الف عین — دسمبر 19، 2016 5:36 صبح
استاذ محترم شکریہ رائے دینے کا۔۔۔ ایک دو اشعار پر کچھ تجویز دیجئے میں اس کو گیارہ یا تیرہ ماتراوں میں ڈھال سکوں ۔۔۔
پہلا ہی لو:
احمد فلک کا نور ہیں ، چاند سبھی تاروں کے
تقسیم رحمت ہوتی ہے ان کے ہی اشاروں سے
۔تاروں کے اور اشاروں سے، ردیف کیا ہو گی اس دوہے کی؟ اس سے قطع نظر
آپؐ فلک کا نور ہیں، چاند۔ ستاروں کے
تقسیمِ رحمت ہوئی، انؐ کے اشاروں ۔۔۔
نور وجدان — دسمبر 19، 2016 1:56 شام
پہلا ہی لو:
احمد فلک کا نور ہیں ، چاند سبھی تاروں کے
تقسیم رحمت ہوتی ہے ان کے ہی اشاروں سے
۔تاروں کے اور اشاروں سے، ردیف کیا ہو گی اس دوہے کی؟ اس سے قطع نظر
آپؐ فلک کا نور ہیں، چاند۔ ستاروں کے
تقسیمِ رحمت ہوئی، انؐ کے اشاروں ۔۔۔
یہ اشعار ردیف کے بغیر ہیں ۔۔ایک سے زائد قوافی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے لکھے کہ کے اور سے بھی اگر قافیے شمار کرلیے جائیں ۔ ۔۔
ان کے اشاروں 'پے ' --'سے ' کہنے میں کیا چیز مانع ہورہی ہے؟
الف عین — دسمبر 21، 2016 4:39 صبح
یہ اشعار ردیف کے بغیر ہیں ۔۔ایک سے زائد قوافی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے لکھے کہ کے اور سے بھی اگر قافیے شمار کرلیے جائیں ۔ ۔۔
ان کے اشاروں 'پے ' --'سے ' کہنے میں کیا چیز مانع ہورہی ہے؟
’تاروں‘ اور ’اشاروں‘ سے قوافی کا احساس ہوتا ہے، اور قافیہ کے بعد ردیف ’کے‘ یا ’سے‘ لیکن اگر قوافی ہی ’کے‘ اور ’سے‘ ہوں تو بہتر ہو کہ ں اشاروں کو بھی بدل دیا جائے۔
لیکن یہ اس شرط میں کہ جب اوزان درست ہو جائیں۔
نور وجدان — دسمبر 21، 2016 2:03 شام
اس کو وزن میں ڈھالنے سے پہلے ایک سوال پوچھنا چاہوں گی ۔۔۔ماترائیں کیا ہوتی ہیں اور ان کو کیسے شمار کرتے ہیں کہ یہ تیرہ ہیں یا گیارہ ۔۔۔ دوہا کی ایک ہی بحر مستعمل ہے جو آپ نے بتائی ہے ، اس کےسوا اور کوئی نہیں ؟