کوئی تعریف کر جائے تو اکثر پھول جاتا ہوں،
میں بھولا ہوں، ستم ڈھایا ہوا بھی بھول جاتا ہوں۔ ہر اک نعمت پہ نازاں ہوں فقط اپنی ہی محنت پر،
لگی جنکی دعائیں ہو، انہیں کو بھول جاتا ہوں۔ خدا ڈھا دے مری یہ کاش اب ثابت قدم فطرت ،
قسَم کھاتا ہوں توبہ کی قسَم ہی بھول جاتا ہوں۔ ہے غرّاتا تو کتّا بھی، جو ڈھیلا مارتا اس پر،
مجھے ڈھیلے پہ تو شکوہ، خدا کو بھول جاتا ہوں۔ میں بتلاؤں بھی کیسے میری وجْہِ بے رخی عاصمؔ،
ستمگر مسکرا دے تو ستم ہی بھول جاتا ہوں۔
اس غزل میں آپ نے محض دو قافیے بھول اور پھول استعمال کیے ہیں۔
اور پھول بھی محض مطلع میں استعمال کیا ہے، باقی تمام جگہ صرف بھول ہی استعمال کیا ہے۔
بہتر ہوتا کہ مزید قافیے بھی استعمال کیے جاتے جو کہ یہاں مشکل معلوم ہوتا ہے۔ یا بھول جاتا ہوں کو ردیف بنا کر اس سے پہلے کوئی قافیہ لاتے۔
عبد السمیع عرف عاصمؔ — اکتوبر 4، 2018 10:52 صبح
جی شکریہ!!! کچھ ترمیم کیساتھ پھر حاضر ہونگا۔۔۔
عبد السمیع عرف عاصمؔ — اکتوبر 4، 2018 11:02 صبح
کوئی تعریف کر جائے تو اکثر پھول جاتا ہوں،
میں بھولا ہوں، ستم ڈھایا ہوا سو بھول جاتا ہوں۔ ہر اک نعمت پہ نازاں ہوں فقط اپنی ہی محنت پر،
لگی جنکی دعائیں ہو، انہیں کو بھول جاتا ہوں۔ خدا ڈھا دے مری یہ کاش اب ثابت قدم فطرت ،
قسَم کھاتا ہوں توبہ کی قسَم کو بھول جاتا ہوں۔ ہے غرّاتا تو کتّا بھی، جو ڈھیلا مارتا اس پر،
مجھے ڈھیلے پہ تو شکوہ، خدا کو بھول جاتا ہوں۔ میں بتلاؤں بھی کیسے میری وجْہِ بے رخی عاصمؔ،
ستمگر مسکرا دے تو ستم کو بھول جاتا ہوں۔
عبد السمیع عرف عاصمؔ — اکتوبر 4، 2018 11:12 صبح
کوئی تعریف کر جائے ذرا بھی، پھول جاتا ہوں،
میں بھولا ہوں، ستم ڈھایا ہوا بھی بھول جاتا ہوں۔ ہر اک نعمت پہ نازاں ہوں فقط اپنی ہی محنت پر،
لگی جنکی دعائیں ہو، انہیں ہی بھول جاتا ہوں۔ خدا ڈھا دے مری یہ کاش اب ثابت قدم فطرت ،
قسَم کھاتا ہوں توبہ کی قسَم ہی بھول جاتا ہوں۔ ہے غرّاتا تو کتّا بھی، جو ڈھیلا مارتا اس پر،
میں ڈھیلا یاد کر شکوہ، خدا ہی بھول جاتا ہوں۔ میں بتلاؤں بھی کیسے میری وجْہِ بے رخی عاصمؔ،
ستمگر مسکرا دے تو ستم ہی بھول جاتا ہوں۔
مریم افتخار — اکتوبر 4، 2018 11:28 صبح
محترمی! ان اشعار میں قوافی کی نشاندہی بھی فرمائیں۔
کوئی تعریف کر جائے ذرا بھی، پھول جاتا ہوں،
میں بھولا ہوں، ستم ڈھایا ہوا بھی بھول جاتا ہوں۔ ہر اک نعمت پہ نازاں ہوں فقط اپنی ہی محنت پر،
لگی جنکی دعائیں ہو، انہیں ہی بھول جاتا ہوں۔ خدا ڈھا دے مری یہ کاش اب ثابت قدم فطرت ،
قسَم کھاتا ہوں توبہ کی قسَم ہی بھول جاتا ہوں۔ ہے غرّاتا تو کتّا بھی، جو ڈھیلا مارتا اس پر،
میں ڈھیلا یاد کر شکوہ، خدا ہی بھول جاتا ہوں۔ میں بتلاؤں بھی کیسے میری وجْہِ بے رخی عاصمؔ،
ستمگر مسکرا دے تو ستم ہی بھول جاتا ہوں۔
اضافہ تو کیا ہے، مگر کن قوافی میں؟ قوافی کون کون سے ہیں؟
محمد وارث — اکتوبر 4، 2018 11:40 صبح
میرے خیال میں غزل کا قافیہ درست ہے یعنی مطلع میں "پھول" اور "بھول" کو قافیہ بنایا گیا ہے جو کہ درست ہے، ہاں، دیگر اشعار میں بھول قافیہ بار بار لایا گیا ہے جو قافیہ تنگ ہونے کی نشانی اور شاعر کی عجز بیانی پر دال ہے!
میرے خیال میں غزل کا قافیہ درست ہے یعنی مطلع میں "پھول" اور "بھول" کو قافیہ بنایا گیا ہے جو کہ درست ہے، ہاں، دیگر اشعار میں بھول قافیہ بار بار لایا گیا ہے جو قافیہ تنگ ہونے کی نشانی اور شاعر کی عجز بیانی پر دال ہے!