ہم تو اتنی اصلاح دے سکتے ہیں کہ دوسرے مصرع میں ٹائپو ہو گیا ہے
محمد وارث — اگست 5، 2012 3:46 شام
پیغمبر کی بجائی لفظ پیمبر چاہیے۔ خوبصورت خیال ہے شعر پسند بھی آیا، دوسرا مصرع جس طرح کا جاندار ہے وہ اس کا متقضی ہے کہ پہلا مصرع بھی اتنا ہی جاندار اور رواں ہوتا۔ لیکن اگر یہ شعر میرا ہوتا تو بوجہ ادب شاید اس کو قلم زد کر دیتا۔
ارے وارث بھائی اتنا تو سمجھ ہی سکتا ہوں میں. اور آپ کی خاطر ایک نہیں سو شعر قلم زد کردوں.
وہ تو بس کوئی بات ذہن میں ہو تو شعر ہو جاتا ہے. یہ بھی یونہی ہوگیا.
مزمل شیخ بسمل — اگست 5، 2012 4:51 شام
ناعمہ، صائمہ اور مہدی تینوں قابلِ احترام شخصیات کی پسندیدگی پر شکرگذار ہوں،
جی بیشک نایاب بھائی میرا مقصد ہرگز وہ نہیں تھا جسے آپ نے سمجھا۔
پیار محبت اور اخلاق کی چوٹیاں تو میرے آقا (ص) سر کر گئے ہیں۔
میرا مقصد ان پے جرات باندھنا ہرگز نہیں تھا۔
لیکن میں نے بنا کسی دلیل اور صفائی کے اس کو قلم زد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو آگے کچھ بچتا ہی نہیں ہے کہنے کو۔