خوبصورت غزل ہے
زیادہ تر مصرعے مفعول مفاعلن فعولن میں ہیں کوشش کریں سب کو اسی میں لے آئیں تو موسیقیت دو چند ہو سکتی ہے
اور وہ مرکبِ تخیل والا شعر مجھے سمجھ نہیں آیا
امرِ کن اور نہی کا ثبات بھی کچھ عجیب سا لگا
مقطع میں تہ جاں کا وہ مطلب نہیں جو خواہش کی گئی ہے ۔
مجموعی طور پر عمدہ غزل ہے داد قبول ہو
بہت شکریہ .
آپ کو کون سا مصرع اس بحر میں نہیں لگا ؟
از راہِ مرکب ِتخیل
ہم فکر کے مفردات مانگیں
یعنی ہم سوچ کے خام مال (اجزا ، مفردات ) سے اپنا تخیل خود تشکیل دیں .زیادہ تر فکر مستعار لی ہوئی ہوتی ہے جو ہم اپنے گردو پیش کے حالت و واقعات پر عمومی رائے سے اخذ کرتے ہیں اگر ہمارے پاس فکر کے اجزائے ترکیبی ہوں گے تو تخیل ً خالصتًا اپنا ہو گا .
" نہی" تو" کن" کی ضد ہے .اور اس سے کس کو مفر ہے کہ "کن" کے آگے کسی کی نہیں چلتی .
مقطع میں آپ کو کیا لگا کیا خواہش کی گئی ہے ؟