آتشِ سوز ِجگر میں اب وہ شدت ہی نہیں

La Alma — جولائی 25، 2016 11:04 صبح

آتشِ سوز ِجگر میں اب وہ شدت ہی نہیں
صحنِ جاں میں ہو چراغاں ایسی قسمت ہی نہیں
قصّہِ شوریدگانِ عشق سن کر کیا کریں
دل ہمارا گر شناسائے محبت ہی نہیں
یا خدا کس طور ہو آشفتہ حالی کا بیاں
ضعف ہے الفاظ میں کچھ معنویت ہی نہیں
گونجتی ہے گنبدِ ہستی میں کیسی بازگشت
ہم نوا ہم کو ملا ذوقِ سماعت ہی نہیں
یاد کی دہلیز پر یہ کون ہے ماتم کناں
اب ہمیں عہدِ کہن سےکوئی نسبت ہی نہیں
پردہِ چشم ِحزیں مطلوب ہے المٰی ہمیں
کس طرح ہو ضبط ممکن کوئی صورت ہی نہیں
نور وجدان — جولائی 25، 2016 11:06 صبح
سارے اشعار پسند آئے ہیں ۔ مطلع تو بہت خوب
عباد اللہ — جولائی 25، 2016 11:18 صبح
لاجواب
کاشف اسرار احمد — جولائی 25، 2016 1:31 شام
ماشا اللہ اچھی غزل ہے۔ اصلاح اساتذہ کا کام ہے۔ بس ایک بات عرض کرنا چاہونگا۔
یاد کی دہلیز پر یہ کون ہے ماتم کناں
اب ہمیں عہدِ کہن سےکوئی نسبت ہی نہیں
یہاں 'عہدِ کہن' کچھ پتھروں کے زمانے کی سی بات لگ رہی ہے۔ شاید آپ یوں کہنا چاہ رہیں ہیں۔
'عہدِ گزشتہ سے ہمیں اب کوئی نسبت ہی نہیں'
باقی غزل خوب ہے۔ ماشا اللہ۔
صفی حیدر — جولائی 25، 2016 1:42 شام
آتشِ سوز ِجگر میں اب وہ شدت ہی نہیں
صحنِ جاں میں ہو چراغاں ایسی قسمت ہی نہیں
عمدہ تخلیقی کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
La Alma — جولائی 25، 2016 2:23 شام
سارے اشعار پسند آئے ہیں ۔ مطلع تو بہت خوب
بہت شکریہ نور .آپ کو پسند آیا محنت وصول ہوئی :)
La Alma — جولائی 25، 2016 2:28 شام
نوازش .
ماشا اللہ اچھی غزل ہے۔ اصلاح اساتذہ کا کام ہے۔ بس ایک بات عرض کرنا چاہونگا۔
یہاں 'عہدِ کہن' کچھ پتھروں کے زمانے کی سی بات لگ رہی ہے۔ شاید آپ یوں کہنا چاہ رہیں ہیں۔
'عہدِ گزشتہ سے ہمیں اب کوئی نسبت ہی نہیں'
باقی غزل خوب ہے۔ ماشا اللہ۔
حوصلہ افزائی کے لیے مشکور ہوں .
آپ کی بات میں بھی وزن ہے . عہد ِکہن کو عہدِ ماضی سے بدل دیا ہے .
مصرع اب کچھ یوں ہے :
"عہدِ ماضی سے ہمیں اب کوئی نسبت ہی نہیں " .
عمدہ تخلیقی کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ .
محمد فائق — جولائی 25، 2016 9:21 شام
واہ واہ بہترین کلام
ظہیراحمدظہیر — جولائی 26، 2016 12:37 صبح
بہت خوب!! کیا اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیئے !
الف عین — جولائی 26، 2016 10:21 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔ یہ شعر ذرا وضاحت چاہتا ہے۔ ہاں اگر ’ہم نوا ‘ پر ’!‘ لگا دیا جائے تو تخاطب کے ساتھ خوب ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں عزیزہ المیٰ کیا یہی کہنا چاہتی ہیں؟
گونجتی ہے گنبدِ ہستی میں کیسی بازگشت
ہم نوا ہم کو ملا ذوقِ سماعت ہی نہیں
La Alma — جولائی 26، 2016 11:17 صبح
واہ واہ بہترین کلام
آپ کا بہت شکریہ .
بہت خوب!! کیا اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیئے !
بہت مہربانی .
La Alma — جولائی 26، 2016 11:19 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔ یہ شعر ذرا وضاحت چاہتا ہے۔ ہاں اگر ’ہم نوا ‘ پر ’!‘ لگا دیا جائے تو تخاطب کے ساتھ خوب ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں عزیزہ المیٰ کیا یہی کہنا چاہتی ہیں؟
گونجتی ہے گنبدِ ہستی میں کیسی بازگشت
ہم نوا ہم کو ملا ذوقِ سماعت ہی نہیں
پسندیدگی کے لیے بہت ممنون ہوں .
سر آپ درست سمجھے، یہاں ہمنوا سے تخاطب ہی ہے .

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AA%D8%B4%D9%90-%D8%B3%D9%88%D8%B2-%D9%90%D8%AC%DA%AF%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%A8-%D9%88%DB%81-%D8%B4%D8%AF%D8%AA-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.91139/