بلند ہو سکتا ہے۔ مزید اگر "چمکائیں" کی جگہ "جگمگائیں" ہو سکے تو سونے پر سہاگا۔ جھلملاتے سے صوتی رعایت بھی بنتی ہے۔
استادِ محترم یہ مصرع ملاحظہ فرمائیں
"سرِ محشر تری قسمت کو بخشیں گے یہ تابانی"
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 2، 2014 9:09 صبح
شاعر کا نام ۔۔۔ غائب۔۔۔
ابن رضا — فروری 2، 2014 9:11 صبح
شاعر کا نام ۔۔۔ غائب۔۔۔
کرنا پڑرہا ہے کہ مدعا اسی طرح بیاں ہو سکتا ہے:(
ابن رضا — فروری 2، 2014 9:12 صبح
شاعر کا نام ۔۔۔ غائب۔۔۔
"سرِ محشر رضاقسمت کو بخشیں گے یہ تابانی"
محمد یعقوب آسی — فروری 2، 2014 11:22 صبح
شاعر کا نام ۔۔۔ غائب۔۔۔
یہ کچھ ایسا لازمی بھی تو نہیں۔ آ جائے تو اچھا ہے، نہ بھی آئے تو کیا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%AF%D8%B1-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D8%AD%D9%82-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%92.71714/page-2