محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 8:43 صبح
غزل پیش خدمت ہے:
مثلِ زلفِ شبِ امید بکھر کر دیکھوں
عشق کی آخری سر حد سے گزر کر دیکھوں
تیرے ہونٹوں پہ کئی بار عبادت کی ہے
اب کہ محرابِ دل و جاں میں اتر کر دیکھوں
کب تلک رسمِ تکلف کو رکھے گا جاری
اذنِ مژگاں دے، تجھے بانہوں میں بھر کر دیکھوں
تیرے سینے کی برافروختہ گہرائی میں
تیری سانسوں کے سہارے سے اتر کر دیکھوں
لوگ کہتے ہیں وہاں خامشی طاری ہے بہت
شہرِ آسیؔ میں ذرا شور و شرر کر دیکھوں
ارتضیٰ الآسیؔ
محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 8:51 صبح
سنا ہے شہر محفل میں اساتذہ کے طور پر
محمد وارث،
الف عین، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔۔۔ ہم پر بھی نظر تنقید ہو!
فارقلیط رحمانی — مارچ 9، 2013 9:06 صبح
واہ!
واہ!! واہ!!!
"مثلِ زُلفِ شبِ اُمید"،
"محرابِ دل و جاں میں اُتر کر دیکھنا"
اور
’’اِذنِ مژگاں‘‘ کا جواب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب !!!
اللہ کرے زورِ سخن اور زِیادہ۔۔۔
فارقلیط رحمانی — مارچ 9، 2013 9:09 صبح
یہ تو اپنی اپنی پسند اور اپنی اپنی سوچ ہے۔
اور سب کچھ تو بہت اچھا لگا
لیکن سانسوں کے سہارے اُترنا
اور وہ بھی سینہ کی برافروختہ گہرائی میں۔۔
بہت زیادہ مزہ نہیں آیا۔۔۔ایک آنچ کی کمی رہ گئی، شاید۔۔۔چاشنی میں ایک تار کم ہے، شاید۔۔۔
متلاشی — مارچ 9، 2013 9:13 صبح
بہت خوب۔۔۔!
فاتح — مارچ 9، 2013 9:40 صبح
بہت خوب پہلے مصرع سے ہی ایک زبردست غزل ۔۔۔
مثلِ زلفِ شبِ امّید بکھر کر دیکھوں
واہ واہ
محمد اظہر نذیر — مارچ 9، 2013 10:28 صبح
واہ واہ واہ
محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 10:54 صبح
یہ تو اپنی اپنی پسند اور اپنی اپنی سوچ ہے۔
اور سب کچھ تو بہت اچھا لگا
لیکن سانسوں کے سہارے اُترنا
اور وہ بھی سینہ کی برافروختہ گہرائی میں۔۔
بہت زیادہ مزہ نہیں آیا۔۔۔ ایک آنچ کی کمی رہ گئی، شاید۔۔۔ چاشنی میں ایک تار کم ہے، شاید۔۔۔
جناب تو جائے گزین مصرع بھی خود ہی عنایت فرما دیجے۔۔۔
محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 10:56 صبح
بہت خوب پہلے مصرع سے ہی ایک زبردست غزل ۔۔۔
مثلِ زلفِ شبِ امّید بکھر کر دیکھوں
واہ واہ
بہت نوازش ہے میاں۔۔ پر یہ اصلاح سخن کا دھاگہ معلوم ہوتا ہے۔۔ یہاں کم از کم ہماری نگاہ میں تو داد و تحسین روا نہیں۔۔ ہم یہاں اصلاح کی غرض سے آئے ہیں سو وہ ہی لے کر پلٹیں گے۔
محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 10:56 صبح
اس غزل کے بارے اپنی آرا سے بھی نواز دیجے۔۔۔ اس طرح سر میں واہ واہ تو ہم خود اکیلے میں بھی گا سکتے تھے۔
فاتح — مارچ 9، 2013 10:57 صبح
بہت نوازش ہے میاں۔۔ پر یہ اصلاح سخن کا دھاگہ معلوم ہوتا ہے۔۔ یہاں کم از کم ہماری نگاہ میں تو داد و تحسین روا نہیں۔۔ ہم یہاں اصلاح کی غرض سے آئے ہیں سو وہ ہی لے کر پلٹیں گے۔
جیسے آپ کی خوشی

محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 10:58 صبح
جیسے آپ کی خوشی
محض ہماری خوشی سے کیا بر آتا ہے حضرت آپ جب کچھ عنایت ہی نہیں کر رہے۔۔ آپ کاندھے خالی دے کر بھاگے چلے جا رہے ہیں۔۔۔
فاتح — مارچ 9، 2013 11:00 صبح
محض ہماری خوشی سے کیا بر آتا ہے حضرت آپ جب کچھ عنایت ہی نہیں کر رہے۔۔ آپ کاندھے خالی دے کر بھاگے چلے جا رہے ہیں۔۔۔
ہماری کیا اوقات کہ ایسے عمدہ کلام کی اصلاح کر سکیں۔۔۔ ہمیں تو یہ غزل واقعی پسند آئی تھی اور وہی عرض کیا۔
مہدی نقوی حجاز — مارچ 9، 2013 11:22 صبح
بہت ہی زبردست غزل ہے۔
پردیسی — مارچ 9، 2013 12:06 شام
سنا ہے شہر محفل میں اساتذہ کے طور پر
محمد وارث،
الف عین،
وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔۔۔ ہم پر بھی نظر تنقید ہو!
بہت خوب پہلے مصرع سے ہی ایک زبردست غزل ۔۔۔
مثلِ زلفِ شبِ امّید بکھر کر دیکھوں
واہ واہ
بہت نوازش ہے میاں۔۔ پر یہ اصلاح سخن کا دھاگہ معلوم ہوتا ہے۔۔ یہاں کم از کم ہماری نگاہ میں تو داد و تحسین روا نہیں۔۔ ہم یہاں اصلاح کی غرض سے آئے ہیں سو وہ ہی لے کر پلٹیں گے۔
آپ نے اصلاح کی بات کی ہے تو میاں ہماری صلاح ہے کہ اور محنت کیجئے
مہدی نقوی حجاز — مارچ 9، 2013 12:16 شام
آپ نے اصلاح کی بات کی ہے تو میاں ہماری صلاح ہے کہ اور محنت کیجئے
جناب پردیسی صاحب۔۔۔ موقف واضح فرمائیں گے آپ؟؟ در اصل اتنی ظریفانہ باتیں ہماری سمجھ سے بالا رہتی ہیں۔۔
فارقلیط رحمانی — مارچ 9، 2013 4:46 شام
بہت نوازش ہے میاں۔۔ پر یہ اصلاح سخن کا دھاگہ معلوم ہوتا ہے۔۔ یہاں کم از کم ہماری نگاہ میں تو داد و تحسین روا نہیں۔۔ ہم یہاں اصلاح کی غرض سے آئے ہیں سو وہ ہی لے کر پلٹیں گے۔
اصلاح سخن تنقید محض کا نام نہیں۔ اگر سونا کھرا ہو تو ہر کسوٹی پر کھرا اُترتا ہے۔ سونے کی تخلیص کی ضرورت تبھی محسوس ہوتی ہے جب اُس میں ملاوٹ ہو۔ اِصلاح سخن کے دھاگے میں دادو تحسین کی ممانعت تو ہماری نظر سے کہیں نہیں گزری۔ اگر محفل کےارباب حل وعقد ایسا کریں گے بھی تو بڑا ظلم کریں گے۔ آپ نے دل کی گہرائیوں سے غزل کہی ہے۔ اور جیسا کہ دیگر احباب نے رائے دی کہ پہلے ہی مصرعہ سے ایک زبردست غزل ہے۔ ہم ان کی رائے سے متفق ہیں۔ یہ کیا کم ہے کہ آپ کی غزل کو ہم نے غالبا سب سے پہلے پڑھنے، سب سے پہلے رائے دینے کا شرف حاصل کیا، نہ صرف سب سے پہلے پڑھا، بلکہ بار بار پڑھا اور اب تک نہ جانے کتنے دوستوں کو فون پر سنا بھی چکے۔ آپ کے نام کی داد وصول بھی کر چکے۔بھئی یہ تو اردو محفل ہے۔
الف عین — مارچ 9، 2013 5:55 شام
واہ واہ ارتضیٰ، کیا استادانہ کلام ہے۔ کیا تراکیب ہیں!! سینے کی گہرائی کے علاوہ سارے شعر خوب ہیں۔ اس شعر کو ’دل‘ کر دیں تو ابتذال بھی ختم ہو جائے اور شاید بات کچھ بن سکے۔ ’چاہِ دل‘ کی ترکیب بھی استعمال کی جا سکتی ہے وہاں!!
اور
کب تلک رسمِ تکلف کو رکھے گا جاری
اس طرح بہتر ہو گا
کب تلک رسمِ تکلف یہ رہے گا جاری
مقطع کا بھی پہلا مصرع بدلنے کی کوشش کریں، موجودہ میں روانی کی کمی ہے۔
محمد بلال اعظم — مارچ 9، 2013 6:05 شام
واہ
بہت خوب ارتضیٰ صاحب
محمدارتضیٰ آسی — مارچ 9، 2013 8:14 شام
واہ واہ ارتضیٰ، کیا استادانہ کلام ہے۔ کیا تراکیب ہیں!! سینے کی گہرائی کے علاوہ سارے شعر خوب ہیں۔ اس شعر کو ’دل‘ کر دیں تو ابتذال بھی ختم ہو جائے اور شاید بات کچھ بن سکے۔ ’چاہِ دل‘ کی ترکیب بھی استعمال کی جا سکتی ہے وہاں!!
اور
کب تلک رسمِ تکلف کو رکھے گا جاری
اس طرح بہتر ہو گا
کب تلک رسمِ تکلف یہ رہے گا جاری
مقطع کا بھی پہلا مصرع بدلنے کی کوشش کریں، موجودہ میں روانی کی کمی ہے۔
تسلیم جناب!