آج جب گزرا ایک چوراہے سے (ایک آزاد نظم برائے اصلاح)

Abbas Swabian — جون 5، 2016 6:34 صبح
(مذکر مونث اور دیگرضروری اصلاح ہو جائے تو مہربانی ہوگی)

آج جب گزرا ایک چوراہے سے
آنکھوں میں ایک چبھن سی ہوئی

ذرا گھوم کے دیکھا غور سے

بڑا دلخراش منظر تھا

ایک بے بس عورت کھڑی تھی

دکاندار تو موجود ہی تھا

مگر چند اور بھی تماشائی تھے

وہ عورت چند سکوں کی خاطر

سراپا سوال تھی بنی

اور وہ لوگ اس کے جسم کے

ہر ایک نقطے پہ نظریں رکھ کر

دلوں کو خوب ہوا دیتے رہے

وہ دکاندار بھی ظالم تھا بڑا

اس عورت کو چند طعنے دے کر

کہیں اور جانے کا کہا

وہ عورت صبر کا تھی پہاڑ

اپنے آنسو کو روک کر اس نے

ایک ایک دکان پہ گئی

مگر افسوس کہ سبھی پتھر دل

اس مجبور کو طعنے دیتے رہے

وہ بے بسی کے عالم میں

سرد آہ بھر کر کہنے لگی

میں اگر جسم فروشی کرتی

یہ سبھی مرد پجاری ہوتے

لیکن اے میرے خالق

آج بھی صبر ہے فاقے پر

میں نے جب سارا یہ منظر دیکھا

خود سے کہنے لگا میں اے شایین

یہ کن جانوروں کی بستی ہے

یہاں انسانیت اتنی سستی ہے؟

پھر دل میں خیال آیا اس عورت کا

سوچا کہ اس کی مدد کروں

لیکن نہ جانے پل بھر میں

وہ صبر کی پیکر کہاں چلی
الف عین — جون 5، 2016 1:27 شام
آزاد نہیں یہ مادر پدر آزاد یعنی نثری نظم ہے۔ اس میں مجھے کوئی ردم بھی محسوس نہیں ہوا۔ اس کو کہانی کے طور پر ہی دوبارہ لکھیں۔
اگر نثری نظم بھی مانی جائے تو جملوں کی ترتیب خواہ مخواہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ تخلص کی ضرورت ہے۔
دو املا کی غلطیاں
چبھن ۔۔ چ ب ھ ن۔ چ ھ ب ن نہیں جیسا لکھا گیا ہے۔
سکوں۔ سکھوں نہیں، سکھ تو سردار جی کو کہتے ہیں!!
عباد اللہ — جون 5، 2016 7:09 شام
شاہین کوشش کرو یہ تمام کہانی دو مصرعوں میں بیان کر دو کہ اختصار ہی وہ الہامی جوہر ہے جو دل پر اثر کرتا ہے یا اگر وضاحت ایسی ہی ضروری ہے تو مضمون افسانے کہانی اور ناول کے اصناف موجود ہیں ان میں طبع آزمائی کرو
Abbas Swabian — جون 6، 2016 4:43 صبح
آزاد نہیں یہ مادر پدر آزاد یعنی نثری نظم ہے۔ اس میں مجھے کوئی ردم بھی محسوس نہیں ہوا۔ اس کو کہانی کے طور پر ہی دوبارہ لکھیں۔
اگر نثری نظم بھی مانی جائے تو جملوں کی ترتیب خواہ مخواہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ تخلص کی ضرورت ہے۔
دو املا کی غلطیاں
چبھن ۔۔ چ ب ھ ن۔ چ ھ ب ن نہیں جیسا لکھا گیا ہے۔
سکوں۔ سکھوں نہیں، سکھ تو سردار جی کو کہتے ہیں!!
بہت بہت شکریہ سر جی اللہ آپکو خوش رکھے۔ سر جی ویسے ایک مشورہ لینا چاہتا ہوں ۔ میں شاعری جیسی عظیم میدان کو خیرباد کہہ دوں یا میں لکھنے کے قابل ہو جاؤنگا؟
Abbas Swabian — جون 6، 2016 4:49 صبح
شاہین کوشش کرو یہ تمام کہانی دو مصرعوں میں بیان کر دو کہ اختصار ہی وہ الہامی جوہر ہے جو دل پر اثر کرتا ہے یا اگر وضاحت ایسی ہی ضروری ہے تو مضمون افسانے کہانی اور ناول کے اصناف موجود ہیں ان میں طبع آزمائی کرو
شکریہ سر جی۔ اللہ آپکو ہمیشہ خوش و خرم رکھے آمین۔
الف عین — جون 6، 2016 11:41 صبح
مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ خوب مطالعہ کرو، ان شاء اللہ اچھا کہو گے، غزلیں تو اچھی خاصی کہہ لیتے ہو!
Abbas Swabian — جون 6، 2016 6:39 شام
مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ خوب مطالعہ کرو، ان شاء اللہ اچھا کہو گے، غزلیں تو اچھی خاصی کہہ لیتے ہو!
شکریہ سر جی۔ حوصلہ دینے کے لیے بہت بہت شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%D8%AC%D8%A8-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%86%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90267/