شکریہ بابا جانی اور وارث صاحب، ۔میں نے محفوظ کرلیا ہے ، بہت شکریہ
یعنی کھ َ ں ڈ ر ہے ، لغت میں غلط لکھا گیا ہے ، ممکن ہے ٹائپو ہو ، وہاں کھَ ن ڈ َ ر ( جب ہی میںنے فعلن کہا ) بھی ہے ، کھَ ں ڈ َر ( فعول بھی ) ۔۔؟؟ یہ کیا معاملہ تھا، بابا جانی آپ کے مراسلے کی ابتدا میں بھی ٹائپو لگ رہی ہے ،۔آپ نے فعول بھی لکھا ہے اور فعول سے منع بھی کیا ہے ۔
فعل یعنی درد کے وزن پر کھَ ڈر ہے ۔؟؟
لغت یہ کہتی ہے ::
کھَنْڈَر --- کھَن (ن مغنونہ) + ڈَر (پراکرت)
-------------------------------------------------------------------------------
پراکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1810ء کو 'کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
جمع: کَھنْڈَرات [کَھن (ن مغنونہ) + ڈَرات]
جمع غیر ندائی: کَھنْڈَروں [کَھن (ن مغنونہ) + ڈَروں (و مجہول)]
1. ٹوٹا پھوٹا مکان، ویران مکان، ویرانہ، خرابہ۔
"اندر قدر رکھو تو سب کھنڈر نظر آئے گا درو بام میں سے اب کچھ سلامت نہیں۔" ( 1974ء، زمیں اور فلک اور، 101 )
ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے نشان، کسی اجڑی ہوئی بستی کے آثار، اُجڑی بستی، ویرانی۔
"اب اس محل کے کھنڈر بھی باقی نہیں تھے۔" ( 1988ء، لکھنؤیاتی ادیب، 8 )
2. [ کاشت کاری ] کھڈ، اونچی نیچی زمین، غیر آباد زمین، بنجر علاقہ۔
"جو منہائی زمین کی قسم جس پر کچھ محصول نہیں لگتا ان کے نام حسبِ ذیل ہیں: آبادی، کھیڑا، کھنڈدر، جھاڑ، جنگل۔" ( 1846ء، کھیت کرم، 11 )