آؤ اک بات کرتے ہیں

عادل بٹ — نومبر 28، 2014 2:40 صبح
آؤ اک بات کرتے ہیں
خدا کو یاد کرتے ہیں
جتنے بھی جھوٹے صنم ہیں
آج انہیں سپرد خاک کرتے ہیں
گناہوں سے توبہ کریں اور
اپنی فطرت کو پاک کرتے ہیں
کہیں بھی دیکھیں کچھ غَلَط سَلَط
اُس برائی سے اِخْتِلاف کرتے ہیں
پیار محبت ہی مَقْصَدِ حَیات ہو
چلو امن کا گلشن آباد کرتے ہیں
(ابن ریاض)
الف عین — نومبر 28، 2014 4:46 شام
غزل کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بحر و اوزان، ردیف قوافی۔ اس میں ردیف تو ضرور موجود ہیں۔ لیکن قوافی کوئی نہیں ہے۔ یاد، اختلاف، آباد۔خاک قوافی نہیں ہیں۔ بحر بھی کوئی موزوں سی ہو تو بہتر ہے÷
عادل بٹ — نومبر 29، 2014 3:17 صبح
شکریہ انشاءاللہ کوشش کرونگا کہ آئندہ بہتر ہو ۔ جزاکم اللہ ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A4-%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.78963/