13- غزل برائے اصلاح

سید ذیشان حیدر — اگست 23، 2017 9:33 شام
نئی غزل پیشِ خدمت ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے۔
ابھی زیرِ گرداب آئے ہوئے ہیں
کہ طوفانوں نے سر اُٹھائے ہوئے ہیں
یہ اُمید، یہ چارہ جوئی، یہ قسمت
میاں میرے کس کام آئے ہوئے ہیں
علاجِ غمِ جان و دل ہم سے مت پوچھ
اِسی غم کے ہم بھی ستائے ہوئے ہیں
مرے زخم کی دوستوں کو خبر ہے؟
قبا میں نمکداں چھپائے ہوئے ہیں
تجھے دوستوں سے ہے اُمید تو رکھ
مرے سب کے سب آزمائے ہوئے ہیں
جو اب کوئے دِل میں تُو آئے تو سوچے
کہ اِس شہرِ ویراں میں آئے ہوئے ہیں
ہماری کوئی قدر و قیمت نہیں ہے
میاں ہم نظر سے گرائے ہوئے ہیں
گزرنا ہے اب کوئے جاناں سے ہم کو
ہتھیلی پہ جاں رکھ کے آئے ہوئے ہیں
سر الف عین ، محمد ریحان قریشی محمد خلیل الرحمٰن
سید ذیشان حیدر — اگست 26، 2017 8:47 صبح
سر الف عین
سید ذیشان حیدر — اگست 27، 2017 12:08 شام
سر الف عین اور اہلِ محفل کیا کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہم سے؟
محمد ریحان قریشی — اگست 27، 2017 12:28 شام
یہ اُمید، یہ چارہ جوئی، یہ قسمت
میاں میرے کس کام آئے ہوئے ہیں
"ہوئے" زائد محسوس ہو رہا ہے۔
جو اب کوئے دِل میں تُو آئے تو سوچے
کہ اِس شہرِ ویراں میں آئے ہوئے ہیں
کہ کس شہرِ ویراں میں آئے ہوئے ہیں
بہتر رہے شاید۔
باقی اشعار مجھے ٹھیک ہی لگ رہے ہیں۔
الف عین — اگست 27، 2017 5:08 شام
اچھی غزل ہے۔
کہ طوفانوں نے سر اُٹھائے ہوئے ہیں
÷÷یہ کیونکہ محض طوفان تقطیع ہوتا ہے جو اچھا نہیں لگتا، اس پر مستزاد یہ کہ اسکے بعد ’نے‘ کی وجہ سے تنافر کا احساس بھی ہو رہا ہے۔
معنوی طور پر عزیزی ریحان کی اصلاح خوب ہے، لیکن اس سے بھی تنافر پیدا ہو جاتا ہے۔ ’ک کس‘ کی وجہ سے۔
باقی تو درست ہی لگ رہی ہے
سید ذیشان حیدر — اگست 28، 2017 8:29 صبح
محترم سر الف عین اور محترم محمد ریحان قریشی بہت بہت شکریہ
"ہوئے" زائد محسوس ہو رہا ہے۔
یہ اُمید، یہ چارہ جوئی، یہ قسمت​
میاں میرے کس کام آئے ہوئے ہیں​

یہ شعر نکال دیتا ہوں پھر؟
کہ طوفانوں نے سر اُٹھائے ہوئے ہیں
÷÷یہ کیونکہ محض طوفان تقطیع ہوتا ہے جو اچھا نہیں لگتا، اس پر مستزاد یہ کہ اسکے بعد ’نے‘ کی وجہ سے تنافر کا احساس بھی ہو رہا ہے۔
معنوی طور پر عزیزی ریحان کی اصلاح خوب ہے، لیکن اس سے بھی تنافر پیدا ہو جاتا ہے۔ ’ک کس‘ کی وجہ سے۔

ایک صورت یہ دیکھئے

ابھی زیرِ گرداب آئے ہوئے ہیں
کہ طوفانِ غم سر اُٹھائے ہوئے ہیں
کیا دوسرے مصرعے میں "طوفانِ غم" واحد اور "سر اُٹھائے ہوئے ہیں" جمع ہیں؟ تو ایسی صورت میں یہ مصرع ٹھیک ہو گا؟
جو اب کوئے دِل میں تُو آئے تو سوچے
یہ کس شہرِ ویراں میں آئے ہوئے ہیں
دونوں اشعار میں تنافر تو دور ہو گیا۔ سر ریحان کی اصلاح کے مطابق بھی ہو گیا۔ کیا اب یہ دونوں اشعار ٹھیک ہیں؟
بہت شکریہ
والسلام​
الف عین — اگست 30، 2017 4:01 صبح
یہ تو درست ہے کہ طوفان واحد میں ہے۔ لیکن قبول کیا جا سکتا ہے۔دوسرا شعر بہتر ہو گیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/13-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.98039/