مہدی نقوی حجاز — فروری 15، 2014 11:12 صبح
آپ کے لیے تو آسان ہے۔

لول
یہ میرے لیے خبر ہے!

سید عاطف علی — فروری 15، 2014 11:22 صبح
یہ میرے لیے خبر ہے!
اس تجاہل عارفانہ پہ کوئی نہ مرجائے ۔

مہدی نقوی حجاز — فروری 15، 2014 11:25 صبح
اس تجاہل عارفانہ پہ کوئی نہ مرجائے ۔
مجھے ئی عرفانِ جاہلانہ معلوم ہوتا ہے بیشتر

ویسے بھی پاکستانی قوم کی چمڑی ابھی خاصی موٹی ہے، گولی سے کم میں نہیں مرتا کوئی!

سید عاطف علی — فروری 15، 2014 11:52 صبح
یہ راستہ دل جگروغیر ہ جیسے اعضآئے رئیسہ کو جاتا ہے۔۔

۔ چمڑی کہاں سے آگئی ۔اگر مارنا ہے تو دل پہ وار کیجیے ۔ @
محمداسامہ سرسری کی طرح
الف عین — فروری 15، 2014 12:00 شام
اچھی غزل ہے، اسے دوہا غزل بھی کہہ سکتے ہیں۔’’جام و مینا‘‘ واوین میں ہے، اس لئے لوگ جیسا چاہیں سمجھ لیں!!
مہدی نقوی حجاز — فروری 15، 2014 12:00 شام
یہ راستہ دل جگروغیر ہ جیسے اعضآئے رئیسہ کو جاتا ہے۔۔

۔ چمڑی کہاں سے آگئی ۔اگر مارنا ہے تو دل پہ وار کیجیے ۔ @
محمداسامہ سرسری کی طرح
لوگ دل پھینک ہیں!!

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 15، 2014 7:29 شام
اچھی غزل ہے، اسے دوہا غزل بھی کہہ سکتے ہیں۔’’جام و مینا‘‘ واوین میں ہے، اس لئے لوگ جیسا چاہیں سمجھ لیں!!
استاد جی!
تشریف آوری ، غزل نوازی اور توجہ فرمائی پر ممنون ہوں۔
جزاکم اللہ خیرا۔
ابن رضا — فروری 16، 2014 6:41 شام
بڑی عمده کاوش هے. شاد رهیں

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 16، 2014 9:10 شام
بڑی عمده کاوش هے. شاد رهیں
بہت شکریہ ابن رضا صاحب۔
جزاکم اللہ خیرا۔
اللہ آپ کو بھی ہمیشہ خوش رکھے۔