عزیزان من
شیخ مزمل بسمل اور
محتشم سلمان سے متفق ہوں، اور اس وجہ سے اب تبدیل شدہ غزل پر ہی اظہار رائے کروں گا۔
مجموعی طور پر تو اچھی غزل ہے۔
اصل مطلع کا کیا مطلب ہے؟ کیا مسلمانوں کے شبستانوں میں کوئی خاص بات ہوتی ہے؟ یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ یہ طنز ہے تو شبستانوں کی رنگینی یا عیش پسندی مراد لی جا سکتی ہے۔ اور اگر عبادت گزاری ہے تو اس کی ’سیر کرنا‘ درست نہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ ایک مطلع ہی کافی ہے۔ اسی میں مسلمان بھی آ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو دو بار زبردستی لانے کی کیا ضرورت ہے، ان کو اپنے عیش یا عبادت میں رہنے دو!!!! البتہ جس مطلع کو میں قبول کر رہا ہوں،اس میں بھی تبدیلی کی گنجائش ہے
"گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی"
اک جماعت نظر آتی ہے مسلمانوں کی
جماعت کچھ اٹپٹا لگ رہا ہے یہاں۔ اس کی جگہ ’بھیڑ‘ یا کوئی اور لفظ استعمال کیا جائے۔
مدتوں سے جو نہ ڈاکہ پڑا خالی گھر میں
بڑھ گئی کاہلی بے حد مرے دربانوں کی
مفلسی کی بہ نسبت بہتر ہے، ورنہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کیسی مفلسی ہے جس میں ایک سے زائد دربان بھی ملازم ہیں!!!
اور تھپیاں لفظ بدل دو، اچھا نہیں لگ رہا۔ ’ڈھیریاں‘ کیسی رہیں گی؟