اب تو نئے سفر کی شروعات ہو گئی

فاروق احمد بھٹی — اپریل 21، 2015 11:24 صبح
اساتذہ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب، جناب الف عین صاحب، جناب محمد وارث صاحب، اور دیگر صاحبانِ علم اور محفلین کے سامنے ایک غزل اصلاح کی غرض سے پیش ہے۔ اپنی قیمتی آرا سے نواز کر شکریہ کا موقع دیں۔
اب تو نئے سفر کی شروعات ہو گئی
اچھا ہوا کہ خود سے مِری بات ہو گئی
کل رات نیند آ گئی کانٹوں کی سیج پر
کیوں آج مخملوں پہ کٹھن رات ہو گئی
پہلے ادھار مال لیا، بیتِ مال سے
پھر قوم کی طرف سے یہ خیرات ہو گئی
عزت کسی غریب کی بیٹی کی لٹ گئی
بدلہ امیر تیری ملاقات ہو گئی؟
کل تک تھی حسن و خوبی ہی شرم و حیا یہاں
جانے وہ آج کیسے خرافات ہو گئی
احمدؔ تجھے بھی راس نہ آئیں مسرتیں
تیری بھی ذات صرفِ خرابات ہو گئی​
ادب دوست — اپریل 21، 2015 1:57 شام

عزت کسی غریب کی بیٹی کی لٹ گئی
بدلہ امیر تیری ملاقات ہو گئی؟
الف عین — اپریل 22، 2015 11:59 صبح
ادب دوست سے متفق ہوں۔ محض یہ دونوں ہی اغلاط محسوس ہوئیں مجھے بھی۔
فاروق احمد بھٹی — اپریل 22، 2015 12:20 شام
ادب دوست سے متفق ہوں۔ محض یہ دونوں ہی اغلاط محسوس ہوئیں مجھے بھی۔
بہت بہت شکریہ اور نوازش
کوئی اصلاح کی صورت؟
الف عین — اپریل 23، 2015 7:26 صبح
دوسرا شعر سمجھ نہیں سکا اس لئے کچھ کہہ نہیں سکتا۔
بیت المال درست ہوتا ہے۔ لیکن اس سے کچھ شے ادھار بھی لی جا سکتی ہے، اس کا مجھے علم نہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D9%88-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C.81465/