آج اس نے ہے محبّت سے پکارا مجھ کو------برائے اصلاح

ارشد چوہدری — اکتوبر 22، 2020 4:32 صبح
الف عین
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن
-------------
آج اس نے ہے محبّت سے پکارا مجھ کو
مل گیا پھر سے ہے جینے کا سہارا مجھ کو
--------------
اس نے پہلے تو مرے دل میں محبّت ڈالی
پھر اچانک ہی بلندی سے اتارا مجھ کو
--------------
آج ان کو بھی نگاہوں کو چراتے دیکھا
جو سمجھتے تھے کبھی جان سے پیارا مجھ کو
---------
اب جو آئے ہو تمہیں آج نہ جانے دوں گا
اب کبھی چھوڑ کے جانا نہ خدارا مجھ کو
---------------
کاش ان سے نہ محبّت کا تقاضا کرتے
پاس اپنے جو نہ کر پائیں گوارا مجھ کو
-------------
اس کو دل سے میں بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے
مشکلوں میں تھا دیا جس نے سہارا مجھ کو
-----------
ہے مجھے یاد ترا چھوڑ کے جانا ارشد
بھول سکتا ہے بھلا کیا وہ نطارا مجھ کو
-----------
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 22، 2020 5:45 صبح
آج غصے سے بہت اس نے لتاڑا مجھ کو
تب مقدر بھی لگا اپنا کباڑا مجھ کو
میں کہ اک حرفِ محبت تھا لکھا کاغذ پر
پرزہ پرزہ کیا اُس شخص نے پھاڑا مجھ کو
شوخ اداؤں سے خود اپنی مجھے گھائل کرکے
میں گیا جان سے کچھ ایسے بگاڑا مجھ کو
میں تو نظروں کو جھکائے تھا سرِ راہ گزار
اُس نے معصوم مجھے جان کے تاڑا مجھ کو
کب کوئی ماہ لقاء مجھ سے کرے گی شادی
کب بناپائیں گی بہنیں مری لاڑا مجھ کو
یوں ہنسی آتی ہے قسمت پہ خود اپنی مجھ کو
لوگ ہنسنے کا بھی دے جاتے ہیں بھاڑا مجھ کو
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 22، 2020 9:52 صبح
آج اس نے ہے محبّت سے پکارا مجھ کو
مل گیا پھر سے ہے جینے کا سہارا مجھ کو
آج اس نے جو محبت سے پکارا مجھ کو
مل گیا جینے کا پھر سے ہے سہارا مجھ کو
اب جو آئے ہو تمہیں آج نہ جانے دوں گا
اب کبھی چھوڑ کے جانا نہ خدارا مجھ کو
پہلے مصرعے میں تحدی، دوسرے میں منت؟؟؟ عجیب سا لگتا ہے۔
کاش ان سے نہ محبّت کا تقاضا کرتے
پاس اپنے جو نہ کر پائیں گوارا مجھ کو
شعر دولخت ہے۔
ہے مجھے یاد ترا چھوڑ کے جانا ارشد
بھول سکتا ہے بھلا کیا وہ نطارا مجھ کو
ترا چھوڑ کے جانا کے بجائے اُس کا چھوڑ کے جانا کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
دوسرے مصرعے فاعل مفعول وغیرہ گڑبڑا گئے ہیں۔ آپ نظارے کو بھول سکتے ہیں، یا نظارہ آپ سے بھُلایا جاسکتا ہے۔ نظارہ آپ کو بھول نہیں سکتا۔
دعاگو،
راحلؔ۔
ارشد چوہدری — اکتوبر 22، 2020 11:40 صبح
احسن بھائی کی اصلاح اور خلیل بھائی کا مزاح دونوں زبردست۔اللہ ہم سب کو حفظ وامان میں رکھے ، آمین
ارشد چوہدری — اکتوبر 23، 2020 4:42 صبح
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن
---------
دو اشعار کی تصحیح
---------
اب جو آئے ہو تمہیں آج نہ جانے دوں گا
کب جدائی ہے تمہاری یوں گوارا مجھ کو
----------
کاش ان سے نہ محبّت کا تقاضا کرتے
جن کی چاہت نے اذیت سے گزارا مجھ کو
-----------
الف عین — اکتوبر 23، 2020 7:24 صبح
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن
---------
دو اشعار کی تصحیح
---------
اب جو آئے ہو تمہیں آج نہ جانے دوں گا
کب جدائی ہے تمہاری یوں گوارا مجھ کو
----------
کاش ان سے نہ محبّت کا تقاضا کرتے
جن کی چاہت نے اذیت سے گزارا مجھ کو
-----------
دوسرا شعر تو اب بھی واضح نہیں
پہلے شعر میں 'یوں' کی و کا اسقاط اچھا نہیں
ارشد چوہدری — اکتوبر 24، 2020 2:29 صبح
الف عین
-------
(ایک بار پھر)
-------
ہمسفر میں بھی رہوں گا ترا جب تک رہا دم
تُو بھی اب چھوڑ کے جانا نہ خرارا مجھ کو
-----------
بے وفا تجھ سے محبّت کا تقاضا تھا عبث
تُو نے غم دے کے جدائی کا ہے مارا مجھ کو
-----------
الف عین — اکتوبر 24، 2020 9:39 صبح
درست ہیں دونوں اشعار

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%D8%A7%D8%B3-%D9%86%DB%92-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%91%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.113623/