آرزوئے وصال مت کیجے

عمار ابن ضیا — جولائی 5، 2008 6:46 صبح
کل دن میں وارث بھائی کے لکھے مضمون "بحر خفیف" کو سرسری سا دیکھا تھا، پھر موسم بھی بہت خوشگوار تھا شاید اسی لیے ایک طویل عرصہ بعد کچھ آمد ہوئی۔ اگرچہ ندرتِ خیال سے قطعی محروم :( بہرحال، اصلاح کی درخواست ہے۔
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
خوامخواہ دل نہال مت کیجے
دل تو اپنا رقیب ٹھہرا ہے
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں بھلا؟ چھوڑیئے یہ سب عمار
اپنا جینا محال مت کیجئے
جیا راؤ — جولائی 5، 2008 8:53 صبح
بہت خوب عمار۔
یوں تو مکمل غزل بہت اچھی لگی مگر ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے !

میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
بہت ہی اچھے !
زھرا علوی — جولائی 5، 2008 9:07 صبح
خوبصورت غرل ہے عمار صاحب
داد قبول کیجیے۔۔۔
سارہ خان — جولائی 5، 2008 11:20 صبح
بہت خوب عمار ۔۔ اصلاح تو ماہرین ہی کر سکتے ہیں ۔۔ ہم جیسے تو بس داد دے سکتے ہیں ۔۔ بہت اچھی لکھی ۔۔:clapp:
امر شہزاد — جولائی 5، 2008 11:43 صبح
اتنی جلدی میں ایسی اچھی غزل
واہ واہ
فرخ منظور — جولائی 5، 2008 11:56 صبح
بہت اچھی غزل ہے عمار - بہت عمدہ- :)
محمد وارث — جولائی 5، 2008 12:00 شام
بہت اچھی غزل ہے عمار بہت خوب۔ لا جواب
عمار ابن ضیا — جولائی 5، 2008 12:06 شام
جیا، زہرا، سارہ، امر شہزاد، آپ سب کا بہت شکریہ۔
فرخ بھائی اور وارث بھائی! سراہنے پر آپ کا بھی شکریہ لیکن آپ لوگوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کرنا ہے۔ اصلاح بھی کرنی ہے۔۔۔۔
وارث بھائی۔۔۔۔۔!!! آج یومِ شعر و سخن ہے ;) آج چھٹی نہیں۔
فرخ منظور — جولائی 5، 2008 12:58 شام
غزل ہے ہی عمدہ - مجھے تو اس میں کوئی کجی نظر نہیں‌ آئی - شاید وارث صاحب کچھ مزید رہنمائی کرسکیں-
سیدہ شگفتہ — جولائی 5، 2008 1:26 شام
:great:
.
الف عین — جولائی 5، 2008 7:08 شام
اچھی غزل ہے عمار۔۔ لیکن کیوں کہ اصلاح کے لئے یہاں پیش کی گئی ہے اس لئے لازم ہے کہ فصیل سے جائزہ لوں:
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
اچھا واضح مطلع ہے۔ خوب
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
واہ واہ۔۔۔ اچھا شعر نکالا ہے، مبارک
جو اسے لاجواب کر چھوڑے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
شعر یوں تو درست ہے، لیکن ذرا لفظ ’چھوڑے‘ بھلا نہیں لگ رہا۔
اگر ’جو اسے لاجواب کر ڈالے
کلہیں تو۔۔ بات بہتر ہوتی ہے یا بگڑ جاتی ہے۔ وارث، فرخ!!
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
خوامخواہ دل نہال مت کیجے
دوسرے مصرع میں ’خواہ مخواہ‘ محض ’خامخا‘ تقطیع ہو رہا ہے، جب کہ یہ خاہ مخاہ ہونا چاہئے۔ یعنی بر وزن فعل فعول
اگر محض ’اس طرح ‘ کر دیا جائے تو؟
دل تو اپنا رقیب ٹھہرا ہے
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
درست ہے، لیکن اگر پہلے مصرع کو تھوڑا بدل دیں تو بات بہتر ہو جائے شاید:
دل تو اپنا/آخر رقیب ہی ٹھہرا
کیوں بھلا؟ چھوڑیئے یہ سب عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
یہاں ’کیو‫‫ں بھلا‘ ذرا کھٹک رہا ہے۔ کچھ متبادل مصرعے
ٹالیے چھوڑیے میاں عمار
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
مجموعی طور پر بہت اچھی غزل ہے۔ مبارک ہو عمار۔
ابن سعید — جولائی 5، 2008 7:18 شام
عمار بھائی بہت شگفتہ تحریر ہے اور چاچو نے چرخہ چلا کر مزید حسین کر دیا ہے۔ :)
ماوراء — جولائی 5، 2008 10:38 شام
بہت خوب عمار۔
یہ شعر کیا خوب کہا ہے۔
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
ایم اے راجا — جولائی 6، 2008 8:35 صبح
عمار صاحب بہت خوب بہت ہی خوب اور معنی خیز غزل ہے، واہ واہ واہ۔
فرخ منظور — جولائی 6، 2008 9:00 صبح
عمار واقعی اعجاز صاحب کی رائے بہت صائب ہے - اس پر غور کیجیے گا تو غزل مزید بہتر ہوجائے گی -
arifkarim — جولائی 6، 2008 10:58 صبح
واہ عمار، اتنی سی عمر اور عمدہ شاعری!
خرم شہزاد خرم — جولائی 6، 2008 11:43 صبح
بہت خوب عمار بھائی بحرِ حفیف وارث صاحب کی پسند کی بحر ہے میں نے بھی ان کا مضمون پڑھ کر دو ،تین غزلیں لکھ لی تھی لیکن ان غزلوں میں سے کوئی بھی اسی نہیں تھی جو آپ کی اس غزل کے برابر ہوتی آپ کی یہ غزل بہت پسند آئی بہت خوب جس طرح ایک شعر بہت زیادہ پسند کیا گیا اسی طرح مجھے بھی وہ ہی شعر سب سے زیادہ پیارا لگا ہے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
کیا شعر ہے بہت خوب باقی غزل بھی اپنی مثال آپ ہے جاری رکھے شکریہ
نبیل — جولائی 6، 2008 12:16 شام
بحر خفیف تو مجھے بھی بہت پسند آئی ہے۔
پڑ جائے طمانچہ گر ایک تو
سامنے دوسرا گال مت کیجیے
مانا کہ خوب شعر کہتے ہیں آپ
ایسی بے ڈھنگی چال مت کیجیے​

دخل در معقولات کی معذرت ۔۔۔ :cool:
محمد وارث — جولائی 6، 2008 5:09 شام
اجی واہ واہ واہ برادرم، گولی ماریئے بحرِ خفیف کو، کیا جودتِ طبع دکھائی آپ نے، لا جواب، کیا قافیے ہیں، کیا بات ہے، کیا چال ہے واہ واہ واہ :)
جہانزیب — جولائی 6، 2008 5:16 شام
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
اس سال کا پسندیدہ شعر :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84-%D9%85%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D8%AC%DB%92.13760/