آج محفل میں تمہاری ہم بنے ہیں اجنبی----برائے اصلاح

ارشد چوہدری — ستمبر 1، 2020 4:40 صبح
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
-----------
آج محفل میں تمہاری ہم بنے ہیں اجنبی
کیا محبّت سب تمہاری تھی تمہاری دل لگی
-------------
جو بھروسہ پیار پر تھا ، وہ سبھی میں کھو چکا
جب سے میں نے دیکھ لی ہے یہ تمہاری بے رخی
-------------
کل تمہارے تھیں لبوں پر جن کی خاطر نفرتیں
آج کیسے ہو گئی ہے دشمنوں سے دوستی
--------------------
جو عدالت میں کھڑے تھے مجرموں کے ساتھ کل
بن رہے ہیں آج ایسے ہیں ازل سے مولوی
--------------
دل کھچا ہی جا رہا ہے دیکھ کر صورت تری
حسن ایسا دیکھتے ہی چھا گئی ہے بے خودی
-------------------
دیکھتے ہی دیکھتے ہے پیار تم سے ہو گیا
اب تو تم سے عشق کرنا ہو گیا ہے لازمی
----------------------
تم نے ارشد کو دیا ہے پیار اتنا مہرباں
--------یا
تم جو ارشد پر ہوئے ہو اس طرح سے مہرباں
اس کا چہرہ دیکھ لو اب ، آ گئی ہے تازگی
--------------------
محمد عبدالرؤوف — ستمبر 1، 2020 10:52 صبح
ارشد بھائی معذرت کے ساتھ :unsure:
آپ کی اس غزل کے تقریباً ہر شعر میں تعقید کا مسئلہ درپیش ہے میرا مشورہ تو یہی ہے ہر شعر کو دوبارہ گرہ لگائیں باقی تو اساتذہ بہتر جانتے ہیں
ارشد چوہدری — ستمبر 3، 2020 12:27 صبح
کسی ایک شعر کو لے کر مجھے تعقید کا مفہوم سمجھائیں تاکہ باقی اشعار کو ٹھیک کر سکوں
-----
ارشد چوہدری — ستمبر 3، 2020 12:28 صبح
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D9%85-%D8%A8%D9%86%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AC%D9%86%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.113053/