آشعار براے اصلاح

عابد علی خاکسار — اپریل 18، 2017 7:16 شام
جب میری جبیں ھو گی، یثرب کی گلی ھو گی۔۔۔۔۔۔
اے ذوق بتا تو ہی، وہ کیسی گھڑی ھو گی۔۔۔
دوزخ ھے کہ جنت ھے، یہ کس کو خبر ھو گی۔۔۔۔۔
دنیا تو تجھے تکنے محشر میں کھڑی ھو گی۔۔۔۔
سارے کا نپتے ھوں گے جب ڈر سے سر ء محشر۔۔۔۔
اس وقت بھی آقا کو امت کی پڑی ھو گی۔۔۔۔
محمد عظیم الدین — اپریل 18، 2017 7:29 شام
عابد بھائی اشعار پیارے ہیں، مطلع میں جبیں کا تعلق یثرب کی گلی سے شاید بن نہیں رہا۔ میری ذاتی رائے ہے۔ باقی اساتذہ بہتر سمجھتے ہیں۔
عابد علی خاکسار — اپریل 19، 2017 5:22 صبح
عابد بھائی اشعار پیارے ہیں، مطلع میں جبیں کا تعلق یثرب کی گلی سے شاید بن نہیں رہا۔ میری ذاتی رائے ہے۔ باقی اساتذہ بہتر سمجھتے ہیں۔
آپ کی راے قابل ءقدر ھے مگر یہ مرے دل کی بات ھے۔۔
بجا ھے ضرورت کے تحت یثرب استعمال کیا ھے مگر اس سے مقصد میں شائد فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 19، 2017 6:49 صبح
ماشاءاللہ بھائی۔اللہ کریم آپ کے قلم میں اور ذوق محبت عطا کریں۔آمین
ڈاکٹرعامر شہزاد — اپریل 19، 2017 7:00 صبح
جزاک اللہ ۔ بہت پیارے اشعار ہیں ۔
عابد علی خاکسار — اپریل 19، 2017 11:51 صبح
محمد عدنان اکبری نقیبی صاحب اور عامر شہزاد صاحب ۔۔ آپ کی محبتوں اور ذرہ نوازی کا کا بہت بہت شکریہ۔۔۔
الف عین — اپریل 19، 2017 2:36 شام
پہلی بات تو یہ کہ یثرب لفظ سے احتیاط بہتر ہے۔
دوسری بات، مدینے کی گلی میں سجدے کا ارادہ ہے کیا؟ یہ تو شرک ہو گا نعوذ باللہ۔
دوسرا شعر مطلع نہیں ہے لیکن ردیف ’ہو گی‘ سے ایسا حساس ہوتا ہے۔ گلی، گھڑی، گئی، ملی، نئی، پڑی وغیرہ قوافی ہوں گے۔ اگرچہ بقیہ قوافی میں صرف گھڑی کا قافیہ کھڑی اور پڑی استعمال کئے گئے ہیں۔ لیکن غزل میں درست ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دوسرے اشعار میں دوسری قسم کے قوافی بھی شامل ہوں۔
تیسر شعر بحر سے خارج ہے۔یوں بحر میں آ سکتا ہے
سب خوف زدہ ہوں گےجب ڈر سے سرِ محشر
عاطف ملک — اپریل 19، 2017 2:59 شام
پہلی بات تو یہ کہ یثرب لفظ سے احتیاط بہتر ہے۔
متفق
دوسری بات، مدینے کی گلی میں سجدے کا ارادہ ہے کیا؟ یہ تو شرک ہو گا نعوذ باللہ۔
سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔
امید ہے آپ درگزر سے کام لیں گے اس بات پر۔
الف عین — اپریل 19، 2017 3:37 شام
اس کا کوئی قرینہ نہیں کہ یہ سجدہ نماز ہے۔ اس لیے مجھے غلط فہی ہوئی۔
عابد علی خاکسار — اپریل 19، 2017 6:55 شام
متفق
متفق
سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔
امید ہے آپ درگزر سے کام لیں گے اس بات پر۔

سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرک کا تو کوئ بھی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔اللہ کے حضور سجدہ تو ھر جگہ کیا جا سکتا ھے مگر جہاں اللہ کے انوارات کی بارش ھو رھی ھو وھاں سر جھکانے کا ایک الگ ہی روحانی کیف ھے۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال جو بات دوسروں کو غلط فہمی میں مبتلا کرے وہ بات ٹھیک بھی ٹھیک نہیں ھوتی۔۔۔۔۔۔ بہت مشکل ھے یہاں پاوں پھونک پھونک کر چلنا پڑتا ھے۔۔۔ اللہ پاک معاف فرماے۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.95893/