مزمل شیخ بسمل — اگست 10، 2012 2:16 صبح
کسی کی آمد کی آہٹوں پر ہم اپنی اپنی خوشی دبائے,
میں دل سے پوچھوں وہ مجھ سے پوچھے, یہ شام اتنی حسین کیوں ہے ؟
الف عین — اگست 10، 2012 1:34 شام
آمد کی آہٹ پر ذرا غور کرو، آمد کا تصور ہو سکتا ہے، یا کسی آہٹ کی آواز یا احساس
مزمل شیخ بسمل — اگست 10، 2012 3:47 شام
جی استاد جی صحیح نشاندہی کی آپ نے۔
یوں کہوں تو؟
کسی کی آمد کے اس تصور پے اپنی اپنی خوشی دبائے۔
کیا یہ صحیح ہوگا؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 10، 2012 7:19 شام
ویسے استاد جی آمد کی آہٹ کو ختم کرکے آنے کی آہٹ کردیا جائے تو؟
ایک لتا کا مشہور گانا بھی تو ہے :
سنی جو انکے آنے کی آہٹ
غریب خانا سجایا ہم نے۔
اور گلزار صاحب کی۔
نہ آنے کی آہٹ نہ جانے کی کب آتے ہو۔
الف عین — اگست 11، 2012 7:17 صبح
آنے کی آہٹوں واقعی اچھا رہے گا، مکمل غزل کر دو، اچھا شعر ہے یہ۔