اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

امجد میانداد — ستمبر 19، 2014 10:11 شام
السلام علیکم،
اپنے خیالات و جذبات پیش کر رہا ہوں اگرچہ کوئی دس بارہ سال پہلے کی نظم ہے پر اب تک پختگی نہیں آ سکی تحریر میں دعاکرتا ہوں کہ آپ سب دوستوں کو پسند آئے، نیز اصلاح بھی ممکن ہو۔
اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

اپنی شکست کے اسباب نہیں دیکھوں گا
اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا
خواب تو سارے فریب ہیں بھول ہیں
دلِ ویراں میں اُڑتی دھول ہیں
خواب تو شکستگئِ دل کے آثار ہیں
ادھوری خواہشوں کے بازار ہیں
خواب تو بس چند لمحے جھوٹ کے
اور پھر آنکھ کُھل جاتی ہے
نہ جانے بنی بنائی منزل کیوں
پَل بھر میں گُھل جاتی ہے
ایسا میں عذاب نہیں دیکھوں گا
اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

امجد میانداد​
الف عین — ستمبر 20، 2014 2:22 صبح
خیالات تو خوب ہیں۔ اب اگر اس عرصے میں عروض کی شد بد آ گئی ہو تو ذرا دیکھ لو خود ہی۔ بعد میں میں دیکھتا ہوں۔
امجد میانداد — ستمبر 20، 2014 5:56 شام
خیالات تو خوب ہیں۔ اب اگر اس عرصے میں عروض کی شد بد آ گئی ہو تو ذرا دیکھ لو خود ہی۔ بعد میں میں دیکھتا ہوں۔
استادِ محترم شدبد آنے کے بعد تو "آپ کی شاعری پابندِ بحور" کے زمرےکے تحت شائع ہوتی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%DA%AF%D8%A7.77678/