اب تک ہیں یاد ہم کو ان کی سبھی وفائیں

ارشد چوہدری — اکتوبر 27، 2023 12:56 صبح
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-------
اب تک ہیں یاد ہم کو ان کی سبھی وفائیں
ہم بے وفا نہیں جو دل سے انہیں بھلائیں
---------
کرتا ہے یاد ان کو دل آج بھی ہمارا
جی چاہتا ہے ان کو پہلو میں پھر بٹھائیں
----------
کر کے اداس ہم کو وہ دور جا بسے ہیں
دے دیں اگر اجازت ہم پاس ان کے جائیں
----------
ان کی ہمیں جدائی شائد نہ مار ڈالے
چہرے پہ غم لکھا ہے کیسے اسے چھپائیں
-----------
چاروں طرف ہے گھر کے ہم نے کیا چراغاں
ایسا نہ ہو ہمارے گھر کو وہ بھول جائیں
-----------
جن کا خیال دل میں ہر دم رچا بسا ہو
بالا ہے یہ سمجھ سے کیسے انہیں بھلائیں
--------
اک بار جس کسی کو اپنا سمجھ لیا ہو
چاہے خطا ہو اس کی ، نظروں سے نہ پھر گرائیں
----------
ان سے تجھے محبّت کیوں ہو گئی ہے ارشد
تیرے قریب رہ کر نظریں نہ جو ملائیں
----------یا
رہ کر قریب پھر بھی نظریں نہ جو ملائیں
-----------
ارشد چوہدری — اکتوبر 28، 2023 4:24 صبح
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:17 صبح
کرتا ہے یاد ان کو دل آج بھی ہمارا
جی چاہتا ہے ان کو پہلو میں پھر بٹھائیں
جی چاہتا ہے اُن کو پہلو میں لا بٹھائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:24 صبح
کر کے اداس ہم کو وہ دور جا بسے ہیں
دے دیں اگر اجازت ہم پاس ان کے جائیں
دیں گر ہمیں اجازت خود اُن کے پاس جائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:28 صبح
ان کی ہمیں جدائی شائد نہ مار ڈالے
چہرے پہ غم لکھا ہے کیسے اسے چھپائیں
اُن کی جدائی ہم کو اب مار ہی نہ ڈالے
چہرے سے غم ہے ظاہر کیسے اِسے چھپائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:35 صبح
چاروں طرف ہے گھر کے ہم نے کیا چراغاں
ایسا نہ ہو ہمارے گھر کو وہ بھول جائیں
چاروں طرف سے گھر کو روشن کیا ہے ہم نے
ممکن نہیں کہ اب وہ ۔۔۔رستہ ہی بھول جائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:52 صبح
جن کا خیال دل میں ہر دم رچا بسا ہو
بالا ہے یہ سمجھ سے کیسے انہیں بھلائیں
اُن کا خیال دل میں ایسے سما گیا ہے
ہیں ہر طرف وہی وہ کیسے انھیں بھلائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 7:56 صبح
اک بار جس کسی کو اپنا سمجھ لیا ہو
چاہے خطا ہو اس کی ، نظروں سے نہ پھر گرائیں
اک بار جب کسی کو اپنا سمجھ لیا ہو
الف عین — اکتوبر 28، 2023 8:05 صبح
کوئی اور یہاں آیا ہی نہیں اب تک؟ میں نے بھی اصلاح سخن میں آنا کم کم کر دیا ہے، کہ عظیم شکیل احمد خان23 یاسر شاہ اچھی طرح دیکھ رہے تھے اسے، میں بھی بس آ کر متفق کا ٹن دبا جاتا تھا یا کوئی بات جو دوسروں نے چھوڑ دی ہو، اس کی نشاندہی کر دوں۔ بہر حال
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-------
اب تک ہیں یاد ہم کو ان کی سبھی وفائیں
ہم بے وفا نہیں جو دل سے انہیں بھلائیں
---------
مجھے دو لخت لگتا ہے شعر، دونوں مصرعوں میں دونوں فریقوں کی وفاؤں کا ذکر ہے
کرتا ہے یاد ان کو دل آج بھی ہمارا
جی چاہتا ہے ان کو پہلو میں پھر بٹھائیں
----------
ٹھیک ہے
کر کے اداس ہم کو وہ دور جا بسے ہیں
دے دیں اگر اجازت ہم پاس ان کے جائیں
----------
یہ بھی دو لخت
ان کی ہمیں جدائی شائد نہ مار ڈالے
چہرے پہ غم لکھا ہے کیسے اسے چھپائیں
-----------
دو لخت یہ بھی
چاروں طرف ہے گھر کے ہم نے کیا چراغاں
ایسا نہ ہو ہمارے گھر کو وہ بھول جائیں
-----------
پہلا مصرع رواں نہیں "ہے" کی نشست کی وجہ سے
گھر کے چہار جانب ہم نے...
ایک امکان
جن کا خیال دل میں ہر دم رچا بسا ہو
بالا ہے یہ سمجھ سے کیسے انہیں بھلائیں
--------
بالا ہے یہ سمجھ سے... والا ٹکڑا بدل دیں
اک بار جس کسی کو اپنا سمجھ لیا ہو
چاہے خطا ہو اس کی ، نظروں سے نہ پھر گرائیں
----------
دوسرا مصرع بحر سے خارج
ان سے تجھے محبّت کیوں ہو گئی ہے ارشد
تیرے قریب رہ کر نظریں نہ جو ملائیں
----------یا
رہ کر قریب پھر بھی نظریں نہ جو ملائیں
-----------
میرے خیال میں کیوں کی جگہ کیسے کا محل ہے یہاں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 28، 2023 8:14 صبح
ان سے تجھے محبّت کیوں ہو گئی ہے ارشد
تیرے قریب رہ کر نظریں نہ جو ملائیں
ارؔشد تمھیں محبت کیوں ان سے ہو گئی جو
رہتے ہیں دل میں ہر دم اور سامنے نہ آئیں
الف عین — اکتوبر 29، 2023 3:34 صبح
شاید میں اور شکیل ساتھ ساتھ ہی لکھ رہے تھے!
عظیم — اکتوبر 30، 2023 8:51 صبح
کوئی اور یہاں آیا ہی نہیں اب تک؟ میں نے بھی اصلاح سخن میں آنا کم کم کر دیا ہے، کہ @عظیم @شکیل احمد خان23 @یاسر شاہ اچھی طرح دیکھ رہے تھے اسے، میں بھی بس آ کر متفق کا ٹن دبا جاتا تھا یا کوئی بات جو دوسروں نے چھوڑ دی ہو، اس کی نشاندہی کر دوں۔ بہر حال
السلام علیکم، گھر میں کچھ کام ہو رہا ہے بابا اس لیے میں بہت زیادہ مصروف ہوں، ان شاء اللہ کچھ دنوں میں فرصت نصیب ہو گی تو جتنا دیکھ سکا ان شاء اللہ دیکھ لیا کروں گا، فی الحال کے لیے معذرت قبول فرمائیں
شکیل احمد خان23 — اکتوبر 31، 2023 6:00 صبح
ایک ممکنہ صورت:
۔۔۔۔۔۔غزل
اب تک ہیں یاد ہم کو اُن کی سبھی وفائیں
بے لوث چاہتیں وہ ہم کس طرح بھلائیں
ہے یاد اِک اُنھی کی دل میں سدا ہمارے
جی چاہتا ہے۔۔ اُن کو پہلو میں لابٹھائیں
کرکے ملول ہم کو ۔۔۔وہ دور جابسے ہیں
ہو وقت مہرباں تو ہم اُن کے پاس جائیں
گھل گھل کے ہجر میں اب دیدیں نہ جاں کہیں ہم
چہرے سے غم عیاں ہے کیسے اِسے چھپائیں
چاروں طرف سے گھر کوایسے کیا ہے روشن
ممکن نہیں اب اِس کا نقشہ وہ بھول جائیں
اک بار ہم نے جس کو اپنا سمجھ لیا ہے
اُس کو ہمیشہ اپنی آنکھوں پہ ہم بٹھائیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%DA%A9-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%DB%81%D9%85-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%88%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.120053/