آسماں بھی اب زمیں پر آ گیا

نوید ناظم — دسمبر 7، 2017 7:10 شام
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظلم ڈھانے کو یہیں پر آ گیا
آسماں بھی اب زمیں پر آ گیا
عمر بھر چلتا رہا اور ایک دن
میں جہاں تھا پھر وہیں پر آ گیا
سامنے اُس بت کے میں جھکتا بھلا
سجدہ خود میری جبیں پر آ گیا
میں چلا لوں گا پڑاؤ کو بھی ساتھ
راستے میں جو کہیں پر آ گیا
دل جو مانگا تو کہا قصہ سنو
اور پھر قصہ "نہیں" پر آ گیا
ڈھونڈتا غم کو کہاں پر جا کے میں
یہ تو اچھا ہے یہیں پر آ گیا
جس مکاں کو کل بنایا پیار سے
اب گرا ہے تو مکیں پر آ گیا
نوید ناظم — دسمبر 7، 2017 7:13 شام
محترم سر الف عین
الف عین — دسمبر 8، 2017 3:29 شام
اچھے اشعار ہیں۔ بس دو تین اشعار میں تبدیلی تجویز کروں گا۔
میں چلا لوں گا پڑاؤ کو بھی ساتھ
راستے میں جو کہیں پر آ گیا
÷÷واضح نہیں ہوا۔
دل جو مانگا تو کہا قصہ سنو
اور پھر قصہ "نہیں" پر آ گیا
÷÷یہ تو واضح کرو کہ دل ’ان‘ سے مانگا گیا تھا!!!
نوید ناظم — دسمبر 11، 2017 5:40 صبح
اچھے اشعار ہیں۔ بس دو تین اشعار میں تبدیلی تجویز کروں گا۔
میں چلا لوں گا پڑاؤ کو بھی ساتھ
راستے میں جو کہیں پر آ گیا
÷÷واضح نہیں ہوا۔
دل جو مانگا تو کہا قصہ سنو
اور پھر قصہ "نہیں" پر آ گیا
÷÷یہ تو واضح کرو کہ دل ’ان‘ سے مانگا گیا تھا!!!
بہت شکریہ سر۔۔۔
اب ملاحظہ کیجئے گا۔۔۔
ان سے دل مانگا تو ایسی بات کی
مدعا جس میں ''نہیں'' پر آ گیا
میں جھٹک ہی دوں گا منزل کا خیال
راستے میں جو کہیں پر آ گیا
الف عین — دسمبر 11، 2017 9:18 صبح
اب درست ہو گئے ہیں اشعار

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D8%A8-%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D8%A2-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.99361/