آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں

امان زرگر — جنوری 25، 2017 5:30 شام
آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں
اپنی ضد کو اصول سے بدلیں
نور بخشے جو سرمہ آنکھوں کو
ان کے پاؤں کی دھول سے بدلیں
لوح قسمت میں جو لکھا ہے ملے
لالہ و گل ببول سے بدلیں
شوق طاعت ہوس سے برتر ہے
لفظ منکر قبول سے بدلیں
آج گردوں خزاں نصیب لگے
موسم گل ملول سے بدلیں
امان زرگر — جنوری 25، 2017 5:34 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر راحیل فاروق
سر سید عاطف علی
محترمہ La Alma
La Alma — جنوری 25، 2017 7:56 شام
اچھی غزل ہے . دو باتیں عرض کرنا چاہوں گی . اول مطلع سے متعلق ہے . ضد کو تو پتھر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے لیکن اصول کو پھول سے نہیں . پھول تو اپنے اندر نزاکت اور نرمی لیے ہوتا ہے مگر زیادہ تر اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوتا ہے .
دوئم ، اس شعر کو دیکھیے .
شوق طاعت ہوس سے برتر ہے
لفظ منکر قبول سے بدلیں
یہاں پر بھی قریب قریب وہی سقم ہے . طاعت کا تقابل ہوس سے کیونکر کیا جا سکتا ہے . اگر طاعت کے مقابل اعراض ، انکار یا حکم عدولی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا .
بہرحال یہ میری ذاتی رائے ہے . اساتذہ بہتر رہنمائی کریں گے .
امان زرگر — جنوری 26، 2017 2:41 صبح
اچھی غزل ہے . دو باتیں عرض کرنا چاہوں گی . اول مطلع سے متعلق ہے . ضد کو تو پتھر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے لیکن اصول کو پھول سے نہیں . پھول تو اپنے اندر نزاکت اور نرمی لیے ہوتا ہے مگر زیادہ تر اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوتا ہے .
دوئم ، اس شعر کو دیکھیے .
یہاں پر بھی قریب قریب وہی سقم ہے . طاعت کا تقابل ہوس سے کیونکر کیا جا سکتا ہے . اگر طاعت کے مقابل اعراض ، انکار یا حکم عدولی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا .
بہرحال یہ میری ذاتی رائے ہے . اساتذہ بہتر رہنمائی کریں گے .
آپ کی آراء قابل احترام ہے اور قابل غور بھی. شکر گزار ہوں، اساتذہ کا منتظر ہوں
امان زرگر — جنوری 26، 2017 3:35 صبح
کیا یہ مطلع قرار پا سکتا ہے
.
قصر ہرگز نہ طول سے بدلیں
اپنی ضد کو اصول سے بدلیں
سر محمد ریحان قریشی
سر الف عین
محترمہ La Alma
الف عین — جنوری 26، 2017 4:35 صبح
میرے خیال میں اصل مطلع بھی چل سکتا ہے۔ ایسا کوئی سقم نہیں جو قبول نہ کیا جا سکے۔ البتہ یہی ’غلطی‘ آخری شعر میں بھی ہے، وہ قبول کرنے میں مجھے بھی تامل ہے۔ موسم کو ملول سے بدلنا؟
امان زرگر — جنوری 26، 2017 1:42 شام
میرے خیال میں اصل مطلع بھی چل سکتا ہے۔ ایسا کوئی سقم نہیں جو قبول نہ کیا جا سکے۔ البتہ یہی ’غلطی‘ آخری شعر میں بھی ہے، وہ قبول کرنے میں مجھے بھی تامل ہے۔ موسم کو ملول سے بدلنا؟
موسم گل بمراد 'خوشیاں' لیا تھا، خیر کچھ اور سوچتا ہوں احباب سے مدد کا بھی طالب ہوں
امان زرگر — جنوری 27، 2017 4:10 صبح
آج گردوں خزاں نصیب لگے
شادمانی ملول سے بدلیں
.
سر الف عین ذرا نظر کرم
الف عین — جنوری 27، 2017 1:48 شام
آج گردوں خزاں نصیب لگے
شادمانی ملول سے بدلیں
.
سر الف عین ذرا نظر کرم
اب بہتر ہو گیا ہے
امان زرگر — جنوری 27، 2017 3:51 شام
آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں
اپنی ضد کو اصول سے بدلیں
.
یا
.
قصر ہرگز نہ طول سے بدلیں
اپنی ضد کو اصول سے بدلیں
.
ان میں سے زیادہ بہتر مطلع کونسا قرار دیا جا سکتا ہے. سر الف عین سر محمد ریحان قریشی محترمہ La Alma .
‎‏(‏ہم طالب علموں کی کاوشوں میں ناپختگی کا عنصر یقینا ہوتا ہے. مگر اساتذہ کی رہنمائی زاد راہ ہے‏)‏
الف عین — جنوری 28، 2017 6:51 صبح
ان دونوں میں تو پہلا ہی بہتر ہے۔
امان زرگر — جنوری 28، 2017 6:11 شام
اچھی غزل ہے . دو باتیں عرض کرنا چاہوں گی . اول مطلع سے متعلق ہے . ضد کو تو پتھر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے لیکن اصول کو پھول سے نہیں . پھول تو اپنے اندر نزاکت اور نرمی لیے ہوتا ہے مگر زیادہ تر اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوتا ہے .
دوئم ، اس شعر کو دیکھیے .
یہاں پر بھی قریب قریب وہی سقم ہے . طاعت کا تقابل ہوس سے کیونکر کیا جا سکتا ہے . اگر طاعت کے مقابل اعراض ، انکار یا حکم عدولی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا .
بہرحال یہ میری ذاتی رائے ہے . اساتذہ بہتر رہنمائی کریں گے .
سر الف عین ہوس اور اصول کے الفاظ پر La Almi کے اعتراض کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیا؟
امان زرگر — مارچ 5، 2017 5:52 صبح
آؤ پتھر کو پھول سے بدلیں
اپنی ضد کو اصول سے بدلیں
نور بخشے جو سرمہ آنکھوں کو
ان کے پاؤں کی دھول سے بدلیں
لوح قسمت میں جو لکھا ہے ملے
لالہ و گل ببول سے بدلیں
شوق طاعت ہوس سے برتر ہے
لفظ منکر قبول سے بدلیں
آج گردوں خزاں نصیب لگے
شادمانی ملول سے بدلیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A4-%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%8C%DA%BA.94416/