ابتدائے شوق ہے اور انتہائے آرزو

ادب دوست — مارچ 28، 2015 11:32 شام
اساتذاء سے رحم کی درخواست کے ساتھ اصلاح اور تبصرے کی درخواست بھی ہے
حالِ دل اُن سے کہیں گے پر یہ ضد کہ روبرو
ابتدائے شوق ہے اور انتہائے آرزو
دل گرفتہ جاں بہ لب عشّاق دیکھے کو بہ کو
نقش اپنا ہی نظر آتا ہے مجھ کو چار سو
فرق جو ظاہر کا ہے وہ تو نظر کا ہے فریب
ورنہ سب کے درد کی تصویر تو ہے ہوبہو
ہے یہ آرائش سماعت کیلئے آواز ِ دوست
کان کی لو تک جو شب بھر آنکھ سے ٹپکا لہو
ابتدائے آفرینش کے لیے بے تاب ہے
گوہر ِ آبِ فلک، دریا بہ دریا جو بہ جو
کیا عجب کہ ڈھونڈتا ہے مسکنِ اول مکیں
جب تمنّا سے جدا ہے یہ جہانِ رنگ و بو
فاروق احمد بھٹی — مارچ 29، 2015 4:13 صبح
دل گرفتہ جاں بہ لب عشّاق دیکھے کو بہ کو
نقش اپنا ہی نظر آتا ہے مجھ کو چار سو
کیا کہنے جناب اچھی لگی مجھے آپ کی غزل
غزل کی بحر رمل مثمن محذوف فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہے
حالِ دل اُن سے کہیں گے پر یہ ضد کہ روبرو
کیا عجب کہ ڈھونڈتا ہے مسکنِ اول مکیں
کہ کو دوحرفی باندھا آپ نے جو مستحسن نہیں سمجھا جاتا
نوٹ:
میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کی آرا کا انتظار کیا جائے
:sneaky::sneaky::sneaky:
الف عین — مارچ 29، 2015 4:48 صبح
ماشاء اللہ بڑی استادانہ غزل کہنے کی کوشش کی ہے۔ فاروق بھٹی کی رائے سے متفق ہوں، خاص کر مطلع میں ہی سقم پایا جانا ناگوار گزرتا ہے۔مقطع میں بھی یہی سقم موجود ہے۔
دوسرا مصرع جتنا رواں اور بے پناہ ہے، اس تک پوری غزل کا کوئی مصرع نہیں پہنچتا۔
دل گرفتہ جاں بہ لب عشّاق دیکھے کو بہ کو
نقش اپنا ہی نظر آتا ہے مجھ کو چار سو
کو بہ کو ڈھونڈھا جاتا ہے، نظر آتا ہے لیکن دیکھا نہیں جاتا عموماً۔ اپنا نقش؟ یا اپنا عکس؟
فرق جو ظاہر کا ہے وہ تو نظر کا ہے فریب
ورنہ سب کے درد کی تصویر تو ہے ہوبہو
’تو‘ کو بھی میں ’کہ‘ کی طرح مانتا ہوں کہ اس کو دو حرفی کھینچا جانا شعر کی چستی کو مجروح کرتا ہے۔
شعر کا مفہوم بھی واضح نہیں، اور یہی بات اس میں بھی ہے
ہے یہ آرائش سماعت کیلئے آواز ِ دوست
کان کی لو تک جو شب بھر آنکھ سے ٹپکا لہو
کیا لیٹنے کی حالت میں یہ ممکن ہے کہ آنکھ سے کان کی لو تک لہو ٹپکے؟؟
ادب دوست — مارچ 29، 2015 10:08 صبح
ماشاء اللہ بڑی استادانہ غزل کہنے کی کوشش کی ہے۔
بہت نوازش استاد ،
فاروق بھٹی کی رائے سے متفق ہوں، خاص کر مطلع میں ہی سقم پایا جانا ناگوار گزرتا ہے۔مقطع میں بھی یہی سقم موجود ہے۔
استادِ محترم اگر اصلاح مل جاتی کہ کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے
دوسرا مصرع جتنا رواں اور بے پناہ ہے، اس تک پوری غزل کا کوئی مصرع نہیں پہنچتا۔
ا بہت شکریہ ،
کو بہ کو ڈھونڈھا جاتا ہے، نظر آتا ہے لیکن دیکھا نہیں جاتا عموماً۔ اپنا نقش؟ یا اپنا عکس؟
عکس کا لفظ میرے زہن میں نہیں آیا ورنہ یہی لکھتا ، خیر اب یہی کر لیتا ہوں ، نوازش
کو بہ کو دیکھنا خلافِ محاورہ ہے ؟ میر علم میں نہیں تھا اب خیال راکھوں گا
’تو‘ کو بھی میں ’کہ‘ کی طرح مانتا ہوں کہ اس کو دو حرفی کھینچا جانا شعر کی چستی کو مجروح کرتا ہے۔
درست ،
یہی بات اس میں بھی ہے
ہے یہ آرائش سماعت کیلئے آواز ِ دوست
کان کی لو تک جو شب بھر آنکھ سے ٹپکا لہو
کیا لیٹنے کی حالت میں یہ ممکن ہے کہ آنکھ سے کان کی لو تک لہو ٹپکے؟؟
جی استادِ محترم یہی بات ہے- میں نے کبھی یہ پڑھا نہیں ہے مگر چونکہ بیانِ حقیقت ہے اس لیے صاف صاف الفاظ میں باندھنے کی کوشش کی ہے -
فرق جو ظاہر کا ہے وہ تو نظر کا ہے فریب
ورنہ سب کے درد کی تصویر تو ہے ہوبہو
اس شعر میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ، چونکہ ہر انسان کی فطرت ایک ہی ہے لہٰذا ہر انسان کے درد کی اصل ایک ہے مگر ظاہر میں اختلاف ہے ،
پتہ نہیں کہاں تک کامیاب ہو سکا کہاں تک نہیں مگر اپنے تئیں کوشش کی ہے
الف عین — مارچ 29، 2015 6:52 شام
حالِ دل اُن سے کہیں گے پر یہ ضد کہ روبرو
۔کو
ضد ہے اپنی، حالَ دل ان سے کہیں گے رو برو
ہو سکتا ہے۔
مزید بہتر صورتیں بھی ممکن ہیں، لیکن خود ہی کوشش کریں تو بہتر ہے۔
مقطع یں
کیا عجب کہ ڈھونڈتا ہے
کو
کیا عجب، وہ ڈھونڈتا ہے
یا
کیا عجب جو ڈھونڈتا ہے
ادب دوست — مارچ 29، 2015 7:01 شام
کہ کو دوحرفی باندھا آپ نے جو مستحسن نہیں سمجھا جاتا
نوٹ:
میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کی آرا کا انتظار کیا جائے
کیوں نہ سنجیدگی سے لیں صاحب ؟ آخر آپ پکے دوست ہیں آپ ہی غلطی سے آگاہ نہیں کریں گے تو کیا ہم اورں میں رسوا ہونگے ؟:):):):):)
ادب دوست — مارچ 29، 2015 7:20 شام
حالِ دل اُن سے کہیں گے پر یہ ضد کہ روبرو
۔کو
ضد ہے اپنی، حالَ دل ان سے کہیں گے رو برو
ہو سکتا ہے۔
مزید بہتر صورتیں بھی ممکن ہیں، لیکن خود ہی کوشش کریں تو بہتر ہے۔
مقطع یں
کیا عجب کہ ڈھونڈتا ہے
کو
کیا عجب، وہ ڈھونڈتا ہے
یا
کیا عجب جو ڈھونڈتا ہے
بہت شکریہ ، انشاءاللہ تبدیلی کے بعد دوبارہ زحمت دونگا -
کیا لیٹنے کی حالت میں یہ ممکن ہے کہ آنکھ سے کان کی لو تک لہو ٹپکے؟؟
استاد گرامی ، ممکن ہے ، شائد چہرے کی بناوٹ سے کوئی فرق پڑتا ہو-
احسان اللہ سعید — مارچ 29، 2015 7:45 شام
فرق جو ظاہر کا ہے وہ تو نظر کا ہے فریب
ورنہ سب کے درد کی تصویر تو ہے ہوبہو
:clap:
مزید کچھ کہنے سے قاصرہوں، کیونکہ ذوق ہی اتنا ہے۔
اورشاعری کےقواعد وضوابط توچھوکےبھی نہیں گزرے!
ادب دوست — مارچ 30، 2015 9:33 صبح
مزید کچھ کہنے سے قاصرہوں، کیونکہ ذوق ہی اتنا ہے۔
اورشاعری کےقواعد وضوابط توچھوکےبھی نہیں گزرے!
بہت شکریہ احسان اللہ سعید بھائی
محمداحمد — مارچ 30، 2015 10:21 صبح
اچھی غزل ہے ادب دوست صاحب۔۔۔!
فاروق احمد بھٹی — مارچ 30، 2015 10:30 صبح
کیوں نہ سنجیدگی سے لیں صاحب ؟ آخر آپ پکے دوست ہیں آپ ہی غلطی سے آگاہ نہیں کریں گے تو کیا ہم اورں میں رسوا ہونگے ؟:):):):)
بہت بہت شکریہ محترم سیکھنے کے لئے آئے ہیں محفل میں اور اصلاح سخن کا زمرہ ہی ہمارا پسندیدہ ہے اس لئے کچھ اپنا پیش کرتے ہیں کچھ دوسروں کا دیکھ لیتے ہیں جو بات سمجھ میں آئے بیان بھی کر دیتے ہیں
ادب دوست — مارچ 30، 2015 12:58 شام
شکریہ محمد احمد بھائی،
ادب دوست — مارچ 30، 2015 1:03 شام
بہت بہت شکریہ محترم سیکھنے کے لئے آئے ہیں محفل میں اور اصلاح سخن کا زمرہ ہی ہمارا پسندیدہ ہے اس لئے کچھ اپنا پیش کرتے ہیں کچھ دوسروں کا دیکھ لیتے ہیں جو بات سمجھ میں آئے بیان بھی کر دیتے ہیں

ہمارا بھی یہی حال ہے- درحقیقت اصلاح سخن میں بہت کچھ سیکھایا جا تا ہے - ایک ایک شعر پر اساتذہ کے تبصرے اور تنقید سے بہت نفع ہوتا ہے
فاروق احمد بھٹی — مارچ 30، 2015 1:16 شام
بہت کچھ سیکھایا جا تا ہے -
مطلب آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بہت کچھ چلا بھی جاتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B4%D9%88%D9%82-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88.81050/