آج آنکھوں سے مری اس نے ملائی آنکھیں-----برائے اصلاح

ارشد چوہدری — جنوری 30، 2021 3:45 صبح
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع ؛راحل؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آنکھوں سے مری اس نے ملائی آنکھیں
اک نظر دیکھ کے پھر اس نے جھکائی آنکھیں
---------
اس کی نظروں سے ملا ہم کو پیامِ الفت
سب جہاں بھول گئے اس پہ جمائی آنکھیں
-----------
اب تو ہمّت ہی نہیں ٖغیر کی جانب دیکھیں
اس کی صورت سے نہیں ہم نے ہٹائی آنکھیں
-------------
بن گیا یار مرا پاس ہے میرے رہتا
اب نہیں غیر نہ اس کی ہیں پرائی آنکھیں
------------
اس کی آنکھوں نے دیا ہم کو حصارِ الفت
جب ستایا ہے کبھی اس نے دکھائی آنکھیں
----------
جب سے ارشد نے محبّت سے ہے دیکھا اس کو
------ یا
جب سے ارشد نے ہے اس کو بنایا اپنا
اس نے غیروں کی طرف پھر نہ اٹھائی آنکھیں
--------------
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 30، 2021 9:09 صبح
آنکھیں چونکہ جمع ہے، اس لیے اس کی مناسبت سے قوافی ملائیں، جھکائیں، جمائیں وغیرہ ہونے چاہئیں. پرائی اس زمین میں نہیں آئے گا.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B3-%D9%86%DB%92-%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.114914/