آ جاتا ہے دل محبت سے باز کبھی کبھی... برائے اصلاح

تنویر احمد تنویر — فروری 18، 2014 5:18 صبح
آ جاتا ہے دل محبت سے باز کبھی کبھی...برائے اصلاح
آ جاتا ہے دل محبت سے باز کبھی کبھی
مجھ سے نہیں بجتا یہ ساز کبھی کبھی
غافل میری ذات سے یوں کہ کوئی بیگانہ
بہت حیران کر دیتا ہے تیرا یہ اندازکبھی کبھی
رائیگاں سفر کا رہا ہمیشہ تو مسافر
آتی ہےمیرے اندر سےیہ آواز کبھی کبھی
کسی کی ایک مسکراہٹ پےجان ہی لٹا دیں
ہوتی ہےطبیعت یوں بھی فیاض کبھی کبھی
کبھی تو اپنا آپ بھی ہم سے پہچانا نہیں جاتا
اورآسمانوں سےبھی پرےہوتی ہےپروازکبھی کبھی
محترم اساتذہ پہلے بھی ایک لڑی بعنوان براہ کرم اصلاح فرماہیے بھیجی ہے ازراہ کرم نظر التفات فرماہیے گا
الف عین — فروری 25، 2014 5:26 صبح
یہی مشورہ دوں گا کہ پہلے اپنے مزاج میں موزونیت پیدا کریں، خوب پڑھیں مستند کلام، تاکہ مزاج ہی ایسا بن جائے کہ موزوں اشعار برامد ہوں۔ فی الحال تو کوئی نزدیک ترین بحر بھی مقرر نہیں کی جا سکتی
واسطی خٹک — جون 9، 2014 8:06 صبح
آپکے پہلے شعر میں میں نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں ساتھ میں بحر بهی لکھ دیتا ہوں اپ اسے دیکھیں ذرہ
ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ یہ دل ﺑﺎﺯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ
اب ﺑﺠﺘﺎ نہیں مجھ سے ﯾﮧ ﺳﺎﺯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ
مثمن اخرب مکفوف سالم
مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیلن
شوکت پرویز — جون 12، 2014 9:11 صبح
آپکے پہلے شعر میں میں نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں ساتھ میں بحر بهی لکھ دیتا ہوں اپ اسے دیکھیں ذرہ
ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ یہ دل ﺑﺎﺯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ
اب ﺑﺠﺘﺎ نہیں مجھ سے ﯾﮧ ﺳﺎﺯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ
مثمن اخرب مکفوف سالم
مفعول مفاعیل مفاعیل مفاعیلن
'کبھی کبھی' ردیف اس بحر میں نہیں آ سکتی۔ اس ردیف کی وجہ سے دونوں مصرعے بحر سے خارج ہیں۔
دوسرے مصرع میں دوسرا 'مفاعیل' بھی وزن میں نہیں :)
۔۔۔
اس کے علاوہ یہ بحر زیادہ مانوس نہیں، اساتذہ کے مطابق نئے شاعر کو ابتدا میں غیر مانوس بحور سے بچنا چاہئے۔
تنویر احمد تنویر
شوکت پرویز — جون 12، 2014 9:16 صبح
اس غزل کو درج ذیل مانوس بحور میں سے کسی میں ڈھالا جا سکتا ہے:
1) بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
122 1221 1221 221
(لیکن اس میں ردیف بدلنی پڑے گی :( )
یا
2) بحرِ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
122 1212 1221 212
(اس میں موجودہ ردیف چل جائے گی لیکن قافیہ نہیں چلے گا :( )
واسطی خٹک
تنویر احمد تنویر
شوکت پرویز — جون 12، 2014 9:17 صبح
:)
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:19 صبح
اس غزل کو درج ذیل مانوس بحور میں سے کسی میں ڈھالا جا سکتا ہے:
1) بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
122 1221 1221 221
یا
2) بحرِ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
122 1212 1221 212
واسطی خٹک تنویر احمد تنویر

کبھی کبھی کی تقطیع کرو
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:24 صبح
'کبھی کبھی' ردیف اس بحر میں نہیں آ سکتی۔ اس ردیف کی وجہ سے دونوں مصرعے بحر سے خارج ہیں۔
دوسرے مصرع میں دوسرا 'مفاعیل' بھی وزن میں نہیں :)
۔۔۔
اس کے علاوہ یہ بحر زیادہ مانوس نہیں، اساتذہ کے مطابق نئے شاعر کو ابتدا میں غیر مانوس بحور سے بچنا چاہئے۔
تنویر احمد تنویر
کوئی فائدہ نہیں بچنے کا
شاعری بچوں کا کھیل نہیں ہے
اگر شاعر ہی بننا ہے تو. ..........
خیر کبهی 12 اس کے علاوہ 22 اس کے علاوہ 21
ابن رضا — جون 12، 2014 9:24 صبح
کبھی کبھی کی تقطیع کرو
واسطی صاحب ادب کے متعلقین بات چیت میں ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے هین
کبھی کبھی کی تقطیع 2121 هے
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:25 صبح
واسطی صاحب ادب کے متعلقین بات چیت میں ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے هین
کبھی کبھی کی تقطیع 1212 هے
بات سے اتفاق کرتا ہوں
ابن رضا — جون 12، 2014 9:26 صبح
بات سے اتفاق کرتا ہوں
جزاک الله. خوش رهیں
1212 نهیں 2121 هے بمطابق اردو رسم الخط
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:27 صبح
تقطیع حسب ضرورت ہونی چاہئے
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:28 صبح
جزاک الله. خوش رهیں
میرا اک سوال ہے آپ سے
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:33 صبح
http://aruuz.com/Taqti/Output/147675
اس کی تقطیع درست ہے رضا بهائی
واسطی خٹک — جون 12، 2014 9:35 صبح
اس غزل کو درج ذیل مانوس بحور میں سے کسی میں ڈھالا جا سکتا ہے:
1) بحرِ ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
122 1221 1221 221
(لیکن اس میں ردیف بدلنی پڑے گی :( )
یا
2) بحرِ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
122 1212 1221 212
(اس میں موجودہ ردیف چل جائے گی لیکن قافیہ نہیں چلے گا :( )
واسطی خٹک
تنویر احمد تنویر
رائے کا احترام کرتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%84-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.72201/