عباد اللہ — جولائی 19، 2016 9:37 شام
پروردۂ مجبوری ہستی سے گزر جائیں؟؟
اب جی میں ہے کچھ ایسا ، خود ہی سے مکر جائیں
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
مانند خس و خاشاک راہوں میں بکھر جائیں
ہے جاں کا وبال اب کے آوازۂ مہجوری
جز صبر نہیں چارہ جائیں تو کدھر جائیں
مقدور جو ہو کر لیں یہ کوشش لاحاصل
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
کچھ اپنی طبیعت بھی وارفتۂ عزلت ہے
کچھ جگ میں ہے ہنگامہ سو کوچ ہی کر جائیں
عباد اللہ
ان کہی — جولائی 19، 2016 10:23 شام
بہت خوب..............!!
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 4:50 صبح
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 5:04 صبح
-
محمدابوعبداللہ — جولائی 20، 2016 6:53 صبح
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔
اتنے ہو شکستہ خاطر فانی دنیا سے
پھر لکھ دو وصیت ایسی کہ لوگ ہی ڈر جائیں
لاریب مرزا — جولائی 20، 2016 6:57 صبح
خوب کاوش ہے۔
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 7:04 صبح
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 7:06 صبح
ذرہ نوازی آپ کی
اتنے ہو شکستہ خاطر فانی دنیا سے
پھر لکھ دو وصیت ایسی کہ لوگ ہی ڈر جائیں
عمدہ شعر کہا آپ نے قبلہ
محمدابوعبداللہ — جولائی 20، 2016 7:13 صبح
ایک تو ہو شعر پھر ہو عمدہ اور پھر ہو بھی ہمارا۔
۔
۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
محمدابوعبداللہ — جولائی 20، 2016 7:13 صبح
ایک تو ہو شعر پھر ہو عمدہ اور پھر ہو بھی ہمارا۔
۔
۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 7:22 صبح
ایک تو ہو شعر پھر ہو عمدہ اور پھر ہو بھی ہمارا۔
۔
۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کچھ سنائیں سر
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 8:37 صبح
ٹیگ نامہ
نور وجدان — جولائی 20، 2016 10:34 صبح
قنوطیت اپنی انتہا پر ہے ،تراکیب کا ستعمال بہت لطف دے گیا ہے۔۔ خیال میں کافی ندرت ہے ۔ میری جانب سے داد قبول کیجے ۔ پسند آیا کلام آپ کا
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 11:11 صبح
قنوطیت اپنی انتہا پر ہے ،تراکیب کا ستعمال بہت لطف دے گیا ہے۔۔ خیال میں کافی ندرت ہے ۔ میری جانب سے داد قبول کیجے ۔ پسند آیا کلام آپ کا
شکریہ استانی صاحبہ لیکن اپنی تکبندیاں اصلاحِ سخن میں پوسٹ کرنے کا مقصد داد سمیٹنا کبھی نہیں رہا نقد و نظر سے نوازیں
محمدابوعبداللہ — جولائی 20، 2016 11:14 صبح
سنا تو دیا ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وصیت لکھو اپنی

محمد تابش صدیقی — جولائی 20، 2016 11:18 صبح
بہت خوب عباد بھائی، ما شاء اللہ کافی پختگی ہے آپ کے کلام میں
ایک چیز محسوس ہوئی ہو سکتا ہے درست ہو کہ
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
یہاں رِ کے بجائے رے پڑھا جا رہا ہے۔ یعنی 1 کے بجائے 2 باندھا ہے۔
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 11:33 صبح
بہت خوب عباد بھائی، ما شاء اللہ کافی پختگی ہے آپ کے کلام میں
بہت شکریہ تابش بھائی
یہاں رِ کے بجائے رے پڑھا جا رہا ہے۔ یعنی 1 کے بجائے 2 باندھا ہے۔
ہمارے ناقص خیال میں ایسا کیا جا سکتا ہے اضافت کے ساتھ ر کا وزن رے ہو جاتا ہے لیکن بحر کی مجبوری کے باعث رِ بھی کیا جا سکتا ہے
یعنی 1 اور 2 دونوں طرح درست ہے
اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں
محمد ریحان قریشی — جولائی 20، 2016 11:42 صبح
اول تو سکوتِ ناشناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد تابش بھائی کے اعتراض پر میری رائے۔
عروضی اعتبار سے توعباد اللہ بھائی کا مصرعہ درست ہے لیکن چونکہ بحر دو ٹکڑوں میں ہے اس لیے جملے کا غلط جگہ ٹوٹنا مستحسن نہیں ہے۔
عباد اللہ — جولائی 20، 2016 11:49 صبح
اول تو سکوتِ ناشناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد تابش بھائی کے اعتراض پر میری رائے۔
عروضی اعتبار سے توعباد اللہ بھائی کا مصرعہ درست ہے لیکن چونکہ بحر دو ٹکڑوں میں ہے اس لیے جملے کا غلط جگہ ٹوٹنا مستحسن نہیں ہے۔
آجاؤ ذرا بہرے : مفعول مفاعیلن
،،،آسودگی خاطر : مفعول مفاعیلن
ریحان بھیا ہم نے اس مصرع کو ایسے کہا ہے عین ممکن ہے کہ ہماری قرات غلط ہو آپ رہنمائی فرمائیں
اور ناشناس کے ساتھ تحسین تھا شاید
La Alma — جولائی 20، 2016 12:01 شام
آجاؤ ذرا بہرِ آسودگیِ خاطر
دو پل کو سہی ابھریں پھر ڈوب کے مر جائیں
مصرع swap کر کے دیکھیں
مزید براں ، "مانند خس و خاشاک راہوں میں بکھر جائیں " ، اس میں خاشاک کی "ک " بحر میں نہیں آ رہی .