اب آؤ غمِ حیات مانگیں

La Alma — جون 4، 2016 8:49 صبح

اب آؤ غم ِحیات مانگیں
پیہم نئی واردات مانگیں
از راہِ مرکب ِتخیل
ہم فکر کے مفردات مانگیں
تشہیرِ سخن کے واسطے ہم
کیسے نہ قلم دوات مانگیں
پھر تذکرہِ حدیثِ دل کو
ہم روز نئی لغات مانگیں
چرچا ہے جہاں میں امرِ کُن کا
کیونکر نہی کا ثبات مانگیں
المٰی تہِ جاں ہیں کتنی پرتیں
ادراکِ علومِ ذات مانگیں

عباد اللہ — جون 4، 2016 9:52 صبح
خوبصورت غزل ہے
زیادہ تر مصرعے مفعول مفاعلن فعولن میں ہیں کوشش کریں سب کو اسی میں لے آئیں تو موسیقیت دو چند ہو سکتی ہے
اور وہ مرکبِ تخیل والا شعر مجھے سمجھ نہیں آیا
امرِ کن اور نہی کا ثبات بھی کچھ عجیب سا لگا
مقطع میں تہ جاں کا وہ مطلب نہیں جو خواہش کی گئی ہے ۔
مجموعی طور پر عمدہ غزل ہے داد قبول ہو
La Alma — جون 4، 2016 10:52 صبح
خوبصورت غزل ہے
زیادہ تر مصرعے مفعول مفاعلن فعولن میں ہیں کوشش کریں سب کو اسی میں لے آئیں تو موسیقیت دو چند ہو سکتی ہے
اور وہ مرکبِ تخیل والا شعر مجھے سمجھ نہیں آیا
امرِ کن اور نہی کا ثبات بھی کچھ عجیب سا لگا
مقطع میں تہ جاں کا وہ مطلب نہیں جو خواہش کی گئی ہے ۔
مجموعی طور پر عمدہ غزل ہے داد قبول ہو
بہت شکریہ .
آپ کو کون سا مصرع اس بحر میں نہیں لگا ؟
از راہِ مرکب ِتخیل
ہم فکر کے مفردات مانگیں
یعنی ہم سوچ کے خام مال (اجزا ، مفردات ) سے اپنا تخیل خود تشکیل دیں .زیادہ تر فکر مستعار لی ہوئی ہوتی ہے جو ہم اپنے گردو پیش کے حالت و واقعات پر عمومی رائے سے اخذ کرتے ہیں اگر ہمارے پاس فکر کے اجزائے ترکیبی ہوں گے تو تخیل ً خالصتًا اپنا ہو گا .
" نہی" تو" کن" کی ضد ہے .اور اس سے کس کو مفر ہے کہ "کن" کے آگے کسی کی نہیں چلتی .
مقطع میں آپ کو کیا لگا کیا خواہش کی گئی ہے ؟
عباد اللہ — جون 4، 2016 11:16 صبح
آپ کو کون سا مصرع اس بحر میں نہیں لگا ؟
پہلے مصرع میں آؤ میں ؤ بہر کیف دونوں طرح درست ہے۔
یعنی ہم سوچ کے خام مال (اجزا ، مفردات ) سے اپنا تخیل خود تشکیل دیں .زیادہ تر فکر مستعار لی ہوئی ہوتی ہے جو ہم اپنے گردو پیش کے حالت و واقعات پر عمومی رائے سے اخذ کرتے ہیں اگر ہمارے پاس فکر کے اجزائے ترکیبی ہوں گے تو تخیل ً خالصتًا اپنا ہو گا .
آپ شعر کی نثر کر دیکھئے ۔۔۔
اس مفہوم کے لئے قاری کو آپ سے رجوع کرنا پڑے گا
مقطع میں آپ کو کیا لگا کیا خواہش کی گئی ہے ؟
تہ خاک اور تہ مزار کے طرز پر تہ جاں یعنی جان کے نیچے پرتیں ہونا میرے نزدیک درست نہیں ۔
La Alma — جون 4، 2016 12:06 شام
پہلے مصرع میں آؤ میں ؤ بہر کیف دونوں طرح درست ہے۔
آپ شعر کی نثر کر دیکھئے ۔۔۔
اس مفہوم کے لئے قاری کو آپ سے رجوع کرنا پڑے گا
تہ خاک اور تہ مزار کی طرز پر تہ جاں یعنی جان کے نیچے پرتیں ہونا میرے نزدیک درست نہیں ۔
مرکب والے شعر میں اگر مہفوم کی صحیح ترسیل نہیں ہورہی تو اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے .
تہ جاں کو آپ ایک geologist کی نظر سے نہ دیکھیں .
نور وجدان — جون 4، 2016 3:09 شام
چرچا ہے جہاں میں امرِ کُن کا
کیونکر نہی کا ثبات مانگیں

میں عباد اللہ کی رائے سے متفق ہوں ۔۔۔ چرچا ۔۔۔امرکن کا نہیں ہوتا بلکہ امرکن ۔۔پر یقین ہوتا ہے ۔۔۔۔نہی کا ثبات مانگا نہیں جاتا ۔۔یہ بھی ایک کیفیت ہے ۔۔۔۔۔۔باقی غزل کافی اچھی ہے ۔۔۔ اچھا لکھتی ہیں المی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
La Alma — جون 4، 2016 4:00 شام
میں عباد اللہ کی رائے سے متفق ہوں ۔۔۔ چرچا ۔۔۔امرکن کا نہیں ہوتا بلکہ امرکن ۔۔پر یقین ہوتا ہے ۔۔۔۔نہی کا ثبات مانگا نہیں جاتا ۔۔یہ بھی ایک کیفیت ہے ۔۔۔۔۔۔باقی غزل کافی اچھی ہے ۔۔۔ اچھا لکھتی ہیں المی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیال اپنا اپنا ...
پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ .آئندہ بھی اپنی رائے سے نوازتی رہا کریں .☺
عباد اللہ — جون 4، 2016 4:23 شام

چرچا ہے جہاں میں امرِ کُن کا
کیونکر نہی کا ثبات مانگیں
لیکن اس شعر سے پریشان خیالی مترشح ہے!
La Alma — جون 4، 2016 4:42 شام
لیکن اس شعر سے پریشان خیالی مترشح ہے!
ہونی بھی چاہیے ، مقابل پہ" کن " جو ہے۔
الف عین — جون 4، 2016 4:53 شام
دوسرے شعر کی تو المیٰ نے تشریح کر دی ہے، لیکن راست، ان کی مدد کے بغیر میری سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا۔
آخری دونوں اشعار بھی مبہم ہیں۔
البتہ ایک بات کہوں گا۔ واردات اگرچہ عربی میں جمع ہے وارِد کا، لیکن اردو میں واحد ہی مستعمل ہے۔ اور اردو ہندی ترکیب سے اس کی جمع وارداتوں ÷وارداتیں بنائی جاتی ہے۔ ’پیہم‘ سے شک ہوتا ہے کہ المیٰ نے جمع کی صورت میں ہی لیا ہے۔
La Alma — جون 4، 2016 5:18 شام
دوسرے شعر کی تو المیٰ نے تشریح کر دی ہے، لیکن راست، ان کی مدد کے بغیر میری سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا۔
آخری دونوں اشعار بھی مبہم ہیں۔
البتہ ایک بات کہوں گا۔ واردات اگرچہ عربی میں جمع ہے وارِد کا، لیکن اردو میں واحد ہی مستعمل ہے۔ اور اردو ہندی ترکیب سے اس کی جمع وارداتوں ÷وارداتیں بنائی جاتی ہے۔ ’پیہم‘ سے شک ہوتا ہے کہ المیٰ نے جمع کی صورت میں ہی لیا ہے۔
شکریہ سر . واردات کا استمعال مصرع میں کس صورت درست ہے .واحد یا جمع ...؟
الف عین — جون 4، 2016 5:21 شام
شکریہ سر . واردات کا استمعال مصرع میں کس صورت درست ہے .واحد یا جمع ...؟
دونوں طرح۔واردات سے واحد سمجھا جاتا ہے۔ وارداتوں یا وارداتیں سے جمع کے صیغے کا درست پتہ چلتا ہے۔
فرقان احمد — جون 6، 2016 8:59 صبح
پھر وہی بات۔ شعری لہجہ نہایت منفرد۔ بہت خوب صورت غزل ہے المٰی۔ بے پناد داد!
صفی حیدر — جون 6، 2016 9:09 صبح
عمدہ فلسفیانہ تخلیقی کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
La Alma — جون 6، 2016 10:41 صبح
پھر وہی بات۔ شعری لہجہ نہایت منفرد۔ بہت خوب صورت غزل ہے المٰی۔ بے پناد داد!
بہت مشکور ہوں۔
La Alma — جون 6، 2016 10:42 صبح
عمدہ فلسفیانہ تخلیقی کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ .
zulfi — جون 23، 2016 12:25 شام
اب آؤ غم ِحیات مانگیں
پیہم نئی واردات مانگیں
از راہِ مرکب ِتخیل
ہم فکر کے مفردات مانگیں
الف عین — جون 23، 2016 6:05 شام
اگر یہ اعتراض ہے تو غلط ہے۔ اشعار درست ہیں
سید اسد معروف — جون 23، 2016 8:33 شام
بہت خوب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%A2%D8%A4-%D8%BA%D9%85%D9%90-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%DA%BA.90259/