شباب کے سن کر فسانے ترے
چلے آئے ملنے دوانے ترے
شبِ وصل ہیں یاد اب بھی ہمیں
وہ حیلے ترے، وہ بہانے ترے
رہے درد کے جام چھلکاتے سے
نگاہوں کے بے خود مے خانے ترے
وہ زرائے ایماں بھی جاتا رہا
گئے جو کبھی آستانے ترے
تجھے اے جنوں! بھائے صحرا ، یا پھر
سرئے دار ہوئے ٹھکانے ترے
چلے آئے ملنے دوانے ترے
شبِ وصل ہیں یاد اب بھی ہمیں
وہ حیلے ترے، وہ بہانے ترے
رہے درد کے جام چھلکاتے سے
نگاہوں کے بے خود مے خانے ترے
وہ زرائے ایماں بھی جاتا رہا
گئے جو کبھی آستانے ترے
تجھے اے جنوں! بھائے صحرا ، یا پھر
سرئے دار ہوئے ٹھکانے ترے