مداوا (نظم )

La Alma — فروری 12، 2017 5:03 شام
مداوا

بارہا نیست کی کوکھ سے
ہست لیتا رہا ہے جنم
ہم نے تو فکر کی خشک سالی میں بھی
کتنے ہی مصرعِ تر کہے
روئے تھے زار زار اُن پہ بھی
جن پہ چھائی رہی عمر بھر مردنی
اشک کی بوند سے
کب سے بنجر پڑے
کتنے چہروں پہ پھر نقش اگنے لگے
کیوں نہ پھر اپنے غم کا مداوا بھی ہم خود کریں
کون بیکار میں بیٹھ کر
انتظارِ مسیحا کرے
ہم کو سب یاد ہے
جب کبھی شب کی دہلیز پر طعنہِ نور سے
ظلمتیں بے اماں ہو گئیں
کس طرح دیر تک ہم سسکتے رہے
اور پھر رات بھر
درد کے چاک پر
آفتابِ سحر ڈھالتے ہم رہے
انگلیاں ہو گئیں جب فگار اپنی تو
صبحِ دم ایک سورج نیا
وقت کے منہ پہ پھر مار کر آ گئے
قرۃالعین اعوان — فروری 12، 2017 9:32 شام
خوب۔۔!!
La Alma — فروری 13، 2017 6:02 صبح
بہت نوازش .
عبدالقیوم چوہدری — فروری 13، 2017 6:49 صبح
ہم نے تو فکر کی خشک سالی میں بھی
کتنے ہی مصرعِ تر کہے
کون بیکار میں بیٹھ کر
انتظارِ مسیحا کرے
جب کبھی شب کی دہلیز پر طعنہِ نور سے
ظلمتیں بے اماں ہو گئیں
انگلیاں ہو گئیں جب فگار اپنی تو
صبحِ دم ایک سورج نیا
وقت کے منہ پہ پھر مار کر آ گئے
اعلیٰ، شاندار (y)
La Alma — فروری 13، 2017 1:11 شام
شکرگزار ہوں .
نایاب — فروری 13، 2017 4:11 شام
بہت خوبصورت سوچ کو جگاتی نظم
بارہا نیست کی کوکھ سے
بارہا سے مراد کیا " ہمیشہ " یا " ازل " سے لیا جائے ۔۔؟
بہت دعائیں
محمد ریحان قریشی — فروری 13، 2017 4:36 شام
بہت خوبصورت سوچ کو جگاتی نظم
بارہا سے مراد کیا " ہمیشہ " یا " ازل " سے لیا جائے ۔۔؟
بہت دعائیں
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
یہ عمل ہر لحظہ جاری ہے۔
Quantum fluctuation - Wikipedia
La Alma — فروری 13، 2017 7:01 شام
بہت خوبصورت سوچ کو جگاتی نظم
پسندیدگی کے لیے مشکور ہوں .
بارہا سے مراد کیا " ہمیشہ " یا " ازل " سے لیا جائے
"ہمیشہ " کا اطلاق تو ہی نہیں سکتا . زندگی کی کوکھ سے بھی زندگی جنم لیتی ہے ." بارہا " سے مراد " کئی بار" ہے . مفہوم یہ ہے اکثر اوقات قدرت ایسے اسباب بھی فراہم کرتی ہے جس سے بعید از خیال اشیا بھی ظہور پذیر ہو جاتی ہیں . عدم سے وجود نمو پا سکتا ہے . بے جان میں جان پڑ سکتی ہے . نا ممکن ، ممکن میں بدل سکتا ہے . غیر موجود کسی موجود کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے .
وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ
وہ (اللہ ) جاندار کو بے جان سے نکلتا ہے .
وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ
اور بعض پتھر تو ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں
وَاللّ۔ٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِ۔هَا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْ۔مَعُوْنَ
اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھراس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنتے ہیں۔
La Alma — فروری 13، 2017 7:05 شام
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
یہ عمل ہر لحظہ جاری ہے۔
Quantum fluctuation - Wikipedia

درست . کائنات میں تخلیقی عمل جاری و ساری ہے اور یہ تھیوری بھی اسی بات کی توثیق کر رہی ہے کہ کائنات ہر آن وسعت پذیر ہے .
وَالسَّمَآءَ بَنَيْنَاهَا بِاَيْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ
ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے بنایا یقیناً ہم اس (کائنات) کو وسعت اور پھیلاؤ دے رہے ہیں .
لیکن سرِ دست موضوع کچھ اور ہے .
محمد ریحان قریشی — فروری 14، 2017 8:10 صبح
درست . کائنات میں تخلیقی عمل جاری و ساری ہے اور یہ تھیوری بھی اسی بات کی توثیق کر رہی ہے کہ کائنات ہر آن وسعت پذیر ہے .
وَالسَّمَآءَ بَنَيْنَاهَا بِاَيْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ
ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے بنایا یقیناً ہم اس (کائنات) کو وسعت اور پھیلاؤ دے رہے ہیں .
لیکن سرِ دست موضوع کچھ اور ہے .
سرِ دست موضوع سے مجھے غرض نہیں ہاں البتہ ہست کا نیست کی کوکھ سے جنم لینا ایک اچھا مضمون ہے جو مجھے پسند آیا۔ اس کی سائنسی، عقلی ، مذہبی تمام توضیحات موجود ہیں۔ حفیظ کا یہ شعر مجھے بہت پسند ہے
؎
قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہوگیا ہوں میں
مردنی اور رونے کا تعلق واضح نہیں ہے۔ ان پہ وہ بھی کو ان پہ بھی کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔
جن پہ چھائی رہی عمر بھر مردنی
ان کی آنکھوں سے بھی خواہشِ زیستن کا رواں ایک دریا ہوا
فقط ایک تجویز۔
La Alma — فروری 14، 2017 10:30 صبح
مردنی اور رونے کا تعلق واضح نہیں ہے۔ ان پہ وہ بھی کو ان پہ بھی کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔
یعنی میرے اشکوں کی آبیاری سے بنجر چہرے بھی ترو تازہ ہونے لگے . اور وہ ، جو مدتوں سے نیم جان پڑے تھے ان میں زندگی کی رمق لوٹ آئی .
جن پہ چھائی رہی عمر بھر مردنی
ان کی آنکھوں سے بھی خواہشِ زیستن کا رواں ایک دریا ہوا
آپ کی تجویز بھی معقول ہے لیکن فی الحال اوروں کو رلانا مقصود نہیں .
فیڈ بیک کا بہت شکریہ . آئندہ بھی اپنی رائے سے نوازتے رہیں .
محمد ریحان قریشی — فروری 14، 2017 10:40 صبح
یعنی میرے اشکوں کی آبیاری سے بنجر چہرے بھی ترو تازہ ہونے لگے . اور وہ ، جو مدتوں سے نیم جان پڑے تھے ان میں زندگی کی رمق لوٹ آئی .
آپ کی تجویز بھی معقول ہے لیکن فی الحال اوروں کو رلانا مقصود نہیں .
فیڈ بیک کا بہت شکریہ . آئندہ بھی اپنی رائے سے نوازتے رہیں .
معذرت خواہ ہوں میں نے دراصل یہ سمجھا کہ تر مصرعے سن کر جن پر مردنی چھائی ہے وہ رونے لگے اور یوں ان کے بنجر چہرے تروتازہ ہو گئے۔ یہی مردنی اور رونے کا تعلق سمجھ نہیں آیا تھا جسے خواہشِ زیستن سے پیدا کرنے کی کوشش کی۔
نظم پر داد دینا تو بھول ہی گیا۔ بلاشبہ نظم بہت خوب ہے۔
محمداحمد — فروری 14، 2017 11:42 صبح
بہت خوب!
نایاب — فروری 14، 2017 2:34 شام
" بارہا " سے مراد " کئی بار" ہے .
دراصل نظم کی ابتدا نے مجھے خالق کی صفت تخلیق کی جانب متوجہ کیا تھا ۔
اور خالق کی صفت تخلیق " ہمیشہ ہی " یا " ازل سے ہی " نیست سے ہست کو وجود میں لاتی ہے ۔
" بارہا " کی قید تو صفت تخلیق کو محدود نہیں کر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔؟
خالق کی صفت تخلیق " لا محدود ہوتے صرف " کن " پر استوار ہے ۔۔
اک اچھی نظم پر ڈھیروں داد
بہت دعائیں
La Alma — فروری 14، 2017 3:27 شام
عنایت .
La Alma — فروری 14، 2017 3:31 شام
دراصل نظم کی ابتدا نے مجھے خالق کی صفت تخلیق کی جانب متوجہ کیا تھا ۔
اور خالق کی صفت تخلیق " ہمیشہ ہی " یا " ازل سے ہی " نیست سے ہست کو وجود میں لاتی ہے ۔
" بارہا " کی قید تو صفت تخلیق کو محدود نہیں کر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔؟
خالق کی صفت تخلیق " لا محدود ہوتے صرف " کن " پر استوار ہے ۔۔
اک اچھی نظم پر ڈھیروں داد
بہت دعائیں
کیا وجود کی کوکھ سے وجود جنم نہیں لیتا ؟ یقیناً لیتا ہے . کیا عدم کی کوکھ میں کسی وجود کا پلنا ممکن ہے ؟ بالکل ممکن ہے . اگر آپ آدم اور آدم زاد کی تخلیق کے مابین فرق کو ذہن میں رکھیں گے تو با آسانی سمجھ جائیں گے کہ میں نے" ہمیشہ" کی بجائے "بارہا" کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے . اس سے مفر نہیں کہ ہر ہست پہلے نیست تھا لیکن ہر وجود کو جنم کوئی دوسرا وجود ہی دے یہ ضروری نہیں .
فاتح — فروری 14، 2017 3:35 شام
واہ کیا خوبصورت نظم ہے
La Alma — فروری 14، 2017 3:41 شام
واہ کیا خوبصورت نظم ہے
بہت شکریہ .
عباد اللہ — فروری 15، 2017 12:24 شام
بہت عمدہ
La Alma — فروری 15، 2017 5:49 شام
شکریہ .
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%A7-%D9%86%D8%B8%D9%85.94798/