محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 31، 2014 10:12 صبح
دوسرا مصرع ٹھیک نہیں لگ رہا ۔پہلا ٹھیک ہے۔
اوروں کا پہلا واؤ گرایا جارہا ہے۔
سید عاطف علی — مارچ 31، 2014 10:35 صبح
لیکن اس طرح مصرع مجموعی طور پر بہت بے ہنگم سا لگ رہا ہے(شاید صرف مجھے)۔خواہ اوروں کاپہلا و گرایا جائے خواہ دوسرا۔
اگر میں صحیح سمجھا تا ودوسرا و گرانے سے مفعول فاعلاتن۔بن جاتا ہے جو اس بحر سے کمپیٹبل لگتا ہے۔لیکن میرے کیال میں اوروں کو فعلن ہی باندھا جانا چاہیے۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 31، 2014 11:28 صبح
لیکن اس طرح مصرع مجموعی طور پر بہت بے ہنگم سا لگ رہا ہے(شاید صرف مجھے)۔خواہ اوروں کاپہلا و گرایا جائے خواہ دوسرا۔
اگر میں صحیح سمجھا تا ودوسرا و گرانے سے مفعول فاعلاتن۔بن جاتا ہے جو اس بحر سے کمپیٹبل لگتا ہے۔لیکن میرے کیال میں اوروں کو فعلن ہی باندھا جانا چاہیے۔
بے ہنگم تو ہے ، ایک تو اوروں کا پہلا واؤ گرنے کی وجہ سے اور دوسرا ردیف میں ”کیے“ کی ے اسقاط بھی عجیب لگ رہا ہے اور تیسری بات مفعول مفاعیلن پر فقرہ مکمل ہونا چاہیے، کوئی ترکیب ادھوری نہیں رہنی چاہیے ، جبکہ مصرع ثانی میں لفظ دو ٹکڑوں میں بٹ رہا ہے۔
الف عین — اپریل 2، 2014 2:33 صبح
رہ کا قافی گنہ، کنہ وغیرہ تو ہو سکتا ہے، وا جا بجا نہیں